بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ رابرٹ کیگن (Robert Kagan)، امریکہ کے بااثر ترین نو-قدامت پرست شخصیات (Neo-conservatives) میں سے ایک ہیں، جنہوں نے ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی تزویراتی شکست اور ایران کی فتح کے بارے میں، دی اٹلانٹک (The Atlantic) میں ایک مضمون لکھا ہے جس کے اہم نکات پیش خدمت ہیں:
حصۂ چہارم:
- جب ایرانی آبنائے کے "دوبارہ کھلنے" کی بات کرتے ہیں، تو ان کا مطلب آبنائے پر کنٹرول اپنے ہاتھوں میں رکھنا ہوتا ہے۔ [وہ آبنائے ہرمز کو ایران کا حصہ سمجھ کر بات کرتے ہیں] اب
- ایران نہ صرف محاصل وصول کرسکے گا، بلکہ
- ایران ان ممالک تک آمدورفت کو محدود کر سکے گا جن کے ساتھ اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔
- اگر کوئی ملک ایسا سلوک کرے جو ایران کے حکمرانوں کو پسند نہ ہو، تو وہ صرف اس ملک کے مال بردار جہازوں کے آبنائے سے گذرنے کے عمل کو سست کرکے یا اس عمل کی دھمکی دے کر، اسے سزا دے سکتے ہیں۔
- آبنائے کے ذریعے جہازوں کے بہاؤ کو بند کرنے یا کنٹرول کرنے کی طاقت، ایران کے جوہری پروگرام کی ممنکہ طاقت سے زیادہ بڑی اور فوری اور مؤثر طاقت ہے۔ [جوہری پروگرام کی طاقت ممکنہ ہے جبکہ آبنائے ہرمز فوری اور مؤثر اور موجود، صلاحیت ہے]۔
- دباؤ کا یہ ذریعہ تہران کے رہنماؤں کو یہ امکان فراہم کرتا ہے کہ دنیا کے ممالک کو پابندیوں میں نرمی کرنے، یا انہیں ختم کرنے اور تعلقات معمول پر لانے پر مجبور کریں، ورنہ،
- اگر وہ ایسا نہ کرے تو انہیں تہران کی طرف سے سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
- اسرائیل خود کو پہلے سے زیادہ الگ تھلگ پائے گا، کیونکہ ایران دولت مند بن رہا ہے، دوبارہ اسلحہ جمع کر رہا ہے اور مستقبل میں جوہری بننے کے اپنے اختیارات کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہاں تک کہ
- اسرائیل خود کو ایران کے اتحادیوں کا تعاقب کرنے سے قاصر بھی پا سکتا ہے: ایسی دنیا میں جہاں بہت سے ممالک کو توانائی کی فراہمی پر، ایران کی گرفت ہے، چنانچہ دنیا ایران کی مدد کو آ سکتی ہے اور
- اسرائیل کو زبردست بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاکہ وہ لبنان، غزہ یا کسی اور جگہ ایران کو مشتعل نہ کرے۔
- آبنائے میں موجودہ نئی صورت حال خطے اور عالمی سطح پر طاقت اور اثر و رسوخ کے توازن میں نمایاں تبدیلی کا سبب بھی بنے گی / اور بنی ہے۔
- امریکہ نے ثابت کرکے دکھایا ہے کہ وہ اس خطے میں محض ایک کاغذی شیر ہے، [امریکہ نے نے خطے کے عرب ممالک سے ٹریلینز ڈالر بھتہ لے کر انہیں بظاہر تحفظ فروخت کیا تھا لیکن اس نے ان ممالک کی سلامتی کو تباہی سے دوچار کیا ایران کے ہاتھوں اور اب]
- ٹرمپ نے خلیج فارس کے ممالک اور دیگر عرب ممالک کو ایران کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جیسا کہ ایرانی امور کے محققین ریول گریچٹ (Reuel Gerecht) اور رے تکیہ (Ray Takeyh) نے حال ہی میں لکھا:
"خلیج فارس کی عرب معیشتیں امریکی تسلط کی چھتری کے سائے میں تعمیر ہوئی ہیں۔ اس چھتری کو ہٹا دو (اور اس کے ساتھ بحری تجارت کی آزادی کو بھی) تو خلیج فارس کے یہ عرب ممالک ناگزیر طور پر تہران کے در پر بھیک مانگنے جائیں گے۔" البتہ،
- صرف خلیج فارس کے عرب ممالک ہی نہیں ہوں گے جو تہران کے دروازے پر جھولی لے کر بھیک مانگنے جائیں گے بلکہ
- وہ تمام ممالک جو خلیج فارس کی توانائی پر انحصار کرتے ہیں، انہیں ایران کے ساتھ اپنے معاملات طے کرنا پڑیں گے۔
- خلیج فارس کے عرب ممالک اور خلیج فارس کی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے پاس اس کے سوا اور کوئی انتخاب نہیں ہے؛
- اگر امریکہ اپنی طاقتور بحریہ کی طاقت سے آبنائے نہیں کھول سکتا یا نہیں کھولنا چاہتا، تو دوسرے ممالک کی افواج کا کوئی اتحاد جس کے پاس امریکی صلاحیت کا صرف تھوڑا سا حصہ ہوگا، ہرگز ہرگز ایسا کرنے کے صلاحیت نہیں رکھتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: علی رضا دائی چین
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ