بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سی این این ایک رپورٹ میں کہتا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی کا تجربہ کرنے کے بعد، اب اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے ایک نئے داؤ کا استعمال کرنے کی تلاش میں ہے۔ زیرِ آب انٹرنیٹ کیبلیں جو یورپ، ایشیا اور خلیج فارس کے ممالک کے درمیان انٹرنیٹ اور مالیاتی رابطوں کی ایک بڑی مقدار منتقل کرتی ہیں۔ یہ میڈیا لکھتا ہے کہ ایران عالمی معیشت پر اتنی بھاری قیمت عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ پھر کسی میں ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی جرأت نہ رہے۔
اس رپورٹ میں درج ہے:
ایرانی حکام اور ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ گوگل، مائیکروسافٹ، میٹا اور ایمیزون جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایرانی حدود میں اس خطے سے ان تاروں کے گذرنے کے لئے ادائیگی کرنا ہوگی اور ایران کے قوانین کی پیروی کرنا ہوگی۔ / سی این کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی چین سے واپسی کے بعد جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے خدشات میں اضافے کے ساتھ ساتھ، ایران تیزی سے یہ پیغام بھیج رہا ہے کہ اس کے پاس فوجی صلاحیت کے ساتھ ساتھ دیگر طاقتور اوزار بھی ہیں۔
کچھ ایرانی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر کمپنیوں نے تعاون نہ کیا تو ان کیبلز پر ڈیٹا اور مواصلات کی گذرگاہ میں خلل پڑ سکتا ہے۔ سی این این نیٹ ورک نے ایران کی رپورٹ میں مذکورہ کمپنیوں سے وضاحت حاصل کرنے کے لئے رابطہ کیا ہے۔
ٹیلی جیوگرافی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مالڈن (Alan Mauldin) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گذرنے والی تاروں میں سے دو اہم تاریں، یعنی "فالکن" اور "گلف بریج انٹرنیشنل"، ایران کے علاقائی پانیوں سے گذرتی ہیں۔
آبنائے ہرمز سے گذرنے والی تاروں میں پڑنے والے خلل کے پہلو
متحدہ عرب امارات میں قائم ہبتور ریسرچ سینٹر کے سینئر ریسرچر مصطفیٰ احمد، ـ جنہوں نے خلیج فارس میں زیرِ آب مواصلاتی انفراسٹرکچر پر بڑے پیمانے پر حملے کے نتائج کے بارے میں ایک مضمون شائع کیا ہے، ـ نے کہا ہے کہ خلیج فارس کے پار ایران کے پڑوسیوں کو انٹرنیٹ کنکشن میں شدید خلل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایسا خلل جو خام تیل اور گیس کی اہم برآمدات کے ساتھ ساتھ بینکاری نظام کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ خطے سے باہر، ہندوستان کو بھی انٹرنیٹ ٹریفک کے ایک بڑے حصے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ معاملہ اس ملک کی عظیم آؤٹ سورسنگ انڈسٹری کو کئی ارب ڈالر کے نقصان سے دوچار کر سکتا ہے۔
نکتہ:
آبنائے ہرمز وہی اسٹراٹیجک مقام ہے جو ابتدائے تاریخ سے ایران کے پاس تھا لیکن اس سے فائدہ نہیں اٹھا رہا تھا اور دنیا کو اجازت دے رہا تھا کہ اس سے اپنی ضروریات ـ مفت میں ـ پوری کرتے رہیں، یہاں تک کہ دنیا کو اپنی سلطنت سمجھنے والوں نے جارحیت کے ذریعے اس ملک کو بھی اپنی سلطنت میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ آج کسی ملک کے پاس بھی ایسا کوئی جواز نہیں ہے کہ ایران کو اپنی سرزمین سے استفادہ نہ کرنے کا مشورہ تک دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ