بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسرائیلی نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، اماراتی، نیتن یاہو کے دفتر کے دورہ ابوظہبی کو میڈیا پر لانے پر شدید ناراض ہیں۔ / اماراتیوں نے کہا ہے: ہم اس سے پہلے بھی نیتن یاہو کے دورہ ابوظہبی کو ملتوی کرتے رہے ہیں کیونکہ و رازداری کو اہمیت نہیں دیتے۔ (1)
صہیونی ریاست کے نیٹ ورک i24NEWS نے رپورٹ دی کہ جب نیتن یاہو کا دفتر مارچ میں اپنے دورہ ابوظہبی کو میڈیا میں لایا تو امارات نے اسرائیل کو شدید احتجاجی پیغام بھیجا۔ (2)
اس نیٹ ورک نے مزید کہا کہ اماراتی بہت ناراض ہیں اور یہ پہلی بار نہیں ہے کہ نیتن یاہو کے دفتر نے اس طرح کے اماراتی راز کھول دیئے ہین۔ (3)
صہیونی چینل i24 نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے واضح کیا کہ امارات پچھلے سالوں میں بھی نیتن یاہو کے دفتر کی طرف سے رازوں کے افشا کی بنا پر، نیتن یاہو کو ابو ظہبی آنے کی دعوت دینے سے اجتناب کیا جاتا رہا ہے۔
نیتن یاہو کے دورہ ابوظہبی اور اماراتی حکمران محمد بن زائد سے اس کی ملاقات کی رپورٹیں شائع ہونے کے باوجود، امارات کی وزارت خارجہ ایک بیان جاری کرکے اس واقعے سے مکر گئی۔ [گرتے ہوئے انسان کی نفسیات=راز فاش ہونے کے باوجود جھوٹ کا سہارا لینا اور انکار و تردید کو ممکنہ طور پر مؤثر سمجھنا]۔
اس کے بعد، نیتن یاہو کے سابق چیف آف اسٹاف زیو اگمون (Ziv Agmon) ـ جو خود بھی نیتن یاہو کے وفد میں شامل تھا ـ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ نیتن یاہو نے ابوظہبی کا دورہ کیا اور بن زائد نے نہیانی قبیلے کے زعماء اور چھوٹے بڑوں کے ساتھ مل کر اس کا "شاہانہ استقبال" کیا۔
اگمون نے کہا: محمد بن زائد ذاتی طور پر نیتن یاہو کے استقبال کے لئے آیا، یہاں تک اس نے نیتن یاہو کو اپنی ذاتی گاڑی میں بٹھایا اور ہوائی اڈے سے اپنے محل تک لے گیا۔

اسی حوالے سے اسرائیلی صحافی "آمیت سیگال (Amit Segal)" نے نیتن یاہو کے خفیہ دورہ امارات اور ایم بی زیڈ کے ساتھ بات چیت کے بارے میں لکھا: "ایک خفیہ پرواز امارات کے لئے انجام پائی، جبکہ اسرائیل کی فضائی حدود بالکل بند تھیں۔ کوشش ہوئی کہ معلومات بالکل خفیہ رہیں اور کسی کو کو کچھ پتہ نہ چلے۔"
سیگال نے مزید کہا کہ اس دورے کے ساتھ ہی، اسرائیل کے ساتھ، آئرن ڈوم سسٹم امارات بھیجنے کا معاہدہ ہؤا۔
سیگال نے یہ بھی لکھا کہ متحدہ عرب امارات کے حکمران محمد بن زاید آل نہیان (ایم بی زیڈ) نے اعلانیہ طور پر سابق اسرائیلی وزرائے اعظم ـ نفتالی بینت اور یائیر لاپید کی میزبانی کی ہے لیکن بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ تعلقات ہمیشہ بند دروازوں کے پیچھے رہے ہیں۔ (4)

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دھلی کے دوران برکس کے وزرائے خارجہ سے خطاب کے دوران کہا: "کل ہی یہ انکشاف ہؤا ہے کہ نیتن یاہو نے جنگ کے وقت امارات اور ابوظہبی کا دورہ کیا تھا اور یہ راز بھی کھل گیا کہ اماراتیو ںے ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں میں شرکت کی تھی اور شاید حتیٰ کہ براہ راست ہمارے خلاف کارروائی بھی کی ہو، لہٰذا امارات اس جارحیت کا فعال شریک ہے؛ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے اور دستاویزات بھی موجود ہیں۔

ایم بی زیڈ صہیونی صدر اسحاق ہرزوگ کے ساتھ
نکات:
1۔ رازداری صرف اور صرف مسلمانوں سے ہے ورنہ دوسری طرف تو امارات کا کوئی راز، راز نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ان میں سے ہیں۔ ناراضگی بھی اس لئے نہیں ہے کہ امارات پر مسلط خاندان [آل نہیان] یہودی ریاست کا غلام بننے سے پشیمان ہے؛ ناراضگی اس لئے کہ یا راز کھلا کیوں؟: "اے ایمان لانے والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ، یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جس نے تم میں سے ان سے دوستی کی تو وہ ان ہی میں سے ہے۔" (مائدہ-51)
2۔ لیکن راز کھل گیا تھا چنانچہ اب اماراتی جھوٹ بولنے کا اعتراف کر رہے ہیں اور حقیقت کو نہاں رکھنے کا بھی؛ اور اس حقیقت کا بھی کہ یہ ریاست نہ عرب ہے اور نہ متحدہ، اور نہ ہی اسلام اور قرآن اور امت مسلمہ کی عزت و عظمت سے اس کا کوئی تعلق ہے؛ وہ تو بس یہود و نصاریٰ کو خوش رکھنا چاہتے ہیں، اور قرآن کریم کی گواہی کے مطابق یہ کام ان کا دین و عقیدہ قبول کرنے کے سوا ممکن نہیں ہے؛ ارشاد ہوتا ہے: "اور یہودی اور عیسائی تم سے اس وقت تک کبھی خوش نہیں ہونگے جب تک تم ان کے مذہب کے پیرو نہ بن جاؤ۔" (بقرہ-120)
3۔ صہیونیوں کے ساتھ دوستی کرنا شیطان کے ساتھ دوستی کے مترادف ہے، جس طرح شیطان کا دشمن ہے یہ بھی انسان کے دشمن ہیں اور اپنے دوستوں کو بے آبرو کر دیتے ہیں۔ صہیونی اگر عالم اسلام میں کسی ملک کو ورغلا کر اپنے ساتھ ملائیں اور پھر اس رابطے کو چھپا دیں تو ان کا مقصد حاصل نہیں ہوگا چنانچہ تو راز کھولنا چاہیں گے، کیونکہ وہ تو تشہیر کر رہے ہیں کہ ان کا ایک عرب اور مسلم ملک میں آنا جانا رہتا ہے تاکہ ایک طرف سے مسلمانوں کے درمیان انتشار و افتراق پھیلے اور دوسری طرف سے جو اعتقادی اور سیاسی سستیوں اور کاہلیوں اور غفلتوں سے دوچار ہیں، وہ بھی صہیونیوں کے ساتھ تعلق بنانے پر آمادہ ہوجائیں چنانچہ ان سے رازداری کی توقع رکھنا، ان کے ساتھ تعلق بنانے جتنی بڑی حماقت ہے۔
4۔ واضح رہے کہ صہیونی خفیہ ایجنسی کا سرغنہ اور فوج کا سرغنہ بھی ایران جنگ کے دوران ابو ظہبی کے دورے پر آتے رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ