22 اپریل 2026 - 18:08
مآخذ: ابنا
ایران جنگ کے باعث امریکہ کے اہم اسلحہ ذخائر میں نمایاں کمی

سی این این کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران امریکہ کے اہم میزائل ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہ

 اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، سی این این کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران امریکہ کے اہم میزائل ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ تجزیہ مرکز برائے اسٹریٹجک و بین الاقوامی مطالعات اور پینٹاگون کی داخلی جائزہ رپورٹس پر مبنی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سات ہفتوں پر مشتمل اس جنگ میں امریکہ نے اپنے متعدد جدید ہتھیاروں کا بڑا حصہ استعمال کر لیا۔ اندازوں کے مطابق امریکہ نے تقریباً 45 فیصد درست نشانہ لگانے والے میزائل، کم از کم نصف تھاد میزائل نظام، تقریباً 50 فیصد پیٹریاٹ میزائل نظام، قریب 30 فیصد ٹاماہاک کروز میزائل اور 20 فیصد سے زائد دیگر طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملہ آور میزائل استعمال کیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پینٹاگون نے اسلحہ کی پیداوار بڑھانے کے لیے نئے معاہدے کیے ہیں، تاہم ان ذخائر کو مکمل بحال کرنے میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں امریکہ کے پاس کسی بڑے حریف، خاص طور پر چین، کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ذخائر نہیں رہے۔

ریٹائرڈ میرین کرنل مارک کنشیان نے خبردار کیا کہ اس بڑی مقدار میں اسلحہ کے استعمال نے مغربی بحرالکاہل میں امریکہ کے لیے ایک "کمزوری کی کھڑکی" پیدا کر دی ہے، جسے پُر کرنے میں ایک سے چار سال لگ سکتے ہیں۔

مزید برآں، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ڈین کین اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام نے جنگ سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ طویل فوجی مہم امریکہ کے اسلحہ ذخائر پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

امریکی سینیٹر مارک کیلی نے کہا کہ ایران کے پاس ڈرون اور میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، اور موجودہ صورتحال ایک "ریاضی کا مسئلہ" بن چکی ہے کہ امریکہ اپنے فضائی دفاعی ذخائر کو کس طرح دوبارہ بھرے گا۔ ان کے مطابق ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ امریکہ کو اسلحہ کی کوئی کمی نہیں، ان اعداد و شمار سے متصادم ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha