بین الاقوامی ابل بیت(ع) نیوزایجنسی ـ ابنا؛ ڈاکٹر عاملی نے اپنے مضمون / خط میں لکھا:
امریکہ کے حکمران بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تئیں ہمیشہ بے پروا تھے اور ہیں اور خطے اور دنیا میں مسلسل بحران پیدا کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔ وہ ملک جس کا فوجی بجٹ دنیا بھر میں سب سے زیادہ اور درحقیقت دنیا کے کل فوجی بجٹ کے 37 فیصد حصے کے برابر ہے اور اس کے پاس 3700 سے زیادہ فعال جوہری ہتھیار ہیں جبکہ اسے 5250 ذخیرہ شدہ جوہری ہتھیاروں کو بھی غیر موثر کرنا ہے، جو بجائے خود دنیا کی سلامتی کے لئے یقینی خطرہ ہے۔ پینٹاگون اور امریکی کانگریس کے بجٹ سیکشن کے سرکاری اعلان کے مطابق، صرف جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کا سالانہ بجٹ 75 ارب ڈالر ہے۔
امریکہ نے 2024 اور 2025 کے سالوں میں 7 ٹریلین (یعنی 7000 ارب) ڈالر کے سالانہ بجٹ میں سے تقریباً 1 ٹریلین ڈالر فوجی بجٹ کے لئے مختص کیا ہے۔
جبکہ صرف 82 ارب ڈالر تعلیم کے شعبے اور 130 ارب ڈالر خدمات اور صحت کے شعبے کے لئے مختص ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے دور میں وزارت دفاع کو وزارت جنگ میں تبدیل کرنے کی پالیسی نے فوجی اور سیکیورٹی کے بجٹ کو 1 ٹریلین ڈالر کی حد سے آگے بڑھا دیا۔
موجودہ اعداد و شمار (2 جنوری 2026) کے مطابق، امریکہ 38.4 ٹریلین ڈالر کے قرضے کے ساتھ ـ جس میں سالانہ کم از کم 2 ٹریلین ڈالر کا مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ـ دنیا میں آمدنی اور اخراجات کا سب سے زیادہ عدم توازن سے دوچار ہے جو اس ملک کو سنگین دیوالیہ پن کی طرف لے جا رہا ہے۔
اگرچہ ٹرمپ ازم اور صہیونیت تین حربوں "یعنی طاقت، تسلط اور میڈیا" کے ذریعے دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دنیا کے 80 سے زیادہ ممالک میں 735 فوجی اڈوں کی بڑی بساط بچھا کر خوف اور دہشت اور جبر و طاقت کا ماحول برقرار رکھے ہوئے ہیں لیکن "قوموں کی آگہی" ایک بڑا سماجی سرمایہ ہے جس کی لہر ـ اسرائیلی ریاست کی غزہ کے مظلوم عوام کے خلاف جنگ اور اسلامی جمہوریہ ایران پر جارحانہ حملے کی وجہ سے ـ دنیا ـ خصوصاً یورپ اور امریکہ ـ میں گونج اٹھی ہے۔
یہ کہ صہیونیت اور ٹرمپ ازم کا رابطہ ایک بار پھر ایران کی عظیم قوم کے خلاف پہلے سے طے شدہ فساد کا باعث بنا ہے اور جناب ٹرمپ ـ جو قوموں کے وسائل کے چور اور ڈاکو کے طور پر، ایرانی قوم کے مالک مکان اور ہمدرد کا کردار ادا کر رہے ہیں، ـ یہ افغانستان، عراق اور درجنوں دوسرے ممالک پر حملے کا پرانا اور ناکام حربہ ہے جس کی آج کی مثال وینزویلا پر حملہ ہے۔ اس تمہید کے ساتھ میں جناب ٹرمپ اور امریکی عوام کی توجہ چند نکات طرف مبذول کراتا ہوں:
1۔ جھوٹا استشراق (False Orientalism) اور سطحی ایران شناسی ((Superficial Iranian Study)) اور اسرائیلی ریاست، بادشاہت پسندوں اور وطن کے غدار منافقوں کے نظریئے پر انحصار نے آپ کو گمراہ کیا ہے۔ میڈیا کی جھوٹی خبریں ـ مصنوعی ذہانت کی سہولیات اور جھوٹے آوازوں کے ذریعے، مبالغہ آمیز تصویر سازی اور بے بنیاد خبریں "ذہین اور چوکس ایرانی" پر غالب نہیں آ سکتیں۔ ایرانی عوام نے آپ کے کام کے نتائج ویتنام، افغانستان، کیوبا، عراق اور دنیا کے دیگر مقامات پر قوموں کی آزادی میں دیکھے ہیں اور جانتے ہیں کہ آپ شریر اور شرارت انگیز ہیں اور ممالک کے قومی وسائل کو لوٹنے کے درپے ہیں۔
اگر آپ انسانی اقدار کے حامل ہوتے تو پہلے امریکہ کے 40 ملین سے زیادہ غریب اور بے گھر لوگوں کی مدد کرتے۔ یقیناً ایران کے عظیم عوام بھیڑیئے کے پنجے کو بوسہ نہیں دیں گے اور آپ کو ایران کی عظیم قوم کے سامنے جھکنے پر مجبور کریں گے۔
ایرانی عوام اپنے دانا رہبر اور اپنی حکومت پر کسی اور سے زیادہ بھروسہ رکھتے ہیں اور ایران کی تعمیر کا راستہ "قومی حکمت" کے راستے سے طے کریں گے اور ہرگز اسرائیل کی طفل کُش ریاست اور بے رحم امریکہ کی شرارتوں کو ـ جو دنیا میں بہت سے اجتماعی قتل عاموں کا منبع رہا ہے، ـ ہرگز نہیں بھولیں گے۔
2۔ اگر آپ کا نعرہ "پہلے امریکہ" (America First) ہے چنانچہ امریکہ کے بے شمار اندرونی مسائل اور بحرانوں کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کریں اور امریکہ میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور نسلی و قومی امتیاز پر توجہ دیں۔ امریکی استثنیٰ پسندی، ـ امریکہ کے مقامی لوگوں، رنگین لوگوں اور دولت کے وسائل سے محروم 75 فیصدی بڑی امریکی کمیونٹی پر ـ ظلم کا منبع تھا اور ہے۔ ظاہر ہے کہ امریکہ کی 52 فیصد آبادی صرف امریکہ کی دولت کے 2.5 فیصد حصے سے مستفید ہو ہوسکتی ہے۔
3۔ امریکہ ایک غربت اور بدعنوانی میں پھنسا ہوا ملک ہے۔ بہتر ہے آپ امریکہ کے مسائل پر توجہ دیں۔ آپ ایک ٹریلین ڈالر مختص کرکے امریکہ میں غربت کو کم اور یہاں تک کہ ختم کر سکتے ہیں، وسائل کو اپنے عوام کی مدد کی طرف موڑ سکتے ہیں امریکی عوام کی دولت کو امریکی عوام پر ہی استعمال کریں۔
آج امریکہ میں چار کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ لوگ خوراک کی قلت کا شکار ہیں اور متعدد مواقع پر غذائی بحران کا سامنا ہے اور تقریباً چار کروڑ امریکی آبادی، یعنی امریکہ کی 13 فیصد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر (Poverty Line) نیچے زندگی گذار رہی ہے۔ آپ ہر جنگ کے ساتھ، امریکہ کے قرضوں میں کئی ٹریلین ڈالر کا اضافہ کرتے ہیں، امریکہ کی ایک بڑی آبادی کو غریب سے غریب کرتے ہیں، اور امریکہ کے زوال کی رفتار میں مزید اضافہ کرتے ہیں، اور یہ رویہ قریب پہنچنے کا باعث بنتے ہیں اور یہ رویہ در حقیقت آپ کے "پہلے امریکہ" (America First) سے متصادم ہے۔
4۔ آپ نے تو یونیورسٹی کے اساتذہ اور امریکہ کی اہم یونیورسٹیوں کے طلبہ کے احتجاج اور [فلسطینیوں کے ساتھ ان کی] ہمدردی کو برداشت نہیں کیا اور 3000 سے زیادہ لوگوں کو جیل میں ڈال دیا اور بہت سے افراد کو ان کی ملازمتوں سے محروم کر دیا اور یہاں تک کہ امریکہ کی اہم یونیورسٹیوں ـ جیسے ہارورڈ یونیورسٹی ـ کے سربراہوں کو دھمکیاں دیں اور ان کے بجٹ کو بہت کم کر دیا، اور ایک طرح سے اپنی یونیورسٹیوں پر بھی پابندیاں لگا دیں۔

5۔ انسانوں کو جبر کی رو سے، قتل کرنا، سب سے بڑا جرم ہے، جو تصور کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ میں سالانہ 1200 سے زیادہ افراد امریکی پولیس کے ہاتھوں قتل ہوتے ہیں جن میں سے 27 فیصد کا تعلق 13 فیصدی سیاہ فام آبادی سے ہے۔ آپ دنیا کے سب سے زیادہ امتیازی (Discriminatory) حکومت ہیں جس کے جارحانہ طرز عمل کی مثال گوانتانامو کی جیلوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ آپ قیدیوں کو بدترین ٹارچر اور ایذا رسانیوں کے ساتھ قید کر دیتے ہیں اور لوگوں کو بدترین طریقوں سے، یہاں تک کہ سڑکوں پر لوگوں کو گلا گھونٹ کر، قتل عام کرتے ہیں۔
گوانتانامو میں آپ نے ایسی اذیتیں ریکارڈ کرا دیں جو دنیا میں ایذارسانی کا پہلا ریکارڈ رکھتی ہیں۔ اذیتیں جیسے قیدی کو 180 گھنٹے تک جاگتے رکھنا، قیدی کا مصنوعی طور پر ڈبونا (Waterboarding) ـ جیسا کہ "ابوزبیدہ" کا حوصلہ توڑنے کے لئے آپ نے اس پر 83 بار آپ نے Waterboarding کا حربہ استعمال کیا۔ کتوں کو قیدیوں پر چھوڑنا اور درجنوں دوسرے طریقے آپ کی انسان دشمنی کی فطرت کی مثالیں ہیں۔

حالیہ چند ادوار کے تمام امریکی صدور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دباؤ میں گوانتانامو جیل بند کرنے کے ارادے ظاہر کرتے رہے ہیں اور صدر بننے کے پہلے سال اسے بند کرنے کا وعدے دیتے رہے ہیں لیکن انہیں کانگریس کے 190 سے زیادہ راکین کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے؛ اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بے رحمی، درندگی اور دوسروں پر ظلم و ستم آپ کے ہاں کی ایک سیاسی ثقافت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
سان فرانسسکو کے ٹینڈرلوئن محلے میں سینٹ بونیفیس کیتھولک چرچ میں ـ "بے گھر لوگ گوبیو پروجیکٹ کے حصے کے طور پر ـ بینچوں پر سوتے ہیں۔ تصویر: ڈیوڈ لون/دی گارڈین
۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: ڈاکٹر سعید رضا عاملی – پروفیسر، شعبہ ابلاغیات و مطالعاتِ عالَم، تہران یونیورسٹی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ