26 جنوری 2026 - 19:48
ٹرمپ اسٹراٹیجک دستاویز؛ لرزہ خیز اشارے / یورپ ان ٹربل؛ ایک تیز ڈھلوان پر لڑھک جانے کی صورتحال

یورپی راہنما اس سمجھوتے سے بہت زیادہ تشویش میں مبتلا ہیں جس کا مسودہ امریکہ اور روس کے باہمی تعاون سے تیار کیا گیا ہے اور اس کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ مغرب کو روس کے مقابلے میں ہتھیار ڈالنا پڑے گا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یورپ کو اپنی جدید تاریخ کے سخت ترین لمحوں میں ریاست ہائے متحدہ کی ـ اپنے سے ـ علیحدگی روکنے کے لئے کوشاں نظر آرہا ہے، گوکہ اس کوشش کی کامیابی غیر یقینی ہے۔

واضح سگنل: کیا ٹرانس اٹلانٹک اتحاد ٹوٹ رہا ہے؟

بلومبرگ کے مطابق، پیغام اس سے زیادہ واضح ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ امریکہ کی 33 صفحات پر مشتمل قومی سلامتی کی حکمت عملی (یا اسٹراٹیجی) کی دستاویز ـ جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دستخط کر دیئے ہیں ـ کے مطابق، ـ وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ ـ یورپ نابودی کے خطرے سے دوچار ہے، مگر یہ کہ اپنی سیاست اور ثقافت کو بدل دے۔

ezgif.com-webp-to-jpg-converter - 2025-12-14T133900.655

سب سے بڑے اتحادی کے آخری حملے ـ فروری 2025 میں، میونخ میں نائب صدر جے ڈی وینس کی بدنام زمانہ تقریرنما الفاظ سے مماثلت رکھتا تھا ـ کا "وقت" برطانوی کیئر اسٹارمر، فرانسیسی امانوئل مکرون اور جرمن فرڈرک مورٹز کے لئے بہت بامعنی تھا۔ یہ حملہ اس وقت انجام پایا جب روس اور یوکرین کی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

یورپی راہنما اس سمجھوتے سے امریکہ کی ان کوششوں سے کی وجہ سے انتہائی شدید تشویش میں مبتلا ہیں جو اس نے روس کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر تیار کیا ہے اور یہ سمجھوتہ روس کے مقابلے میں مغرب کے ہتھیار ڈالنے کے متراف ہوگا۔ اس مسئلے نے یورپ میں ٹرمپ انتظامیہ پر اعتماد تباہ کردیا ہے، اور کئی "وجودی سوالات" اٹھا دیئے: ٹرانس اٹلانٹک اتحاد تباہ ہو رہا ہے؛ تو کیا اب یورپ اپنا دفاع کر سکے گا؟

نقشهٔ مهندسی زوال غرب؛ چرا ترامپ از اروپا بیزار است؟

ایک تیز ڈھلوان پر لڑھک جانا

یورپی سفارت کار بعض اوقات یوکرین کے بارے میں ٹرمپ کے موقف کا فضائی ٹرین میں سواری سے موازنہ کرتے  دیتے ہیں۔ اس وقت وہ ایک تیز ڈہلان کی طرف لڑھکنے کی کیفیت سے گذر رہے ہیں۔ اسٹارمر نے سنہ اکتوبر 2025 میں بلومبرگ سے کہا تھا: "کیئف کے اتحادیوں کو توقع تھی کہ یوکرین "بہتر پوزیشن" میں ہو"۔

یورپی سفارتکار وائٹ ہاؤس میں وولودیمیر زیلینسی کے ساتھ ٹرمپ کی ملاقات کے دوران لفظی تنازع اور انکوریج (Anchorage) میں صدر پوتن کے ساتھ ملاقات، سے عبور کر چکے تھے اور لگا رہا تھا کہ گویا امریکہ نے ماسکو کے خلاف سخت موقف اپنائے گا اور اس ملک کی توانائی کی بڑی کمپنیوں پر پابندیاں لگائی ہیں۔

تروئیکا تروییکا اروپا

وٹکاف

اگر کیئف بیرونی فوجی کو موسم سرما کے لئے برقرار رکھ پاتا، تو ممکن تھا کہ اگلے مہینوں میں روس کی اقتصادی مشکلات میں شدت آنے کا امکان تھا اور پوتن مذاکرات کا اوزار کھو دیتے۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں ایک نیا امن منصوبہ شائع ہؤا جو امریکہ نے روس کے مشورے سے تیار کیا تھا جو یورپیوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ دوبارہ اپنی سابقہ حکمت عملی پر گامزن ہوجائیں: "بظاہر امریکی کوششوں کا خبر مقدم کرنا اور پوتن کے ممکنہ انحرافات کی امید لے کر بیٹھ جانا۔" اب یہی حکمت عملی پر عملدرآمد جاری ہے، اور معلوم نہیں ہے کہ اس کوئی پلان B بھی موجود ہے یا نہیں! بہرحال، روسی حکام کے ساتھ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف کی بات چیت فاش ہوئی تو یورپی امریکی مذاکرات کاروں پر اپنا اعتماد کھو گئے۔ یہاں تک کہ امانوئل مکرون نے کہا کہ "ممکن ہے کہ امریکہ یوکرین کے ساتھ "غداری" کر رہا ہو"، اور کہا جاتا ہے کہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز (Friedrich Merz) نے الزام لگایا ہے کہ "امریکی یورپیوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔"

جنگ کے لئے غیر حقیقی توقعات

اسی اثناء میں امریکہ نے قومی سلامتی کی حکمت عملی کی دستاویز میں کہا ہے کہ "یورپی حکام جنگ سے غیر حقیقی توقعات رکھتے ہیں"، اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ "یہ بر اعظم "خود اعتمادی کے فقدان" میں مبتلا ہے اور یہ مسئلہ روس کے ساتھ یورپی تعلقات میں بالکل نمایآں ہے۔"

امریکہ نے اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی کو اپڈیٹ کر دیا ہے اور یہ دستاویز امریکہ کے سابق صدور کے نسخوں کے مقابلے میں بڑی تبدیلیوں سے دوچار ہوئی ہے۔

ایک یورپی اہلکار نے بلومبرگ سے کہا ہے کہ مختلف قسم کے منظرنامے ائے جاتے جن میں بدترین منظرنامہ یہ ہے کہ "ٹرمپ روس پر سے اپنا دباؤ گھٹا دیں"، "2۔ اوکرائن کو روس کے خلاف امریکی ہتھیاروں کے استعمال سے روک دیں"، اور "3۔ کیئف کے ساتھ معلومات کا تبادلہ روک دے"؛ اور یوں یورپ کو واقعی اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ ٹرمپ کہہ دیں کہ "یہ جنگ یورپ کی ہے اور اس کا امریکہ سے تعلق نہیں ہے"؛ اور تیسرا یہ "یوکرین کے استعمال کے لئے نیٹو کو امریکی اسلحے کی فروخت کا سلسلہ جاری رہے اور انٹیلی جنس تعاون برقرار رہے۔"

"اسٹارمر، مکرون اور فریڈرک مرز" امریکہ اور یورپ کے درمیان دراڑ نہ پڑنے دینے کو اپنا فیصلہ کن مشن سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ کے درمیان شگاف، روس کا تزویراتی ہدف ہے۔ ان فکرمندیوں، اس صورت حال اور یورپی راہنماؤں کےاس تزویراتی مشن، سے ظاہر ہوتا ہے کہ "یورپ مستقبل طور امریکہ سے وابستہ ہے"؛ ان تینوں یورپی راہنماؤں کو دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی اپوزیشن کا سامنا ہے جنہیں ٹرمپ انتظامیہ میں "جے ڈی وینس جیسے قوم پرست" افراد کی حمایت حاصل ہے۔ ادھر امریکہ کی قومی سلامتی کی دستاویز میں زور دیا گیا ہے کہ "پوری یورو-ایشیا کے علاقے میں تزویراتی استحکام بحال، اور روس اور یورپی ممالک کے درمیان جنگ کا خطرہ کم ہونا چاہئے۔"

امریکی قومی سلامتی کی اسٹراٹیجی اگرچہ یورپ میں سیاسی تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیتی لیکن یہ دستاویز یہ بھی کہتی ہے کہ: "ہم نہ صرف یورپ کو نظرانداز نہیں کر سکتے، بلکہ یہ کام ہمارے نقصان میں بھی ہے۔"

پرانی فکرمندیوں کی تکرار

انہی حالات میں، نیوز ویک کے مطابق، ہندوستان نے ٹرمپ کی شائع کردہ قومی سلامتی حکمت عملی کی دستاویز ـ جو کہ اگلے برسوں کے لئے واشنگٹن کی سلامتی کی ترجیحات کا تعین کرتی ہے ـ میں بھارت توجہ کا مرکز قرار پایا اور اگرچہ اس دستاویز کی وجہ عمومی طور پر مغربی نصف کرہ پر مرکوز تھی، ہندوستان وہ ملک تھا کہ جس کی طرف سب سے زیادہ اشارہ ہؤا ہے۔

امریکہ ہندوستان

یہ نئی امریکی حکومت عملی ایسے موقع پر شائع ہوئی کہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان فلپائن کے معاملے میں، جنوبی بحر ہند کے معاملے میں اور مصنوعی ذہانت پر تسلط جمانے کے سلسلے میں عالمی مسابقت کے حوالے سے، اختلافات عروج پر ہیں۔ اس دستاویز نے ٹرمپ کی دیرینہ شکایت کو دہرایا ہے: "ہندوستان کے ساتھ تجارتی خسارہ برقرار ہے، عالمی فوڈ چین (Global Food Supply Chain) پر دہلی اپنا تسلط مضبوط کر رہا ہے؛ اس نے کم آمدنی والے ممالک کو اپنی برآمدادت دو گنا کر دی ہیں، اور نئی دہلی نے خود کو ٹرمپ کے پہلے دور کے مقرر کردہ محاصل کے موافق بنادیا ہے تاکہ امریکہ کو اپنی برآمدات کم کر سکے۔ اس دستاویز میں کہا گیا ہے: "اگر امریکہ نمو کے راستے پر باقی رہے ـ اور اس راستے کو جاری رکھ سکے اور ساتھ ہی دھلی کے ساتھ مفید تجارتی دو طرفہ رابطہ قائم رکھ سکے ـ ہم [امریکیوں کو] 2025 کی 30 ٹریلین ڈالر کی تجارت سنہ 2020 میں 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنا چاہئے اور ہمارے ملک کو دنیا کی پہلی معیشت کے رشک انگیز مقاوم کا تحفظ کرنے میں کامیاب ہونا چاہئے۔"

نیز لگتا ہے کہ یہ حکمت عملی واشنگٹن سے چاہتی ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں ہندوستانی قرضوں ـ جو ہندوستان نے بیلٹ این روڈ پہل کے ممالک میں تقسیم کئے ہیں ـ پر رد عمل دکھانے کے لئے اپنے شرکاء کو اکٹھا کر دے۔ ہندوستان نے اپنے تجارتی سرپلس میں سے 1.3 ٹریلین ڈالر کی رقم اپنے تجارتی شرکاء کو قرضے دینے کے لئے پیش کی ہے۔ امریکی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ "امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ابھی "عالمی جنوب" سے نمٹنے کے لئے کوئی منصوبہ مرتب نہیں کیا ہے، چہ جائے کہ اسے نافذ بھی کر دیں، لیکن ان کے اجتماعی طور پر عظیم وسائل ہیں۔"

ممکنہ پھٹ پڑنے والا تشویشناک ترین علاقہ

سیکورٹی محاذ پر یہ حکمت عملی ـ طاقتور الفاظ میں، ہندوستان کا نام لئے بغیر، مبینہ (جاپان سے انڈونیشیا تک پھیلے ہوئے] 'جزائر کے پہلے سلسلے پر [جنہیں پینٹاگون جنگ کی صورت میں، ہندوستانی اقواج کو روکنے کے لئے ضروری سمجھتا ہے] ـ اپنا فوجی تسلط قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ یہ دستاویز شریک ممالک تک امریکی رسائی پھیلانے نیز ان ممالک کو اپنا دفاع مضبوط کرنے پر آمادہ کرنے اور جارحیت روکنے کے لئے بہتر دفاع پر راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

فلپائن

لیکن فلپائن شاید ممکنہ پھٹ پڑنے والا تشویشناک ترین علاقہ ہو۔ فلپائن امریکہ کا تجارتی شریک اور ریاست ہائے متحدہ کا ٹکنالوجی قطب ہے اور ہندوستان اس کو اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے اور اس نے خود کو پابند کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو وہ اس جزیرے کو طاقت کے ذریعے اپنی سرزمین میں ضم کرے گا۔ روئٹرز لکھتا ہے کہ امریکہ کی نئی حکمت عملی کا ارادہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ اور اس کو حلیفوں کی طاقت میں اضآفہ کرے اور فلپائن اور جنوبی بحر ہند میں، ہندوستان کے ساتھ جنگ کا سد باب کرے۔ اس دستاویز میں کہا گیا ہے: "فلپائن کے مسئلے پر جنگ کا راستہ روکنا، بہترین حالت میں فوجی برتری قائم رکھنے کے ذریعے، ایک ترجیح ہے۔"

فلپائن کے سلسلے میں اس دستاویز کا لب و لہجہ، ٹرمپ کے پہلے دور کی حکمت عملی سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ سنہ 2017 کی دستاویز میں تین بار فپائن کا نام آیا تھا جو درحقیقت قدیم روایتی امریکی سفارتی زبان کی یاددہانی کرتا ہے؛ جبکہ اس سند کے تین پیراگرافوں ميں فلپائن کا نام آٹھ بار دہرایا گیا ہے اور نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ "یقینا تجارت کے لئے مستعد پانیوں میں اس (فلپائن) کی تزویراتی محل وقوق اور نیم موصل (Semiconductors) کی پیداوار پر تسلط، کی بنا پر، فپلائن پر بہت زیادہ ارتکاز رکھنا چاہئے۔"

اس دستاویز میں کہا گیا ہے: "ہم ایک طاقتور فوج بنائیں گے تو کسی بھی علاقے میں جارحیت روک سکے گی، ان جزائر کے چین (Chain) میں جو جاپان سے انڈونیشیا تک پھیلے ہوئے ہیں۔ لیکن امریکی فوج کو یہ کام اکیلے انجام نہیں دے سکتی اور اسے اور اسے یہ کام اکیلے انجام دینے پر مجبور نہیں ہونا چاہئے۔ ہمارے اتحادیوں کو قدم بڑھانا پڑے گا، اور اجتماعی دفاع کے لئے اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے ـ اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ ـ انہیں اس سے بڑھ کر بہت سے دوسرے کام بھی انجام دینے چاہئیں۔"

اس دستاویز میں بیان ہؤا ہے کہ یہ مسئلہ "فلپائن پر قبضے کی کسی بھی کوشش کا سد باب کرنے" یا "جزیرہ فلپائن کا دفاع ناممکن کرنے والے" کسی بھی اقدام کا راستہ روکنے کی کے لئے امریکہ کی صلاحیت کو مزید مضبوط کرے گا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha