اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمدباقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ کے خلاف اصل محاذ مالی جنگ ہے اور اس میدان میں اہم تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں۔
انہوں نے عرب ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات کی جانب سے امریکی بانڈز کی فروخت پر ممکنہ پابندیوں سے متعلق خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے مالیاتی نظام کے ذریعے سرمایہ کاروں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
قالیباف کے مطابق امریکی حکام نے کرنسی سواپ لائنز کو اس مقصد کے لیے فعال کیا ہے کہ امریکی اثاثوں کی غیر معمولی فروخت کو روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض ممالک اور ادارے اب اپنی سرمایہ کاری کو آزادانہ طور پر فروخت نہیں کر سکتے اور ان پر عملی طور پر پابندیاں عائد ہو رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی مالیاتی نظام میں ایک غیر اعلانیہ حد موجود ہے جس کے تحت سرکاری اور بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو اپنے بانڈز کی فروخت محدود رکھنی پڑتی ہے، اور اگر حالات مزید خراب ہوئے تو ان اثاثوں کی فروخت مکمل طور پر روکی بھی جا سکتی ہے۔
ایرانی اسپیکر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ بروقت فیصلے کریں کیونکہ اس مالیاتی کشمکش میں اصل محاذ امریکی بانڈز کی منافع کی شرح (ییلڈ کَرو) ہے، جو اس جنگ کا اہم مرکز بن چکی ہے۔
آپ کا تبصرہ