بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ الجزیرہ کے مطابق، خلیج فارس میں مواصلاتی کیبلز اور ڈیٹا سینٹرز کو لاحق خطرات کے اثرات محض انٹرنیٹ کی بندش تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس طرح کے خطرات خطے کی ڈیجیٹل معیشت کو غیر مستحکم کر سکتے ہیں اور مصنوعی ذہانت (AI) میں سرمایہ کاری کے منظرنامے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ مزید برآں، یہ صورتحال عرب ریاستوں کی اس ساکھ پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے جس کے تحت انہیں ایک مستحکم اور محفوظ خطے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
دوسری اور آخری قسط:
سرمایہ کاری کے جغرافیے میں تبدیلی
الجزیرہ کے مطابق، کنگز کالج لندن میں سیکیورٹی اسٹڈیز کے لیکچرار، اینڈریاس کریگ (Andreas Krieg) کے مطابق، ان ابھرتے ہوئے خطرات سے خلیج فارس کی ریاستوں کے تکنیکی عزائم رک جانے کا امکان کم ہے؛ بلکہ، اگر حالات سازگار رہے تو "مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کی معاشیات اور جغرافیے" کو نئے سرے سے تشکیل دیں گے۔
نتیجتاً، سرمایہ کاری کے فیصلے اب صرف توانائی کی لاگت، سرمائے تک رسائی، یا حکومتی مراعات جیسے عوامل پر منحصر نہیں رہیں گے۔ اس کے بجائے، ڈیٹا سینٹرز کی جسمانی حفاظت (Physical Safety)، مواصلاتی راستوں کا تنوع، اور جنگی حالات میں بھی کام جاری رکھنے کی صلاحیت، فیصلہ کن عوامل بن جائیں گے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں اس بات پر نظرِ ثانی کی جا سکتی ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کہاں قائم کئے جائیں اور ڈیٹا کی ترسیل کے راستے کس طرح ترتیب دیئے جائیں۔
تاہم، متبادل راستے قائم کرنا بذاتِ خود کافی نہیں ہے؛ کیونکہ ڈیٹا سینٹرز بنیادی طور پر پاور گرڈز، ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر اور آپریشنل سیکیورٹی پر انحصار کرتے ہیں۔ مزید برآں، ان میں سے کچھ صلاحیتوں کو خلیج فارس کی ریاستوں کی سرحدوں سے باہر منتقل کرنا ان کی ان پالیسیوں سے متصادم ہو سکتا ہے جن کے تحت حساس ڈیٹا کا ملک کے اندر ہی محفوظ کرنا لازمی تھا۔
جنگ نے خلیج فارس کی ریاستوں میں استحکام کے دعوے کو چیلنج کیا
اس تناظر میں، جنگ نے اس تاثر کو چیلنج کیا ہے جسے خلیج فارس کی عرب ریاستوں نے برسوں کی محنت سے قائم کیا تھا: یعنی ایک غیر مستحکم خطے کے اندر ایک محفوظ اور مستحکم ماحول قائم کا تاثر۔
کریگ نے الجزیرہ کو بتایا کہ خلیج فارس کی ریاستیں طویل عرصے سے خود کو ایک غیر مستحکم ماحول کے درمیان ایک 'مستحکم خطے' کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں ـ ایک ایسا دعویٰ جسے اب جنگ نے متنازعہ بنا دیا ہے۔
ٹیکنالوجی کی تنصیبات پر حملے اور بعض بنیادی ڈھانچوں کی بحالی میں پیش آنے والی رکاوٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حتیٰ بالفرض اگر سیاسی اور معاشی استحکام موجود بھی ہو، یہ ڈیجیٹل سرمایہ کاری کی حفاظت کی ضمانت دینے کے لئے کافی نہیں ہے۔
خطے کی مختلف ریاستوں میں زدپذیری (vulnerability) کی سطح مختلف ہے۔ کریگ کے جائزے کے مطابق، متحدہ عرب امارات کو ایک بڑے خطرے کا سامنا ہے، جس کی وجہ، اس کی مصنوعی ذہانت (AI) کی حکمت عملی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ گہرا انضمام ہے۔
دراصل، یہ معاملہ محض کیبلز کے کٹ جانے یا ڈیٹا سینٹر کے ناکام ہونے کے خطرے تک محدود نہیں ہے؛ اصل تشویش یہ ہے کہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ سیاسی مسابقت اور سودے بازی کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔
کریگ کے جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے، الجزیرہ نے نشاندہی کی ہے کہ ایران خطے کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت پر اسی قسم کا دباؤ ڈال سکتا ہے جیسا کہ وہ خلیج فارس کی سمندری معیشت پر پہلے ہی ڈال چکا ہے۔
ان حالات میں، خلیجی ریاستوں کے مصنوعی ذہانت سے متعلق عزائم کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ وہ بحران کی صورتحال میں اپنے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت اور اس کے کام کاج کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ