22 اکتوبر 2026 - 22:03
ٹرمپ نے بن سلمان یمن کے خلاف اکسایا /  ذمہ دار سعودی عرب اور ٹرمپ ہیں، جان میئر شیمر

شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر کا خیال ہے کہ امریکہ اور اس کے یورپی و عرب اتحادی ایران، یمن اور روس کے خلاف تینوں جنگوں میں ناکام ہو چکے ہیں؛ وہ زور دیتے ہیں کہ امریکہ کی ایران، محورِ مقاومت، چین اور روس سے دشمنی جاری رہے گی مگر وہ دشمنانہ رویے اور فوجی طاقت کے استعمال سے اپنے سیاسی اہداف حاصل نہیں کر سکتا۔ / آل سعود کو امریکی ضمانتوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ڈاکٹر میئر شیمر کہتے ہیں کہ بن سلمان نے ٹرمپ کی اکسانے پر یمن کے خلاف جنگ شروع کی؛ اور آخر میں وہ وضاحت کرتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی یوکرین کو ایک 'شکست سے دوچار جنگ' جاری رکھنے پر اکساتے ہیں۔ میئر شیمر بالآخر نتیجہ لیتے ہیں کہ امریکہ اور مجموعی طور پر مغرب تینوں جنگوں (یوکرین جنگ، ایران جنگ اور یمن جنگ) میں ناکام ہو چکا ہے اور اس کی وجہ سے عالمی سطح پر نیا کثیر قطبی نظام تیزی سے تشکیل پا رہا ہے۔

امریکی پروفیسر اور سیاسی سائنسدان جان میئر شیمر نے کہا:

ٹرمپ نے بن سلمان اکسایا /  نئی جنگ کے ذمہ دار سعودی عرب اور ٹرمپ پر ہیں

• ٹرمپ نے جولائی 2026 میں آل سعود کو یمنی مقاومت کے ساتھ دوبارہ جنگ شروع کرنے کی ترغیب دی۔

• ریاض نے حملے سے پہلے ٹرمپ کی رائے معلوم کی تھی اور ٹرمپ نے اسے اس جنگ کی ترغیب دی۔ اور

• نئی جنگ کے آغاز کی ذمہ داری سعودی عرب اور ٹرمپ پر ہے، انصاراللہ پر نہیں۔

• سعودی عرب کو اس جنگ میں سنگین رکاوٹوں کا سامنا ہے اور آل سعود تنازع کا نتیجہ بدلنے کے لئے امریکی فوجی حمایت پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔

• یمنی مزاحمت نے 8 سالہ جنگ میں سعودیوں کی فوجی طاقت کو بے اثر کر دیا اور اس جنگ کو تعطل کا شکار کر دیا۔

• سعودی عرب انتہائی نازک صورتحال سے گذر رہا ہے اور یمنی افواج اب برتر مقام پر ہیں غالب طاقت ہیں۔

آل سعود کو امریکی ضمانتوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا

• ریاض کے لئے واشنگٹن کی ضمانتیں محدود ہیں؛ ٹرمپ بن سلمان کی درخواستوں کو نظر انداز کرتا ہے اور ستمبر میں تین مرتبہ بن سلمان کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

• امریکہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران بھی سعودی عرب کی سلامتی کو یقینی نہیں بنا سکا۔

• ریاض برسوں کاغذ پر واشنگٹن کی حمایت سے مستفید رہا، لیکن عملی میدان میں ان حمایتوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکا اور مستقبل میں بھی سعودی حکومت کو خطے کے بے شمار خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

• بن سلمان کو یقین رکھنا چاہئے کہ امریکہ فیصلہ کن لمحے میں اس کے دفاع کے لئے کارروائی نہیں کرے گا۔

یورپ اور امریکہ یوکرین کو ایسی جنگ جاری رکھنے پر اکسانے میں مصروف ہیں جس میں وہ شکست کھا چکا ہے

• یوکرین روس کے ساتھ جنگ میں شکست سے دوچار ہے۔

• روس فرسودہ جنگ کردینے والی طویل جنگوں (War of attrition) میں برتری رکھتا ہے اور یوکرین کو، اپنی فوجی طاقت کی محدودیت کے پیش نظر، طویل مدت میں روس کے سامنے فتح کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔

• مغربی پالیسیاں اور کیئف کی فوجی حمایت یوکرین کی جنگ جاری رہنے کی بنیادی وجہ ہیں اور واشنگٹن اور یورپی اتحادی اپنے اہداف کے لئے اسے طویل تر کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔

• اس جنگ میں جامع امن کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کیونکہ ماسکو کے بنیادی مطالبات یوکرین اور مغربی ممالک کے موقف سے بہت دور ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha