1 اکتوبر 2024 - 08:29
شہید سید حسن نصراللہ کا نام علاقائی تاریخ میں سدا باقی رہے گا، جابری انصاری

ارنا کے مینیجنگ ڈائریکٹر حسین جابری انصاری نے تہران میں حزب اللہ کے دفتر میں کہا ہے کہ سید حسن نصراللہ کا نام اور ان کی یاد، ایک منفرد مجاہد عالم دین اور سیاسی رہنما کے طور خطے کی تاریخ میں ہمیشہ باقی رہے گی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق ارنا کے ایم ڈی حسین جابری انصاری نے تہران میں شہید سید حسن نصراللہ کی شہادت کی تعزیت کے لئے حزب اللہ کے دفتر میں حاضری کے موقع پر موجودہ حالات میں میڈیا کے کردار پر زور دیا اور کہا کہ میڈیا نئے دور کی تمام جنگوں ـ بالخصوص موجودہ جنگ ـ میں میدان کا وہ کردار ہے جس کو جنگ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ اس عظیم معرکے کے دونوں فریق ذرائع ابلاغ کے لئے منفی اور مثبت اثرات، فوجی کاروائیوں کے اثرات سے کم نہیں ہیں بلکہ بعض اوقات ان کے اثرات حتی فوجی اقدامات سے بھی زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں اکثر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے کئی پیچیدہ تہہیں ہیں جو صہیونی ریاست کے حامیوں سے بہت مستحکم تعلقات رکھتے ہیں اور یہ وہ ذرائع ہیں جو صہیونی ریاست کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے اس کی مثبت اور اچھی تصویر پیش کرنے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔

حسین جابری انصاری نے کہا کہ ایسے دور میں، اورایسی سخت جنگ میں، مذکوہ ذرائع کے مد مقابل ابلاغیاتی ذرائع حقیقت بیانی اور حقیقی تصویر پیش کرنے میں منفرد اور بے مثال کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا: ہمیں امید ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ذرائع ابلاغ جو تحریک مقاومت کی فضا سے قریب تر ہیں، اپنے فرائض پر عمل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ جنگ بہت سخت اور دشوار ہے اور ابلاغیاتی ذرائع اس کا اہم حصہ ہیں اور یہ بات ہمارے فرائض کو کئی گنا بھاری کر دیتی ہے؛ کہ ہم حقائق کی تصویرکشی اور حقیقت بیانی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

ارنا کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے حزب اللہ لبنان کے شہید سربراہ سید حسن نصراللہ کی ممتاز شخصیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ شہید سید حسن نصراللہ ممتاز اور انتہائی ماہر سیاستداں اور بہت دلیر اور منفرد رہنما تھے اور بظاہر زندگی کے تضادات کو مجتمع کرنے اور اپنے عمل میں، حکمت و سیاست اور ذہانت و ہوشیاری سے کام لینے میں اعلی ترین درجے پر فائز تھے۔

حسین جابری انصاری نے مزید کہا: شہید سید حسن نصراللہ بہت اعلی اسٹریٹیجک اور سیاسی فہم و ادارک کے مالک تھے اور انھوں نے شجاعت، دلیری، عزم محکم اور عدیم المثال استقامت وپائیداری کے تاریخی مرحلے میں لبنان کی تحریک مقاومت اور خطے کی اقوام کی قیادت میں منفرد کردار ادا کیا۔

انھوں نے کہا کہ شہید سید حسن نصراللہ تاریخ، لبنانی قوم نیز خطے کی اقوام ـ بالخصوص ملت فلسطین ـ میں ایک عظیم اور منفرد ہستی کے عنوان سے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

انھوں نے آخر میں کہا: شہید سید حسن نصراللہ نے اسرائیل کے ساتھ جنگ کی تاریخ میں لبنان کی تحریک مقاومت کو عظیم ترین فتوحات سے ہم کنار کیا اور فلسطین کی حمایت میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110