10 مئی 2026 - 15:04
ناکہ بندی غیر مؤڈر ہے اور امریکی بحری اثاثوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، دی اٹلانٹک

دی اٹلانٹک میگزین  نے لکھا ہے کہ ایران کے ساحلوں کے قریب امریکی اربوں ڈالر کے بحری جہازوں کی موجودگی انہیں تیز رفتار کشتیوں، ڈرونز اور بحری بارودی سرنگوں کے سنگین خطرے سے دوچار کر دیتی ہے۔ یہ غیر متناسب اور کم لاگت کے خطرات ہیں جو امریکہ کے جدید ترین آلات کو مفلوج کر سکتے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ دی اٹلانٹک میگزین نے ایک رپورٹ میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نتائج کا جائزہ لیا ہے اور لکھا ہے کہ امریکہ 'آبنائے ہرمز کے جال' میں پھنس کر رہ گیا ہے اور اس فرسودہ کردینے والی جنگ میں پہل ایرانی فریق کے اختیار میں ہے۔

اٹلانٹک نے ایک رپورٹ میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نتائج کا جائزہ لیا ہے اور لکھا ہے کہ اس امریکی اقدام کے خطرات بہت زیادہ اور فوائد بہت کم ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کا مکمل کنٹرول ایران کے پاس ہے:

1۔ بے کار امریکی حکمت عملی

امریکی حکومت آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نفاذ میں تضاد کا شکار ہو گئی ہے۔ جہاں ایران آبنائے کے انتظام اور محاصل وصول کر کے اپنا تیل فروخت کرنے کے راستے محفوظ رکھے ہوئے ہے اور اپنے پانیوں میں بحری جہازوں کی جانچ پڑتال کرکے اپنی حکمرانی کو نافذ کر رہا ہے، اور دنیا کے ممالک نے اس ایرانی پالیسی کو کافی حد تک جائز مان لیا ہے، وہاں امریکی منصوبہ عملی طور پر ناقابلِ عمل ہو گیا ہے۔

امریکی بحری بیڑے کی ہلاکت خیز زد پذیری (Deadly Vulnerability)

ایران کے ساحلوں کے قریب امریکی اربوں ڈالر کے بحری جہازوں کی موجودگی انہیں تیز رفتار کشتیوں، ڈرونز اور بحری بارودی سرنگوں کے سنگین خطرے سے دوچار کر دیتی ہے۔ یہ غیر متناسب اور کم لاگت کے خطرات ہیں جو امریکہ کے جدید ترین آلات کو مفلوج کر سکتے ہیں۔

امریکی افواج کو براہ راست خطرہ

بحری جہازوں کی جانچ پڑتال یا بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کی کوششیں امریکی افواج کو آسان نشانہ بنا دیتی ہیں۔ یہ افواج یا تو تیز رفتار کشتیوں کے گھات میں پھنس جاتی ہیں یا دفاعی میزائلوں کا نشانہ بن جاتی ہیں۔

تدبیر اور پہل ایران کے ہاتھ میں ہے

ایران متبادل راستوں اور چھوٹی کشتیوں کو بروئے کار لا کر، اور تیل فروخت کرکے پابندیوں کو بائی پاس کر رہا ہے اور اس نے ثابت کرکے دکھایا ہے کہ کہ یہ ملک اقتصادی دباؤ کے سامنے بہت زیادہ لچکدار ہے۔

تھکا دینے والی "فرسائشی جنگ" میں ایران کی برتری

امریکہ ایک غیر مقبول جنگ میں الجھ گیا ہے جس نے اس کی برداشت کو کم کر دیا ہے، جبکہ اس "فرسائشی جنگ" (War of Attrition) ایرانی فریق اسٹراٹیجک گہرائی اور عزمِ بقا پر بھروسہ کرتے ہوئے اس جنگ میں فریق مقابل پر برتری رکھتا ہے۔

خلاصہ

اس رپورٹ کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ 'آبنائے ہرمز کے جال' میں پھنس چکا ہے اور اس طویل، تھکا دینے والی اور فرسودہ کر دینے والی جنگ میں پہل ایران کے پاس ہے اور امریکی اقدامات غیر مفید اور امریکیوں کے لئے خطرناک ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha