روزے کے آثار و برکات
روزہ
روزے کے آثار و برکات
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ؛ [1]
اے ایمان لانے والو!تم پر لکھ دیا گیا ہے روزہ رکھنا، جس طرح لکھا گیا تھا ان پر جو تم سے پہلے تھے، شاید کہ تم پرہیز گار ہو جاؤ"۔
تقویٰ کے معنی گناہ سے پرہیز کے ہیں۔ زیادہ تر گناہ کا سرچشمہ "غضب" اور "شہوت" ہے۔ اور روزہ ان دو جبلتوں کی تندیوں کا راستہ روک لیتا ہے چنانچہ اس سے فساد اور برائیوں میں کمی آتی ہے اور تقویٰ میں اضافہ ہوتا ہے۔ جس طرح کہ مذکورہ آیت کریمہ میں بھی تاکید ہوئی ہے: " لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ" اور احادیث شریفہ سے بھی ثابت ہے۔
تقویٰ اور خوف خدا، ظاہر اور باطن میں، روزے کا اہم ترین اثر ہے۔
روزہ واحد خفیہ عبادت ہے۔ نماز، حج، جہاد، زکوٰۃ اور خمس کو لوگ دیکھ لیتے ہیں لیکن روزہ دکھائی نہیں دیتا۔ روزہ انسان کے عزم و ارادے کو پختہ کر دیتا ہے، جو ایک مہینے تک روٹی پانی اور اپنے / اپنی شریک حیات کو ترک کر دے، وہ دوسروں کے مال و ناموس کے حوالے سے بھی اپنے اوپر قابو رکھ سکتا ہے۔ روزہ شفقت و مہربانی کے جذبے کو تقویت پہنچاتا ہے۔ جو شخص ایک مہینے تک بھوک اور پیاس کا مزہ چکھتا ہے، وہ بھوکوں اور فاقہ کشوں کے رنج اور تکلیف کو محسوس کرتا ہے اور اس کا ادراک کر لیتا ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتے ہیں:
"وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ؛ [2]
اور روزہ آدھا صبر ہے"۔
نیز تفسیر "روح البیان" میں بیان ہؤا ہے:
"وَالصِّيَامُ فِي الشَّرِيعَةِ هُوَ الْإِمْسَاكُ نَهَاراً مَعَ النِّيَّةِ مِنْ أَهْلِهِ عَنِ الْمُفْطِرَاتِ المَعْهُودَةِ الَّتِي هِيَ مُعْظَمُ مَا تشْتهِيهِ الْأَنْفُسُ وَهَذَا صَوْمُ عَوَامِّ الْمُؤْمِنِينَ وَأمَّا صَوْمُ الْخَوَاصِّ فَالْإِمْسَاكُ عَنِ الْمَنْهِيَّاتِ وَأَمَّا صَوْمُ أَخَصِّ الْخَوَاصُّ فَالْإِمْسَاكُ عَمَّا سِوَى اللَّهِ تَعَالَىٰ؛ [3]
شرع مقدس میں میں روزہ دن کے وقت ـ نیت کے ساتھ ـ ان مخصوص چیزوں سے پرہیز کرے جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، جن میں سے زیادہ تر وہ چیزیں ہیں جنہیں انسانی نفس چاہتا ہے؛ یہ مؤمنین میں سے معمولی افراد کا روزہ ہے۔ جہاں تک کہ خواص [یعنی خاص مؤمنین] کا تعلق ہے تو ان کے روزے میں اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں سے پرہیز بھی شامل ہے؛ اور جو خاص الخاص مؤمنین ہیں تو ان کے روزے میں اللہ کے سوا کسی دوسری چیز سے دوری بھی شامل ہے"۔
یعنی عام لوگوں کا روزہ یہ ہے کہ وہ مُفْطِرَات (یعنی کھانے پینے اور روزہ توڑنے والی چیزوں) سے دوری اختیار کرتے ہیں، خاص مؤمنوں کا روزہ گناہوں سے پرہیز پر بھی مشتمل ہے اور جو خاص الخاص ہیں ان کے روزے میں دل کو غیر اللہ سے بھی خالی رکھنا ہوتا ہے۔ بے شک روزہ انسان کو فرشتوں کی صفات سے متصف کر دیتا ہے جو کہ کھانے پینے اور شہوتوں سے دور ہیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَهُ إِيمَاناً وَاحْتِسَاباً غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ؛ [4]
جس نے ایمان اور پوری توجہ اور نیک نیتی سے، ماہ رمضان کا روزہ رکھا، اس کے سابقہ گناہوں کو بخش دیا جائے گا"۔
روزہ حدیث قدسی کی روشنی میں
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرمایا:
"الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أُجْزِي بِهِ؛ [5]
روزه میرا ہے اور اس کی جزا و پاداش میں ہی دیتا ہوں"۔
روزے کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ احادیث میں بہت سی عبادات کا ثواب کو روزے کے ثواب جتنا قرار دیا گیا ہے۔ گوکہ روزہ سابقہ امتوں میں پر بھی واجب تھا جیسا کہ آیت کریمہ میں بھی بیان ہؤا ہے: "۔۔۔ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ۔۔۔" [6] لیکن ماہ رمضان کا روزہ انبیاء کے لئے مختص تھا لیکن امت اسلامی کے تمام افراد پر واجب ہؤا ہے۔ امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا:
"إِنَّمَا فَرَضَ اللّهُ صِيَامَ شَهْرِ رَمَضَانَ عَلَى الْأنْبِيَاءِ دُونَ الْأُمَمِ، فَفَضَّلَ اللّهُ بهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ، وَجَعَلَ صيَامَهُ فَرْضاً عَلَى رَسُولِ اللّه ِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِه وَعَلَى أُمَّتِهِ؛ [7]
بلا شبہ اللہ نے فرض کیا ماہ رمضان کا روزہ پیغمبروں پر ان کی امتوں کے سوا؛ تو اس نے اس امت پر فضل فرمایا اور روزے کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) پر اور آپؐ کی امت پر"۔
امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"لِكُلِّ شَيْءٍ زَكَاةُ وَزَكَاةُ الْأَبْدَانِ الصِّيَامُ؛ [8]
ہر چیز کے لئے زکوٰۃ ہے اور جسموں کی زکوٰۃ روزہ ہے"۔
نیز امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرماتے ہیں:
"لِكُلِّ شَيْءٍ رَبِيعٌ وَ رَبِيعُ الْقُرْآنِ شَهْرُ رَمَضَانَ؛ [9]
ہر چيز کے لئے بہار ہوتی ہے اور قرآن کریم کی بہار، ماہ رمضان ہے"۔
روزہ داری کے آداب اور شرائط
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ؛ [10]
گنتی کے کچھ دن [جن میں تمہیں روزہ رکھنا پڑتا ہے] تو اب جو تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو اتنے ہی دن [جن میں تم روزہ نہیں رکھ سکے ہو] دوسرے ایام میں [روزہ رکھو] اور جن کے لئے روزہ رکھنا بہت مشکل ہےے تو [ہر روزے کے عوض] ایک محتاج کو کھانا کھلانا اس کا کفارہ ہے۔۔، اب اگر کوئی اپنی خوشی سے واحب کفارے کے ساتھ ساتھ کچھ بھلائی کرے تو اس کے لئے بہتر ہے۔ اور اگر روزہ رکھو تو اور بھی تمہارے لئے بہتر ہے، اگر تم [روزے کے فوائد] کو جانتے ہو"۔
اسلام میں ہر فرد کے لئے ـ ہر قسم کے حالات میں ـ مناسب قوانین موجود ہیں۔ اس آیت کریمہ میں مریضوں، مسافروں اور معمر افراد کے روزے کا حکم بیان ہؤا ہے۔ اگر انسان خاص حالات میں روزہ نہیں رکھ سکتا تو قضا کرے، تاکہ روزے کے فوائد سے بھی مستفید ہو سکے۔
اللہ کے فرامین کے سامنے سر تسلیم خم رکھنا، ایک "قدر" (Value) ہے؛ اور اگر اس نے روزے کا فرمان دیا تو روزہ رکھنا چاہئے اور اگر افطار [اور روزہ توڑنے] کا حکم دیا تو روزہ توڑنا چاہئے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ "سفر میں روزہ رکھنے والا، گھر میں روزہ توڑنے والے کی مانند ہے"۔ اور یہ کہ کچھ اصحاب نے سفر میں روزہ رکھا ہؤا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے روزہ توڑنے کا حکم دیا مگر کچھ نے لیت و لعل سے کام لیا تو آپؐ نے انہیں گنہگار قرار دیا۔ [11]
امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"لَوْ أَنَّ رَجُلًا مَاتَ صَائِماً فِي السَّفَرِ مَا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ؛ [12]
اگر کوئی سفر کے دوران روزے کی حالت میں وفات پا جائے تو میں اس کے جنازے پر نماز بجا نہیں لاؤں گا"۔
بہرحال اگر کسی نے سفر یا بیماری کی حالت میں روزہ رکھا تو اس کا روزہ باطل ہے۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"فَإِنْ صَامَ فِي السَّفَرِ أَوْفَى حَالِ الْمَرَضِ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ فِي ذَلِكَ؛ [13]
تو اگر کسی نے سفر میں یا بیماری کی حالت میں روزہ رکھا تو اس پر اس کی قضا واجب ہے"۔
امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے " وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ؛ جن کے لئے روزہ رکھنا بہت مشکل ہے"، کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ان میں وہ خواتین ـ جو اپنے بچے کے لئے فکرمند ہيں ـ اور عمر رسیدہ افراد شامل ہیں"۔ [14]
یعنی اگر ایک ماں اپنے بچے کو دودھ دیتی ہے اور دودھ کی قلت اور بچے کو بھوکا رہنے یا اپنے پیٹ میں بچے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو تو اس کو افطار کرنا چاہئے، اور یہ اللہ کی مہربانی اور شفقت کی نشانی ہے۔ ظاہر ہے کہ اسے دوسرے مہینوں میں اتنے ہی ایام قضا رکھنا پڑیں گے۔
افطار دینے کے بارے میں عمدہ نکات
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا:
"مَنْ فَطَّرَ صَائِماً فِي [ شَهْرِ] رَمَضَانَ عَلَى طَعَامٍ وَشَرَابٍ مِنْ كَسْبِ حَلَالٍ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ فِي سَاعَاتِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَصَلَّى عَلَيْهِ جِبْرِيلَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؛ [15]
جو بھی ماہ رمضان میں ایک روزہ دار کو حلال کمائی میں سے کھانے اور پانی سے افطار کرا دے، فرشتے ماہ رمضان کی تمام گھڑیوں میں اس پر درود بھیجتے ہیں اور جبرائیل (علیہ السلام) شب قدر اس پر درود بھیجتا ہے"۔
اقطار کرانا عبادت ہے بشرطیکہ نیت خالصہ کے ساتھ ہو، جیسا کہ خاندان رسالت نے اپنے افطار کے لئے تیار کردہ کھانا مسکین، یتیم اور اسیر کو عطا کیا اور ان سے مخاطب ہوکر فرمایا:
"إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ؛ [16]
ہم تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لئے کھانا کھلاتے ہیں"۔
افطار کرانا، در حقیقت مؤمنین کو کھانا کھلانا ہے جس کے امام جعفر صادق (علیہ السلام) نماز شب کے برابر اور باعث نجات و سعادت قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں:
"المُنجياتُ إطعامُ الطَّعامِ وإفشاءُ السَّلامِ والصَّلاةُ باللَّيلِ والنّاسُ نِيامٌ؛ [17]
نجات دینے والی چیزیں [تین ہیں]: کھانا کھلانا، بلند آواز سے سلام کرنا، اور راتوں کو نماز پڑھنا، جبکہ لوگ سو رہے ہوتے ہیں"۔
- افطار کرانا، مؤمنوں کا اکرام اور ان کے دلوں میں سرور پیدا کرنا ہے۔
- افطار کرانا مؤمنین کے درمیان دلجوئی، صلہ رحمی اور نفاق اور نفرت کے خاتمے کا سبب ہے۔
- افطار کرانا انسان کی اپنی اور اس کے اہل خانہ کی بخشش و مغفرت کا ذریعہ اور والدین کے ساتھ نیکی کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔
- افطار کرانا، دعوت، ارشاد اور ہدایت کا وسیلہ ہے۔
- افطار کرانے اور دعوت و ضیافت دینے کا مقصد خود نمائی اور خود ستائی اور بڑائی جتانا، ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔
- افطار یا عام ضیافت میں صرف امیروں، صاحبان حیثیت، اہل اقتدار اور صاحبان منصب کو ہی نہیں بلانا چاہئے، غرباء اور ناداروں اور مساکین کا خیال رکھنا چاہئے۔
- افطار دعوت کا دسترخوان، اللہ کی نافرمانی، گناہ، کسی کی تذلیل یا غیبت یا حق اور اہل حق کو نقصان پہنچانے کی بیٹھک نہیں بننا چاہئے۔
- افطار یا عام دعوت میں مدعو مہمانوں کی توفیر و تکریم لازمی ہے، ایسی دعوتوں کو مہمانوں کی بے حرمتی، ان کی شان میں بے ادبی اور اور ان کی تذلیل و تحقیرسے اجتناب کرنا چاہئے۔
- دعوتوں میں تکلفات [خود کو مشقفت میں ڈآلنا]، دکھاوا، کسی کو نیچا دکھانے کا ارادہ اور حسد نہیں ہونا چاہئے۔
- گھروالوں کو اذیت میں ڈالنا، جبر سے کام لینا اور دوسروں کو اذیت پہنچانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔
- حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کروائے اس کے لئے روزہ دار شخص کے روزے جتنا ثواب ہے: مَنْ فَطَّرَ صَائِماً فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ؛ [18]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: فرجت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
[1]۔ سورہ بقرہ، آیت 183۔
[2]۔ الدارمی، عبداللہ بن عبدالرحمن التمیمی السمرقندی، مسند الدارمی، المعروف بہ "سنن الدارمی"، ج1، ص519؛ الترمذی، محمد بن عیسىٰ، الجامع الکبیر المعروف بہ سنن الترمذی، ج5، ص420۔
[3]۔ حقی، اِسْماعیل بن مصطفی بُروسَوی (یا اسکداری)، تفسیر روح البیان، ج1، ص289۔
[4]۔ الشیخ الطوسی، محمد بن حسن، الامالی، ج1، ص149؛ علامہ مجلسی، بحار الأنوار، ج93، ص336؛ النوری الطبرسی، حسین بن محمد تقی، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، ج7، ص397؛ یہ حدیث صحیح بخاری سمیت اہل سنت کے معتبر مصادر میں منقول ہے۔
[5]۔ الحر العاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، ج7، ص294، ح15 و 16 و 27 و 30؛ یہ حدیث اہل سنت کے مصادر میں بھی منقول ہے۔
[6]۔ سورہ بقرہ، آیت 183۔
[7]. الشیخ الصدوق، من لا يحضرہ الفقيہ، ج2، ص99، ح1844۔
[8]۔ الشیخ المفید، محمد بن محمد، المقنعہ، ص304؛ الحر العاملی، محمد بن حسن، الفصول المہمہ، ج3، ص323؛ علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج60، ص380؛ صحیح بخاری، سنن ابن أبی شیبہ اور سنن ابن ماجہ میں مختصر سے اختلاف کے ساتھ منقول ہے: "لِكُلِّ شَيْءٍ زَكَاةُ وَزَكَاةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ"۔
[9]۔ الکلینی، محمد بن يعقوب الرازی، ج2، ص630۔
[10]۔ سورہ بقرہ، آیت 184۔
[11]۔ امین الاسلام الطبرسی، الفضل بن الحسن، ج2، ص10۔
[12]۔ الحر العاملی، وسائل الشیعہ، ج7، ص125۔
[13]۔ الحویزی، عبد علی بن جمعہ العروسی، تفسیر نور الثقلین، ج1، ص164۔
[14]۔ البحرانی، السيد ہاشم بن سلیمان الحسینی التوبلانی،البرہان فی تفسیر القرآن، ج1، ص398۔
[15]۔ المتقی الہندی، علی بن حسام الدین الہندی، کنز العمال، ج8، ص459۔
[16]۔ سورہ انسان، آیت 9۔
[17]۔ الکلینی، محمد بن یعقوب الرازی، الکافی، ج4، ص51؛ البرقی، أحمد بن محمد بن خالد، المحاسن، ج2، ص387۔
[18]۔ الکلینی، الکافی، ج4، ص68، ح1؛ شیخ صدوق نے بھی یہ حدیث شیخ محمد بن یعقوب کلینی کی طرح "صباح الکنانی" سے ہی نقل کی ہے لیکن اس کی عبارت یوں ہے "مَنْ فَطَّرَ صَائِماً فَلَهُ أَجْرٌ مِثْلُهُ"، (من لا یحضرہ الفقیہ، ج2، ص134)۔
آپ کا تبصرہ