16 فروری 2026 - 01:58
جزیرۃ العرب کی جاہلیت سے جزیرۂ ایسٹین کی جاہلیت تک؛ درد وہی دوا بھی وہی

عید بعثت (17 جنوری 2026ع‍) کے دن، رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے کلام کا ایک عمدہ ترین اقتباس "عصر بعثت کی جاہلیت اور عصرِ انقلابِ اسلامی کی جاہلیت" کا موازنہ تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ||عصر بعثت کی جاہلیت کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ تھا کہ عملی، اخلاقی اور فکری لحاظ سے بدترین معاشرہ تھا جو تصور و تصویر کیا جاسکتا تھا: جو شقی ترین، سنگدل ترین، متعصب ترین، ظالم ترین، جابرترین، متکبر ترین، بے عقل ترین اور ناعاقبت اندیش ترین افراد سے تشکیل پایا تھا۔

آج بھی مغربی معاشرہ عصر بعثت کے جاہلی معاشرے کی خصوصیات رکھتا ہے؛ گو کہ ان کی زبان اور لب و لہجہ جدید ہے، خوش پوش ہیں اور ٹائی باندھے ہوئے ہیں۔ لیکن اسی طرح، ظالم، متکبر، بدعنوان، بداطوار، مادر پدر آزاد اور شاید اس دورے کے لوگوں سے کئی گنا بدتر ہے۔ مغربی معاشرہ مختلف قسم کے اخلاقی، عملی، فکری، معاشی سیاسی اور جنسی فساد میں ڈوبا ہؤا ہے۔ ایپسٹین کا جنسی اور برائیوں سے بھرپور جزیرہ وسیع البنیاد برائی کے نمونوں میں سے ایک ہے۔

دوسری جانب سے، جیسا کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے جہادی کوششوں اور الٰہی محنت سے اس جاہلی معاشرے کو ایک ترقی و کمال کی جانب گامزن معاشرے میں تبدیل کیا، اور اسی دور کے لوگوں میں سے عمار، ابوذر، مقداد و سلمان جیسے افراد کی تربیت کی، آج بھی اسلام اور اس پر یقین کامل رکھنے والے حقیقی مؤمنین وہی کردار ـ ہیں۔ نئی دنیا میں ـ ادا کر سکتے ہیں: "آج بھی دنیا کو فساد کی گھاٹی میں لڑھکنے سے نجات دلا کر صلاح و نجات اور شرافت کی چوٹیوں کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ اور جہنم سے جنت کی طرف کھینچ سکتے ہیں۔ آج بھی یہ ہو سکتا ہے۔"

یہ مہم سرکرنے کی کوششوں کی کامیابی مشروط ہے اس سے کہ:

اولاً، ہم اسلام کی برتری، بالادستی اور حقائیت اور اللہ کی وحدانیت و عدالت پر ایمان رکھتے ہوں اور خوف سے بیگانہ ہو جائیں سستی کو اپنے اوپر مسلط نہ ہونے دیں؛ یہی ہمارے خالق و مالک کا فرمان ہے:

"وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ؛ (آل عمران: 139)

اور کمزوری نہ دکھاؤ اور رنجیدہ نہ ہو اور تم برتری رکھتے ہوا اگر تم ایمان رکھتے ہو۔"

ثانیاً، گوکہ اس دور میں بھی ابوذر و مقداد و عمار و سلمان جیسے لوگ موجود ہیں لیکن "امت اسلامیہ" اور "اسلامی معاشرے"، کو بدلنا پڑے گا۔ صلاح و سداد اور نیکی اور عزم و ہمت و مقاومت کو پورے معاشرے میں فروغ پانا پڑے گا۔  اسلامی معاشرے کو اپنی اصلاح کا اہتمام کرنا پڑے گا، اپنے ایمان کو تقویت دینا پڑے گی؛ قرآن و پیغمبر اکرمؐ کی نصیحت کو سننا اور عملی جامہ پہنانا پڑے گا؛ اور نہج البلاغہ میں وصایا اور ہدایات کی روشنی میں عمل کرنا پڑے گا۔

آگر ان دو شرطوں پر عملدرآمد کنیں، تو ہمارے پاس وہی کچھ ہوگا جو اس دن بعثت کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے پاس تھا، اور وہی کام کر سکیں گے جو اس دن پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے کرکے دکھایا۔ ہم دنیا کو صلاح کی طرف پلٹا سکیں گے، صرف مظلوم اسلامی معاشروں کو نہیں بلکہ ان ہی برے لوگوں کے زیر تسلط معاشروں کے ناہنجار لوگوں کو بھی، تبدیل کر سکیں گے اور ان ایک انسان ساز اور ترقی یافتہ انسانی معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: احمد حسین شریفی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha