بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران اور امریکہ کے مذاکراتی وفود آج (جمعرات) 26 فروری کو جنیوا میں اس دور کے مذاکرات کے انعقاد کی جگہ، جو عمان کی سفارتی عمارتوں میں سے ایک ہے، میں داخل ہو گئے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف، پچھلے ادوار کی طرح وفود کی سربراہی کر رہے ہیں اور عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی اس دور کے مذاکرات میں ثالث ہیں۔
جاری مذاکرات، جو آج (جمعرات) 7 فروری کو جنیوا میں شروع ہوئے تھے، وفود کی مشاورت کے لئے روک دیے گئے تھے اور طے ہؤا تھا کہ جنیوا کے وقت کے مطابق شام کو دوبارہ شروع ہوں گے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مذاکرات میں وقفے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں وفود کو دارالحکومتوں سے مشاورت کی ضرورت تھی اور مزید کہا: جوہری شعبے اور پابندیوں کے خاتمے کے معاملے دونوں میں بہت اہم اور قابل عمل تجاویز اور لائحۂ عمل پیش کیے گئے۔
بقائی نے کہا: جوہری شعبے اور پابندیوں کے خاتمے کے معاملے دونوں میں بہت اہم اور قابل عمل تجاویز اور اقدامات پیش کیے گئے اور دونوں وفود نے بڑی سنجیدگی سے مباحثے کی پیروی کی۔
جنیوا میں جاری مذاکرات، ایران اور امریکہ کے وفود اور عمان کے وزیر خارجہ کی موجودگی کے ساتھ، آج (بدھ) 26 فروری کی صبح 10 بجے جنیوا میں عمان کے سفارت خانے کی ایک عمارت میں شروع ہوئے اور گذشتہ دور کے مذاکرات کی طرح اس بار بھی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی بھی اس موقع پر موجود رہے اور ان کی عمان کے وزیر خارجہ سے ملاقات بھی ہوئی۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے مذاکرات سے پہلے انڈیا ٹوڈے سے گفتگو میں کہا کہ منصفانہ، متوازن اور عادلانہ معاہدے تک پہنچنا بالکل ممکن ہے اور ہم اسے حاصل کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا: یقیناً ہماری مسلح افواج اپنا فرض ادا کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اپنا دفاع کیسے کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے دور میں اچھی پیش رفت ہوئی تھی۔ ہم ایک طرح کی سمجھ بوجھ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور میرے خیال میں اسی سمجھ بوجھ کی بنیاد پر ہم ایک معاہدے کی صورت میں کوئی چیز تشکیل دے سکتے ہیں۔
مذاکرات میں توقف کی وجہ کے بارے میں، وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دونوں وفود کو دارالحکومتوں کے ساتھ مشاورت کی ضرورت تھی۔
انھوں نے مزید کہا: جوہری میدان اور پابندیاں ہٹانے کے معاملے میں بہت اہم اور آپریشنل تجاویز اور اقدامات اٹھائے گئے۔
آج ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ "کیا جوہری معاملہ اور پابندیوں کے خاتمے کے علاوہ مذاکرات میں کوئی اور مسئلہ بھی زیر بحث آئے گا؟" تو انھوں نے کہا: مذاکرات کا موضوع صرف جوہری ہے اور جوہری معاملے کی حیثیت بھی واضح ہے۔ ہم جوہری مسئلے کے بارے میں بات نہیں کر سکتے، مگر اس صورت میں کہ ہم جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے لئے ایرانی عوام کے حق کے بارے میں یقیناً بات کریں اور یہ اس سلسلے میں ہر گفتگو اور تعامل کا لازمی حصہ ہوگا۔
بقائی نے کہا: پابندیوں کے معاملے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے، ہمارے عوام ان ظالمانہ پابندیوں سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور ہمارے لئے کسی بھی سمجھوتے اور معاہدے کا مرکزی حصہ یقیناً پابندیوں کا خاتمہ ہونا چاہئے۔
مذاکرات کا پہلا دور 5 فروری 2026 کو مسقط میں اور دوسرا دور 16 فروری کو جنیوا میں منعقد ہؤا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ