بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ نہ صرف ایک برا فیصلہ ہے، بلکہ اسے امریکی سلطنت کے زوال کے عمل میں ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ ہر سامراجی (Imperialist) نظام اسی وقت تک قائم رہتا ہے جب تک اس کے اوزار اس کے اہداف کو پورا کرنے کے لئے کافی ہوں۔ ایران جنگ نے ثابت کر دیا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس سلطنت کو خطرناک سطح تک زیادہ توسیع پسندی اور حرص و لالچ میں الجھا دیا ہے۔ اس کے انتخابی وعدوں کے برعکس ـ جو مشرق وسطیٰ سے پسپائی اور مغربی نصف کرہ (پر مبنی مونرو ڈاکٹرائن کے نئے ورژن) پر توجہ مرکوز کرنے سے عبارت تھے ـ ایران پر یلغار ایک لامتناہی اور غیر ضروری مہم جوئی تھی جو نہ صرف امریکہ کے اہم مفادات کو پورا نہیں کرتی، بلکہ اس ملک کی مسلح افواج کو فرسودہ کر رہی ہے۔
۔۔۔
اب امریکہ کے سامنے تین آپشنز ہیں:
1۔ جنگ سے دستبرداری اور اپنی فوجی زدپذیری اور کمزوری کو دنیا کے سامنے عیاں کرنا؛
2۔ ایران کا سامنا کرنے کے لئے مالی وسائل جمع کرنے کے لئے دیگر اہم میدانوں (یورپ اور مشرقی ایشیا) سے اپنے وسائل نکالنا؛ یا
3۔ ان انتہائی فوجی آپشنز کا سہارا لینا جن کی ٹرمپ نے اشارہ کیا ہے اور جو امریکہ کی ابدی شرمساری کا باعث بنیں گے۔
بہر صورت، ریاستہائے متحدہ اپنی شہرت، دوستوں یا اپنی روح کو کھو جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ بینجمن نیتن یاہو، ـ جس نے ٹرمپ کو اس جنگ کی تجویز دی تھی، ـ نے جیو-اسٹراٹیجک کرسیوں والے کھیل کی منطق استعمال کی: جب موسیقی رک جائے گی، امریکہ کے پاس اسرائیل کے تحفظ کے لئے روایتی طور پر نہ تو صلاحیت ہوگی اور نہ ہی روایتی خواہش۔ گویا ٹرمپ کا نیتن یاہو سے دھوکہ کھانا یا بلیک میل ہونا، اسرائیل کا آخری موقع سمجھا جاتا ہے۔
آج کے امریکہ اور ایک صدی قبل کے برطانیہ کے درمیان پریشان کن مماثلتیں پائی جاتی ہیں: صنعت کاری کا خاتمہ، حد سے زیادہ وابستگی، خود اطمینانی، اور حریف (چین آج پہلی عالمی جنگ سے پہلے کے جرمنی کی طرح) پر تکنیکی انحصار۔
اسی اثناء میں امریکہ کا قومی قرضہ 35 (یا 40) ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
ٹرمپ کے ووٹروں نے صحیح طور پر محسوس کر لیا ہے کہ امریکہ کی زیرِ قیادت عالمگیریت کا نظام اشرافیہ کے حق میں ہے، عوام کے حق میں نہیں۔
ٹرمپ نے تبدیلی کا وعدہ کیا، لیکن بالآخر وہی کلاسیکی غلطی کر بیٹھا جو زوال پذیر سلطنتیں کیا کرتی ہیں: اپنی طاقت سے باہر کی فوجی مہم جوئی۔
یوں، ایران کی جنگ نہ صرف تہران میں حکومت کا تختہ نہیں الٹ سکی، بلکہ اس کے حملہ آور امریکہ کے بتدریج خاتمے اور شکست و ریخت کے عمل کو تیز کر دیا۔
اب سوال یہ نہیں ہے کہ کیا امریکہ زوال پذیر ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس زوال کا انتظام کیسے کیا جائے!؟
دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے مشکلات کے باوجود نسبتاً کامیاب پسپائی کا انتظام کیا۔ ٹرمپ بھی ایسا ہی راستہ اختیار کر سکتے تھے: طاقت کی حدود کو قبول کرنا اور مغربی نصف کرہ پر مرتکز ہونا۔
لیکن ایران جنگ نے ثابت کر دیا کہ وہ بھی اپنے پیشروؤں کی طرح فیصلہ کن کارروائی کے وسوسے کے سامنے نہیں ٹھک سکا۔ نتیجہ، ایک زوال پذیر سلطنت بن کر رہ جانا ہے جو اب ظاہری طاقت کو برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی۔
تلخ تر طنز یہ ہے کہ ٹرمپ بالکل وہی چیز بن گیا جس سے اس کے ووٹر نفرت کرتے تھے: ایک ایسے اشرافیے کی مثال جو پسپائی کا وعدہ تو کرتا ہے لیکن عملاً سلطنت کو پہلے سے کہیں زیادہ دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ