اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیل کی فوج نے جنگ بندی کے باوجود مقامی آبادی کو سرحدی علاقوں میں واپس نہ آنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے اہلکار اب بھی لبنان کے بعض علاقوں میں موجود ہیں اور انہوں نے اس موجودگی کو حزب اللہ کی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی قرار دیا ہے۔ فوج نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ دریائے لیطانی کے اطراف اور دیگر جنوبی علاقوں کا رخ نہ کریں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وادی سلوقی سمیت متعدد حساس مقامات کے قریب جانے سے بھی منع کیا گیا ہے، جبکہ بنت جبیل، میس الجبل، کفرکلا، الطیبہ اور الناقورہ جیسے علاقوں کے رہائشیوں کو واپسی سے گریز کی ہدایت دی گئی ہے۔
دوسری جانب میڈیا ذرائع نے جنوبی لبنان میں جاری حملوں کی بھی اطلاع دی ہے، جہاں سرحدی علاقوں، خصوصاً حولا میں توپ خانے سے گولہ باری کی گئی۔ اسی طرح الخیام میں رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے تباہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
مزید یہ کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے یحمر الشقیف کے علاقے کو نشانہ بنایا، جبکہ بنت جبیل میں بھی عمارتوں کی تباہی کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
یہ تمام پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں سیکیورٹی صورتحال غیر یقینی ہے اور کشیدگی میں کمی کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ