19 اکتوبر 2026 - 22:39
4 | یمن ترک-پاکستانی فوجیوں کا قبرستان؟ / عثمانیوں کو دیا گیا ناقابل فراموش درس عبرت! + اختتامی نکتہ

یمن میں موجود ترک جارحین و غاصبین کے قبرستان ـ جو آل سعود کی خيانت سے زوال پذیر ہونے والے عثمانی استعمار کی علامت ہیں ـ ان دنوں یمنی مجاہدین کے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں، اور یہ اس وقت ہؤا ہے جب ترک حکمرانوں نے عثمانی سلطنت سے غداری کرنے والے خاندان آل سعود کی استعماری پالیسی آگے بڑھانے میں ہاتھ بٹانے کے لئے یمن میں فوجی مداخلت کا اعلان کیا۔ / سرزمین یمن میں عثمانی دور کے قبرستان درحقیقت عثمانیوں کی استعماری موجودگی کی علامت تھے۔ ان یادگاروں پر جان بوجھ کر حملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انصاراللہ، یمن میں عثمانی فوجی مہمات کو، کس انداز سے یاد کرتے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جیسا کہ سعودی سے وابستہ خبر رساں ایجنسیوں نے اعلان کیا ہے کہ سعودی فوج کی صفوں میں ترک اور پاکستانی فوجیوں کی شمولیت کے ساتھ ہی "مکہ معاہدہ" کا نفاذ نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

چوتھی اور آخری قسط:

صدیوں تک، یہ یادگار یمن میں عثمانی موجودگی کی علامت رہی ہے۔ اس یادگار پر جان بوجھ کر حملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انصاراللہ یمن میں عثمانی فوجی مہمات کو کس طرح یاد کرتے اور کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

یہ انقرہ کے لئے بھی ایک واضح پیغام تھا کہ وہ یمن میں ترکیہ کی کسی بھی مداخلت کو قبول نہیں کریں گے۔

[یمنی مصنفہ] عہد  یاسین التمیمی نے "پولیٹکس ٹوڈے" میں لکھا: "1962 کے بعد منظور شدہ تاریخ کی کتابیں عثمانی سلطنت اور یمن پر اس کی حکمرانی کو مثبت نگاہ سے پیش کرتی تھیں۔ تاہم، یہ سرکاری رویہ، زیدی تحریک کے حامیوں کو عثمانی سلطنت کے بارے میں اپنا سخت اور ٹھوس موقف برقرار رکھنے سے باز نہیں رکھ سکا۔"

التمیمی کے مطابق: "یقیناً، ترکیہ ایک طاقتور فوجی طاقت ہوگی اور یمن میں اس کا اثر و رسوخ بھی وسیع ہوگا؛ اور یہ بھی شاید درست ہے کہ ترکیہ نے شام، لیبیا میں بھی اور عراق میں کرد باغیوں کے خلاف جنگ میں بھی، نمایاں فوجی کامیابیاں حاصل کی ہونگی؛ یہ بھی درست ہوگا کہ ترکیہ کی طرف سے آذربائیجان کی فوجی حمایت ہی شاید آرمینیا کے خلاف اس ملک کی کامیابی میں فیصلہ کن عنصر رہی ہو؛ مگر یمن کا معاملہ ہی کچھ اور ہے، یمن بالکل ایک مختلف کھیل ہے۔

التمیمی لکھتی ہیں: اگر معیار "تاریخ" ہو تو یمن، تاریخ میں "عثمانیوں کا قبرستان" کہلاتا ہے، یمن ایک بار پھر ترکوں کا قبرستان بن سکتا ہے۔

اختتامی نکتہ:

گویا اس یمنی مصنفہ کا پیغام رجب طیب اردوان کے لئے بھی اور پاکستانی فوجی اشرافیہ اور پاکستانی فوج کے سیاسی شعبے "اسلام آباد حکومت" کے لئے بھی یہ ہے کہ انہیں یہ بھی قبول کرنا پڑے گا کہ عثمانیوں کا وارث کہلوانے والے رجب طیب اردوان اور ان کے پاکستانی ساتھی، وسیع پیمانے پر اپنے ـ سعودی جارحیت مستحکم کرنے والے ـ سینکڑوں یا حتی کہ ہزاروں فوجیوں کی لاشیں وصول کرنے کے لئے تیار رہیں۔

یمنیوں نے حال ہی میں امریکہ کو بحیرہ احمر سے پسپائی اور اپنے ساتھ جنگ بندی پر مجبور کر دیا ہے اور امریکہ آج بھی یمن کے معاملات میں براہ راست مداخلت سے خوفزدہ ہے؛ چنانچہ جارحین ان کے لئے ایک جیسے ہیں، خواہ وہ امریکی یا سعودی ہوں خواہ ترکی اور پاکستانی، خواہ عثمانی اور مصری ہوں خواہ کسی اور خطے میں آنے والے!

امر مسلّم یہ ہے کہ یمن کی سرزمین جارح فوجیوں کی صحت کے لئے مضر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha