بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ الجزیرہ چینل نے رپورٹ دی ہے کہ اس کے جائزے ایسی اطلاعات تک رسائی حاصل کر سکے ہیں جس سے معلوم ہؤا کہ ورچوئل اسپیس اور سوشل میڈیا پر اسرائیلی حکام اور بے شمار مشتبہ اکاؤنٹس کی ہم آہنگ کردہ مہم ایران میں بلوؤں پر اثرانداز ہوئی ہے اور "ایرانی عوام کو آزاد کرو" کو ہیش ٹیگ کو مقبول بنانے کی کوشش کی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق: یہ اقدامات ایک "انجنیئرڈ ورچوئل اسپیس" پر انجام پائے ہیں، جہاں متعلقہ عناصر ایک خودساختہ ایجنڈے کے ساتھ بیانیہ سازی، معانی اور تصورات کی تعریف اور عوام کی طرف سے بات کرنے کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لینے کے درپے ہيں۔
گذشتہ ہفتوں مذکورہ ہیش ٹیگ (ایرانی عوام کو آزاد کرو) ایکس نیٹ ورک پر پروڈیوس ہؤا اور پھیلایا گیا۔ یہ مہم پوسٹوں کے ایک سیلاب کے ساتھ آگے بڑھائی گئی اور کوشش کی گئی کہ اس کر "ایرانی عوام کی حقیقی آواز" بنا کر پیش کیا جائے۔
الجزیرہ نے وسیع پیمانے پر حاصل ہونے والی معلومات کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک تصویر اور بھی عیاں کر دی ہے؛ اور وہ یوں کہ یہ اقدامات ایک بیرونی نیٹ ورک کی طرف سے عمل میں لائے جا رہے ہیں اسرائیل سے وابستہ اکاؤنڈس اور حلقوں کی طرف سے۔
الجزیرہ نے 4370 پوسٹوں کا جائزہ لیا، جن میں سے 94 فیصد ری ٹوئیٹ ہوئی تھیں اورپروڈیوسڈ معطیات کی تعداد ناچیز تھی۔ پروڈیوس کرنے والے اکاؤنٹس کی تعداد صرف 170 تھی اگرچہ یہ پیغامات 18 ملین افراد تک پہنچائے گئے۔
جائزوں سے معلوم ہؤا کہ یہ ہیش ٹیگ سماجی اور معاشی مطالبات کے لئے نہیں تھا بلکہ یہ ایک پہلے سے تیار کردہ منصوبے کا حصہ تھا اور معاشی احتجاج کو بلوؤں اور بغاوت میں بدلنا چاہتا تھا۔
یہ مہم ایران کے مفرور و آنجہانی بادشاہ کے بیٹے رضا پہلوی کو متبادل کے طور پر پیش کرنے کے لئے کوشاں تھی؛ پہلو بھی اس مہم میں کردار ادا کر رہا ہے؛ ایسا شخص جس کو ایران میں شدید نفرت کا سامنا ہے، ایرانی اس کے باپ کے انتہائی وحشیانہ اور منفی پس منظر کو بھول نہیں پائے ہیں اور انہیں یاد ہے کہ اس کے باپ کو سنہ 1953 میں سی آئی اے اور ایم آئی-6 نے ایک منصوبہ بند بغاوت کے ذریعے دوبارہ ایران پر مسلط کیا۔
یہ مہم صرف انجانی سرگرمیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اسرائیل کی موجودہ کابینہ اور سابقہ حکومتوں کے اراکین اعلانیہ طور پر اس میں شامل ہیں۔
اسرائیل کے داخلی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے فارسی میں ایک پیغام کے ذریعے بلوائیوں کی حمایت کرتے ہوئے موجودہ ایرانی نظام کے خاتمے کی اپیل کی ہے۔
سابق وزیر اعظم نفتالی بینت بھی ان ہیش ٹیگز میں وسیع سطح پر گھومتا رہا ہے اور اس نے بھی ایتامار کی مہم آگے بڑھائی۔
جعلی بحران سازی
الجزیرہ کے مطابق، یہ مہم بلوؤں کی حمایت کے ساتھ ایران میں بیرونی فوجی مداخلت کی اپیل پر بھی مرکوز رہی اور امریکی صدر ٹرمپ نے اس مسئلے کو مزید ہوا دی، وہی امریکی صدر جس نے 12 روزہ جنگ میں ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی۔ ٹرمپ نے فوجی مداخلت کا مشروط عندیہ دیا تو اس مہم نے فوری طور پر اس کا خیرمقدم کیا اور رضا پہلوی نے اعلانیہ طور پر ٹرمپ کے بیان کی حمایت کی۔
الجزیرہ کاکہنا ہے کہ اس نیٹ ورک نے اپنے جائزوں میں چند مرکزی اکاؤنٹس تک بھی رسائی حاصل کی ہے جو اس مہم میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
Rhythm of X
یہ اکاؤنٹ اس مہم کے چند مرکزی کرداروں میں سے ایک ہے، جو سنہ 2024ع میں بنا ہے اور اس نے اپنے پروفائل کا نام پانچ مرتبہ تبدیل کیا ہے۔ اس کے مندرجات 100 فیصد اسرائیل کی حمایت، ایران میں شہنشاہی نظام کے پلٹ آنے اور اس ملک میں بیروی فوجی مداخلت پر مرکوز ہیں۔
Nioh Berg
یہ اکاؤنٹ سنہ 2017ع میں بنا ہے اور اپنا تعارف ایرانی-یہودی صارف کے طور پر کراتا رہا ہے اور ان دنوں ایران میں جاری بلوں کے دوران، خود کو اس نام نہاد تحریک کی کلیدی آواز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
Israel War Room
یہ درحقیقت امریکی وار روم کا اکاؤنٹ ہے اور تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منظم انداز سے ایران کے خلاف اسرائیلی بیانئے کے تسلسل میں مواد پروڈیوس کرتا ہے۔
الجزیرہ کا اخذ کردہ نتیجہ: "دوسری طرف سے معلوم ہوتا ہے یہ ایک انٹیلیجنس-پولیٹیکل کاروائی ہے جس کو ایرانی سرحدوں سے باہر ڈیزائن کیا گیا ہے اور اسرائیل اور اس کے حامیوں کے چینلز نے اس کی ہدایت کاری کی ہے۔ اس مہم نے ایرانی عوام کے جائز اقتصادی مطالبات کو ہائی جیک کر لیا اور ان کو ایک وسیع تر سیاسی دائرے میں پیش کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ