بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا
بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں ایک عالمی طاقت شاذ و نادر ہی ـ اپنی تمام تر فوجی، ابلاغیاتی، معاشی صلاحیتوں کو 40 روزہ جنگ کے دوران ـ نہ صرف اپنا کوئی ہدف حاصل نہ کرسکی ہے بلکہ ہر مرحلے میں ایک نئی شکست کے تجربے سے گذری ہے۔
یہ رپورٹ میدانی مستند اور میدانی حقائق کی بنیاد پر ایک زیادہ سے زیادہ ہمہ جہت پراجیکٹ کی شکست و زوال کے نمونے پیش کرتی ہے:
حصۂ اول: تزویرانی اور سیاسی اہداف کا زوال
1۔ ایران کے سیاسی نظام کی تبدیلی میں تزویراتی ناکامی
اسلامی جمہوریہ ایران عوامی مرضی سے جنم لینے والا نظآم ہے جو نہ صرف تبدیلی سے دوچار نہیں ہؤا بلکہ اس نے ـ قومی مزاحمت و استقامت اور قومی چوکسی اور ہوشیاری میں کئی گنا اضافہ ہونے کی برکت سے ـ اپنی ترقی، طاقت اور پیشرفت کا سلسلہ جاری رکھا اور ثابت کیا کہ ایران کی اندرونی شکست و ریخت کے امکان کے بارے ميں تمام تر جائزے اور تزویراتی اندازے غلط اور بے بنیاد تھے۔
2۔ ایران تین کے ذخائر پر قبضے کے منصوبے کی مکمل ناکامی
دشمن ایران کے ایک بیرل تیل پر قبضہ نہ کر سکا۔ تیل کی تمام تر تنصیبات "کنویں، ریفائنریاں اور بحری آئل ٹینکرز مکمل قومی حکمرانی کے تحت باقی ہیں۔
3۔ آبنائے ہرمز جبری طور پر کھولنے میں ناکامی
بنیادی اہمیت کی بین الاقوامی آبراہ کے طور پر آبنائے ہرمز پر آپریشنل حکمرانی بدستور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے۔ اس آبراہ سے اس دوران دشمن کی بحریہ یا حتی دوسرے جہاز اس ابراہ سے نہیں گذر سکے اور جو جہاز گذرے وہ ایرانی حکام سے ہم آہنگ ہو کر گذرے یا جو ہم آہنگ ہونگے گذریں گے۔
4۔ ایرانی تیل کی برآمدات صِفر تک پہنچانے میں شکست
ایران کے تیل پر پابندی کی امریکی تزویر ناکام ہو گئی، ایران کو روایتی گاہکوں کے بجائے مشرق اور مغرب میں نئے خریدار ملے اور تیل کی برآمدات کا سلسلہ جاری رہا۔
5۔ بغاوت کا منصوبہ اور اندرونی بے چینی پر لگی ہوئی شرطوں کی ناکامی
ملت ایران نے اپنے تاریخی تجربے کے سہارے، اندرونی بدامنی کی بنیاد پر امریکی-صہیونی منظرناموں کو ناکام بنایا۔ ملک کی کوئی جماعت، دھڑا، یا سیاسی کردار، دشمن کے منصوبے میں شامل نہیں ہؤآ۔
6۔ امریکی حکومت کی اندرونی حمایت کا خاتمہ
امریکہ کی رائے عامہ امریکی حکومت کے عسکری مہم جوئیوں کے حوالے سے بری طرح فرسودگی سے دوچار ہوئی۔ اعتدال پسند ریپبلکنز اور موجودہ انتظآمیہ کے روایتی حامی دھاروں نے دشمنی پر مبنی پالیسیوں کو مسترد کیا۔
7۔ یورپ اور نیٹو کو ساتھ ملانے میں ناکامی
نیٹو اور یورپی یونین کے دائرے میں امریکہ کے یورپی اتحادیوں نے ایران کے خلاف فوج اقدام کو مسترد کر دیا۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے کسی بھی فوجی کاروائی میں باقاعدہ عدم شمولیت کا اعلان کیا۔ یورپ میں امریکہ مخالف محاذ کو تقویت ملی۔
8۔ "بڑے سودے باز شخص" کا "التجا کرنے والا شخص" بن گیا
"بڑے بروکر" کی تزویراتی تصویر نے اپنی جگہ ایک ایسے کردار کو دیا جو باربار مذاکرات کی میز پر پلٹ آنے کی بھیک مانگتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ "زیادہ سے دباؤ" کی امریکی پالیسی عملی طور پر "گفتگو کے لئے زیادہ سے زیادہ درخواستوں" میں بدل گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ