4 جنوری 2026 - 15:39
شہید جنرل سلیمانی؛ مرد سیاست اور مرد میدان، امریکی تھنک ٹینکس کی زبانی

یہ رپورٹ امریکہ کے اہم تھنک ٹینکس کے منظم جائزوں اور تشخیصوں کا جائزہ لے کر یہ دکھانے کی کوشش کرتی ہے کہ مغربی پالیسی ریسرچ کے اداروں کی فہم و ادراک میں جنرل سلیمانی کا کیا مقام تھا اور 'اسٹراٹیجک، آپریشنل اور علامتی کرداروں' کا ایک مجموعہ ان میں کیونکر یکجا ہو گیا تھا؟ ذیل میں اس رپورٹ کا پہلا حصہ یہاں پیش کیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || یہ رپورٹ امریکی تھنک ٹینکس کے نقطہ نظر سے شہید لیفٹیننٹ جنرل الحاج قاسم سلیمانی کے مقام اور کردار کا عمومی تجزیاتی جائزہ پیش کرنے کے مقصد سے تیار کی گئی ہے اور مغربی پالیسی ریسرچ کی زبان میں ان کے کردار کی تصویر کشی کی روشوں کو منظم شکل دینے کی کوشش کرتی ہے۔

1۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی علاقائی اسٹراٹیجی کا معمار

بروکنگز تھنک ٹینک جنرل سلیمانی کو ایران کی علاقائی پالیسی کا عملی معمار قرار دیتا ہے جو تہران کے اسٹراٹیجک گہرائی کے وسیع اہداف کو متعدد محاذوں پر مسلسل عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہ تھنک ٹینک ان کے کردار کو فوجی کمان سے بالاتر ہو کر، قیادت کے ڈھانچے، سپاہ پاسداران، اور عراق، شام اور لبنان کے مقامی اداکاروں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بتاتا ہے۔

امریکی کونسل آن فارن ریلیشنز بھی اس تعمیر کے مربوط ہونے پر زور دیتی ہے اور کہتی ہے کہ ایران کا علاقائی اثر لکھے ہوئے نظریئے کے بجائے جنرل سلیمانی کی نیٹ ورکنگ، بحران کے انتظام (Crisis Management) اور اہم مواقع پر فیصلہ سازی کا نتیجہ تھا۔

سینٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) انہیں تہہ دار (Multilayered) اثر و رسوخ کی حکمت عملی کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتا ہے؛ ایک ایسی حکمت عملی جو بیک وقت ریاستی، نیم ریاستی اور غیر ریاستی اداکاروں پر انحصار کرتی ہے اور ایران کی پالیسی کو ایک رد عملی (Reactional) نمونے سے ایک پیشگی اقدام پر مبنی اور کئی محاذوں پر مربوط نقطہ نظر تک منتقل کر دیا۔

کارنیگی انڈوومنٹ برائے بین الاقوامی امن (Carnegie Endowment for International Peace [CEIP]) اس بات پر زور دیتا ہے کہ خطے کے کچھ ممالک کے سماجی اور سیاسی ڈھانچے میں جنرل سلیمانی کا گہرا اثر و رسوخ تھا؛ اس طرح کہ ان کے رابطے کے نیٹ ورکس اور فیصلے عملاً سرکاری طریقہ کار کے ایک حصے کی جگہ لے چکے تھے۔

رینڈ انسٹی ٹیوٹ لاگت اور فائدے کے زاویئے سے کہتا ہے کہ جنرل سلیمانی ایک علاقائی اسٹراٹیجی کے معمار تھے اور انھوں نے کم لاگت اور زیادہ اثر کے اصول پر عمل کرتے ہوئے محاذوں کے درمیان رسد کا بہترین انتظام کیا اور اہداف کو آگے بڑھانے کے کو مقامی قوتوں پر انحصار کی بنیاد پر قائم کیا۔

اٹلانٹک کونسل بھی ایران کی علاقائی پالیسی کو دفاعی کیفیت سے نکالنے اور اس میں جارحانہ-تسدیدی (Offensive Deterrence کا) پہلو شامل کرنے میں ان کے کردار کو نمایاں کرتی ہے اور فعال اسٹراٹیجک گہرائی کے تصور کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ بھی لکھتا ہے کہ ان میں متعدد محاذوں کے درمیان اختیارات اور فیصلہ سازی کا ارتکاز، قلیل مدت میں زیادہ یکجہتی اور اثر انگیزی پیدا کرتا تھا۔

2۔ اوورسیز آپریشنز کمانڈر

بروکنگز تھنک ٹینک جنرل سلیمانی کو کمانڈ کا ایک بے مثال نمونہ قرار دیتا ہے جو بیک وقت بطور احسن اسٹراٹیجک اور آپریشنل کردار ادا کرتے تھے، اور اعلیٰ سطح کے روایتی کمانڈرز کے برعکس، باقاعدگی سے میدان کے قریب موجود رہتے تھے اور تاکتیکی فیصلے خود کرتے تھے؛ جس کی بنا پر حلیف قوتوں میں ان کا اعتبار بڑھ گیا۔

کونسل آن فارن ریلیشنز انہیں ایک فعال اورسیز کمانڈر قرار دیتی ہے جو بحرانی لمحات میں میدان میں آتے تھے اور ایسے فیصلے کرتے تھے جو تزویراتی نتائج مرتب کرتے تھے اور میدان اور سیاست کو بیک وقت سمجھنے کی یہی صلاحیت کارروائیوں کی سیاسی ٹکراؤ کو کم کرتی تھی۔

سینٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز ـ جنرل قاسم سلیمانی کی ـ متعدد محاذوں کے بیک وقت انتظام کی صلاحیت اور بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق کارروائیوں کو تیزی سے ایڈجسٹ کرنے کی اہلیت، پر زور دیتا ہے اور ان کی میدان میں موجودگی کو  لَچَک پَذِيری کا سبب قرار دیتا ہے۔ رینڈ انسٹی ٹیوٹ اس طرز کو علاقائی سطح پر 'مشن پر مبنی' (Mission oriented) کمانڈ کی ایک مثال کے طور پر پیش کرتا ہے: عمومی فریم ورک کا تعین، براہ راست نگرانی کے ساتھ درست عمل درآمد، یوں ایرانی فوجوں کی وسیع موجودگی پر انحصار کم ہو جاتا تھا لیکن آپریشنل کنٹرول کمانڈر کے پاس رہتا تھا۔

اٹلانٹک کونسل آپریشنل پہلو کے علاوہ جنرل سلیمانی کی عملی موجودگی کے لئے نفسیاتی اور تسدیدی کارکردگی کے طور پر بیان کرتا ہے؛ ایسی کارکردگی جو نہ صرف حلیف قوتوں کے حوصلے بلند کرنے کا ذریعہ تھی بلکہ دشمن قوتوں کو بھی زیادہ احتیاط اور سوچنے پر مجبور کر دیتی تھی۔ کارنیگی اینڈومنٹ بھی کہتا ہے کہ انھوں نے بیرونی کارروائیوں کے خلا کو پر کرنے کے لئے ہدایت شدہ موجودگی میں تبدیل کر دیا اور اندرونی گروہی مقابلے کو قابو کیا؛ کردار کی وہ سطح جو ان پر سیاسی اعتماد کی متقاضی تھی۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ بھی اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ ذاتی طور پر کنٹرول رکھتے تھے اور براہ راست موجودگی (Guided Presence) کے ذریعے، نہ صرف کارروائیوں کی قیادت کرتے تھے بلکہ مقامی اداکاروں کے رویئے کو بھی منظم کر لیتے تھے۔

3- محور مقاومت کے معمار و منتظم

بروکنگز تھنک ٹینک جنرل سلیمانی کو مرکزی ڈیزائنر قرار دیتا ہے جس کے ذریعے ایران اپنے روایتی فوجی دستوں پر انحصار کئے بغیر اپنا اثر و رسوخ پھیلا سکا اور حلیف قوتوں کو ایک مربوط سیکورٹی نظام کے اجزاء کے طور پر منظم کیا؛ ایسا نظام جو صرف فوجی نہیں تھا بلکہ اس کی سیاسی اور سماجی کارکردگی بھی نمایاں ہے۔

کونسل آن فارن ریلیشنز اس بات پر زور دیتا ہے کہ ان کا کردار صرف سازوسامان فراہم کرنے اور تربیت دینے تک محدود نہیں تھا بلکہ انھوں نے حلیف گروپوں کی 'شناخت، مشن اور ترجیحات' 'کی تشکیل' میں بھی فعال طور پر حصہ لیا؛ یہاں تک کہ اس محور نے تاکتیکی خودمختاری حاصل کر لی، لیکن اپنی اسٹراٹیجک ہم آہنگی ایران کے ساتھ برقرار رکھی۔

سینٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز اس نیٹ ورک کو تہہ دار (Multilayered) اثر و رسوخ کہتا ہے جو مسلح گروپوں سے آگے بڑھ کر سیاسی اداکاروں، سماجی اداروں اور مدد کے راستوں کو بھی شامل کرتا ہے اور جنرل سلیمانی کو ان تہہوں کا ہم آہنگ کرنے والا قرار دیتا ہے؛ ایسا عمل جس نے پراکسی [یعنی ہم فکر] فورسز کو محض فوجی یونٹس سے طاقت کے اندرونی نظامات میں کثیر الجہتی اداکاروں میں تبدیل کر دیا، خاص طور پر عراق اور لبنان میں۔

رینڈ انسٹی ٹیوٹ اس محور کے انتظام کو نامتقارن جنگ [Asymmetric Warfare] غیر منظم (اور بے قاعدہ جنگ Asymmetric Warfare) کی ایک پیچیدہ مثال قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جنرل سلیمانی گروپوں کے درمیان علاقائی تقسیم کار قائم کر کے مخالفوں پر دباؤ تقسیم کرتے تھے اور ایران کے براہ راست تصادم کی لاگت کم کرتے تھے۔

اٹلانٹک کونسل اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس محور نے ان کے انتظام کے تحت فعال ڈیٹرنس کا ذریعہ بن گیا اور یوں ایران براہ راست مقابلے کے بغیر اپنے اسٹراٹیجک پیغامات پہنچا سکتا تھا اور تہران کے خلاف کارروائی کی لاگت بڑھا سکتا تھا۔

کارنیگی اینڈومنٹ بھی وضاحت کرتا ہے کہ جنرل سلیمانی محور کی فورسز کو میزبان ممالک کے سماجی اور سیاسی تناظر میں ضم کر دیتے تھے تاکہ ان کی بقا جنگ کی حالت پر منحصر نہ رہے اور یہ محور علاقائی ترتیب میں ایک پائیدار حقیقت بن جائے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ بھی انہیں حتمی کوآردینیٹر قرار دیتا ہے اور زور دیتا ہے کہ تنازعات کے حل اور سرخ لکیروں کے تعین میں ان کا ذاتی کردار اس محور کے اتحاد کا اہم عنصر تھا۔

4۔ محور مقاومت کا اعلیٰ کوآرڈنیٹر

بروکنگز تھنک ٹینک جنرل سلیمانی کو غیر ہم آہنگ اداکاروں کے ایک مجموعے کے اتحاد کا ذریعہ قرار دیتا ہے جنہیں مقامی مفادات کے فرق کے باوجود ایک مشترکہ آپریشنل فریم ورک کے تحت رکھا جاتا تھا اور وہ نظریاتی اور سیاسی حساسیتوں کو پہچان کر اختلافات کو مفلوج کر دینے والی خلیجوں میں بدلنے سے روک دیتے تھے۔

کونسل آن فارن ریلیشنز مختلف محاذوں کے درمیان مسلسل رابطے کی لائنز قائم کرنے اور وسیع تر خاکے کی بنیاد پر آپریشنل ترجیحات کو منظم کرنے میں ان کے کردار پر زور دیتا ہے اور انہیں غیر رسمی جنرل اسٹاف کے طور پر متعارف کرتا ہے جو بھاری نوکر شاہی کا سامنا کئے بغیر ہم آہنگی کو یقینی بناتا تھا۔

سینٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز 'مختلف گروپوں کے درمیان قابل قبول' اتھارٹی کے حوالے کی ضرورت پر زور دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جنرل سلیمانی مشترکہ سرخ لکیروں کا تعین کرکے، اور ناپسندیدہ کارروائیوں کو روک کر، اس محور کو ناپسندیدہ تنازعات میں کھنچ جانے سے روک دیتے تھے۔

رینڈ انسٹی ٹیوٹ آپریشنل تعاون کے تصور کو نمایاں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ مختلف اداکاروں کی کارروائیوں کا وقت اور دائرہ کار ہم آہنگ کرتے تھے تاکہ مسلسل لیکن کنٹرول شدہ دباؤ وجود میں آئے۔ اٹلانٹک کونسل انہیں غیر رسمی رہنما قرار دیتا ہے جن کی اتھارٹی میدانی تجربے، تعلقات کے نیٹ ورک اور تہران کی حمایت سے حاصل ہوتی تھی اور ممکنہ تنازعات کو منظم کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

کارنیگی اینڈومنٹ بھی اس بات پر زور دیتا ہے کہ انھوں نے اس محور کو ایک طویل مدتی منصوبے کے طور پر منظم کیا۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ انہیں تنازعات کا حتمی فیصلہ کرنے والا قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ بہت سی ممکنہ کشیدگیوں پر صرف ان کی براہ راست مداخلت سے ہی قابو پایا جا سکا۔

5. سیاست اور میدان کا جوڑنے والا

بروکنگز تھنک ٹینک کہتا ہے کہ جنرل سلیمانی نے وسیع پالیسی سازی اور میدانی نفاذ و انتظام کے درمیان خلا کو کم کیا اور تہران کے سیاسی مقاصد کو مخصوص عملی اقدامات میں تبدیل کر دیا، اور اسی حال میں، اس بات کا خیال رکھا کہ میدانی کارروائیاں سیاسی اور سفارتی سرخ لکیروں کو پار نہ کر جائیں۔

کونسل آن فارن ریلیشنز انہیں ایک ایسا فرد قرار دیتا ہے جو سیاست کا عملیات (یا کاروائی) کی زبان اور عملیات کا سیاست کی زبان میں ترجمہ کرتا تھا اور ایران کے میدانی فیصلے مخالفین کے لئے مخصوص اسٹراٹیجک پیغامات بھیجتے تھے؛ ایک ایسا کردار جو غیر ضروری شدت کو قابو کرنے یا مہنگی پسپائی کو روکنے کے لئے اسٹراٹیجک فلٹر کا کام دیتا ہے۔

سینٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سلیمانی کو سیاسی فیصلے اور فوجی عمل درآمد کے درمیان رابط حلقہ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ فیصلہ سازی کے عمل کو مختصر کرکے اور نوکرشاہی کی تہہوں کو ختم کرکے، ایران کے ردعمل کو تیز اور بامقصد بنایا اور عمومی پالیسیوں کو 'میدان میں' 'لچکدار فریم ورک' میں تبدیل کیا۔

رینڈ انسٹی ٹیوٹ انہیں آپریشنل خطرے اور سیاسی فائدے کو ہم آہنگ کرنے کا بنیادی عنصر قرار دیتا ہے اور زور دیتا ہے کہ تشدد کی سطح، کارروائیوں کے دائرہ کار اور اقدامات کا وقت مقرر کرنے کی صلاحیت نے ایران کو براہ راست جنگ کے بغیر اسٹراٹیجک اہداف کی حاصل کرنے کا موقع دیا۔

اٹلانٹک کونسل بھی اس بات پر زور دیتی ہے کہ ان کی رہنمائی میں میدانی اقدامات ہمیشہ ایک مخصوص سیاسی پیغام کی حامل تھے اور ایران کو تناؤ کی سطح منظم کرنے اور محدود تصادم کو مکمل جنگ میں بدلنے سے روکنے کا موقع دیتے تھے۔

کارنیگی اینڈومنٹ کہتا ہے کہ انھوں نے میدان کو سیاسی مذاکرات کا ذریعہ بنایا اور نئے سیاسی حقائق بنانے کے لئے کارروائیاں کیں تاکہ بعد میں انہیں ڈیٹرنس یا ضمنی معاہدوں میں مستحکم کیا جائے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ بھی خارجہ پالیسی اور کارروائیوں کے درمیان سرحد کے ختم ہونے کو نمایاں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کردار ایک فرد میں مرتکز ہونے سے فیصلہ سازی کی کارکردگی بڑھ گئی۔

6۔ غیر متناسب جنگوں (Asymmetric Warfare) اور فرسودہ کرنے والی جنگوں کے منتظم

بروکنگز تھنک ٹینک جنرل سلیمانی کو جنگ کی ایک ایسی طرز کے ڈیزائنر کے طور پر پیش کرتا ہے جس کا مقصد فوری فتح نہیں تھا، بلکہ حریف کی قوت کو بتدریج ختم کرنا تھا۔ وہ روایتی جنگ سے بچتے ہوئے مسلسل دباؤ ڈالتے تھے اور محدود حملے کرتے تھے تاکہ امریکہ کی ٹیکنالوجیکل برتری کو غیر مؤثر کیا جا سکے اور مقابلے کا میدان ایران کے لئے زیادہ پسندیدہ بن سکے۔

کونسل آن فارن ریلیشنز اس نقطہ نظر کو 'دہلیز کی جنگ' کا نام دیتی ہے کہتا ہے جو جان بوجھ کر مکمل جنگ کی سطح سے نیچے رہتی ہے اور تشدد اور وقت کی درست ترتیب کے ساتھ، دباؤ بڑھاتی ہے کسی فیصلہ کن اور وسیع ردعمل کو بھڑکائے بغیر۔

سینٹر فار اسٹراٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز انہیں ایک کثیر الجہتی غیر متناسب [Asymmetric] مہم کا منتظم قرار دیتا ہے جو حریفوں کو مسلسل ردعمل کی حالت میں رکھتے تھے اور انہیں متعدد محاذوں پر وسائل خرچ کرنے پر مجبور کرتے تھے اور اس طرح وقت ایران کے حق میں کام کرتا تھا۔

رینڈ انسٹی ٹیوٹ کہتا ہے کہ ان کا ارتکاز زمین پر قبضہ یا دشمن کی مکمل تباہی کی بجائے، مخالف فریق کے لاگت اور فائدے کے تخمینے تبدیل کرنے پر تھا تاکہ امریکہ کی 'کارروائیاں کرنے' کی 'آزادی' بتدریج محدود ہو جائے۔ اٹلانٹک کونسل ان کی فرسودہ کرنے والی جنگ (Wars of attrition) کی حکمت عملی کی بات کرتی ہے جس کا مقصد حریف کے سیاسی ارادے کو کمزور کرنا اور سماجی برداشت کو کم کرنا ہوتا ہے؛ محدود لیکن مسلسل کارروائیاں جو ایران کو میدان کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھنے کا امکان فراہم کرتی تھیں۔

کارنیگی اینڈومنٹ کہتا ہے کہ انھوں نے میدان کو سیاسی مذاکرات کا ذریعہ بنایا اور نئے سیاسی حقائق بنانے کے لئے کارروائیاں کیں تاکہ بعد میں انہیں ڈیٹرنس یا ضمنی معاہدوں میں مستحکم کیا جائے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ بھی خارجہ پالیسی اور کارروائیوں کے درمیان سرحد کے ختم ہونے کو نمایاں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کردار ایک فرد میں مرتکز ہونے سے فیصلہ سازی کی کارکردگی بڑھ گئی۔

کارنیگی فاؤنڈیشن بھی اسے ایک طویل جنگ قرار دیتی ہے جو امریکہ کی سیاسی پابندیوں اور عوام کی حساسیت کا فائدہ اٹھا کر واشنگٹن کی مسلسل موجودگی اور اخراجات کو مشکل بناتی تھی۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ بھی کہتا ہے کہ غیر متناسب جنگ ایران کی سیکورٹی پالیسی کے رویے کا معیار (Standered) بن گئی، اور تناؤ کی سطح کو کنٹرول کرکے، اور بتدریج دباؤ ڈال کر، ایران کے خلاف وسیع فوجی کارروائی کے لئے اتفاق رائے تشکیل پانے کا راستہ رو دیتی تھی۔

7۔ داعش کی شکست میں کلیدی کردار

مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ جنرل سلیمانی کو 'داعش مخالف محاذ' کو مستحکم کرنے اور اتحادی محاذوں کے بکھرنے سے روکنے میں مرکزی شخصیات میں سے ایک قرار دیتا ہے، اور ان کے کردار کو ایک طرح کے آپریشنل انتظام اور میدان کی منصوبہ بندی (Engineering of the field) کے طور پر پیش کرتا ہے؛ اتحادی انسانی وسائل اور افراد قوت کی ہم آہنگی سے لے کر علاقائی نیم فوجی صلاحیتیں منظم کرنے تک؛ جس نے دیگر عوامل کے ساتھ مل کر داعش پر مسلسل دباؤ قائم رکھا اور اس کی نقل و حرکت محدود کرنے میں مدد کی۔

کونسل آن فارن ریلیشنز ان کے ابھرنے کو عراق میں داعش کے عروج اور شام کے بحران کے پس منظر سے جوڑتا ہے، اور اشارہ کرتا ہے کہ داعش کے مرحلہ وار خطرے کے انتظام اور ایران اور اس کے اتحادیوں کی پوزیشن کو بکھرنے سے بچانے میں ان کا کردار نمایاں ہوجاتا ہے۔

امریکی پیس انسٹی ٹیوٹ بھی قتل کے نتائج کے زاویئے سے، زور دیتا ہے کہ جنرل سلیمانی کا قتل شام کی صورتحال اور داعش کے خلاف جنگ کے عمل پر اثر انداز ہو سکتا تھا، خاص طور پر ایسی صورت حال میں جب کہ عراق اور شام میں داعش کی واپسی کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس ڈھانچہ بندی سے معلوم ہوتا ہے کہ جنرل سلیمانی داعش کو لگام دینے کی فیلڈ ڈیزائننگ کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔

اٹلانٹک کونسل میدانی پہلو کے علاوہ سماجی اور علامتی پہلو کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے اور کہتی ہے کہ ایرانی عوام کے ہاں جنرل سلیمانی کو ایسی شخصیت اور کردار کے طور پر دیکھا جاتا ہے جنہوں نے داعش کے خطرے کو ایران کے لئے براہ راست خطرہ بننے سے باز رکھا، اور داعش کے معاملے سے یہی تعلق ان کے علامتی سرمائے اور ان کے حوالے سے سماجی بیانیے کو تشکیل دیتا ہے۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ عراقی گروپوں کا ایک حصہ داعش کے خلاف جنگ کے سیاق و سباق میں تشکیل پایا۔ اس تناظر میں جنرل سلیمانی کا کردار زیادہ تر ان قوتوں کے انتظام اور راہنمائی اور ان کی کارکردگی منظم کرنے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، یعنی یہ کہ داعش مخالف ہونا نہ صرف مقاومت کے نیٹ ورک کے قیام کی بنیاد تھا بلکہ ایک وسیع تر ایجنڈے تک پہنچانے کا پلیٹ فارم بھی تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: رضا حسینی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha