بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، سلامتی کا جو نظام واشنگٹن نے کئی دہائیوں تک جنوب مغربی ایشیا کے خطے پر مسلط کرنے کے لئے تعمیر کیا تھا، اب ایران کی نئی تسدیدی طاقت کے سامنے ایک تزویراتی تعطل سے دوچار ہے۔ امریکی سمندری ہتھیاروں کو نشانہ بنانے میں ایران کی فوجی کامیابی، روایتی بحری تسلط سے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے تسلط کے دور میں ایک تکنیکی منتقلی کی مانند ہے، جس نے طاقت کا توازن امریکہ کے نقصان میں، بدل دیا ہے، جس نے خود اس جنگ کا آغاز کیا تھا۔ اس فوجی تبدیلی نے نہ صرف ایران کی مقامی صلاحیت کے سامنے امریکہ کی بازدارندگی کی ساکھ کو مجروح کیا ہے، بلکہ اس ملک کی خطے میں فوجی موجودگی کی صلاحیت میں کمی کے ساتھ، خطے کی سرحدوں سے امریکہ کے حتمی انخلا کو پہلے سے کہیں زیادہ ایک سنجیدہ اور قابل بحث موضوع بنا دیا ہے۔

اسی سلسلے میں، امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل اور اس وقت کے وزیر خارجہ "کولن پاول" کے سابق چیف آف اسٹاف "لارنس ویلکرسن" (Col. Lawrence Wilkerson) نے ابنا نیوز ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے، ایران کی حالیہ کامیابیوں کے بارے ـ جن میں امریکی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا اور یہ کہ خلیج فارس میں طیارہ بردار جہازوں اور متعلقہ نیوی گروپوں کا محفوظ رہنے کا دور ختم ہو گیا ہے، ـ کہا: "اب امریکہ کا حتمی مقصد آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے بحری راستوں کو کھولنا اور معمول کے مطابق فعال ہونا ہے، جبکہ مستقبل قریب میں ان خواہشوں کو حقیقت میں بدلنے کا کوئی حقیقی امکان نظر نہیں آتا۔ موجودہ صورتحال کی زیادہ درست تصویر ایک بہت مہنگا تعطل یا حتیٰ کہ ایک سامراجی شکست (Imperialistic defeat) ہے۔ تاہم، ایک وسیع تر مفہوم میں، بیلسٹک میزائل جو ایران استعمال کر رہا ہے، اس حقیقی صلاحیت کے حامل ہیں کہ وہ زمینی طاقت کی طاقت بحری طاقت پر بڑی فتح کے عمل کو تیزتر کریں؛ ایسی فتح جس کی جڑیں کم از کم تین ہزار سال پرانی ہیں۔"
میزائل اور ڈرون بمقابلہ طیارہ بردار جہاز
کرنل ویلکرسن نے مزید کہا: "کچھ تجزیہ کار پہلے کہہ چکے ہیں کہ یوکرین نے ڈرون استعمال کرتے ہوئے روسی بحریہ کو عملاً گھر بٹھا دیا ہے اور بندرگاہوں پر واپس جانے پر مجبور کر دیا ہے؛ لیکن ایسے دعوؤں سے ظاہر ہوتا ہے ان لوگوں نے زمینی اور سمندری طاقت کی نوعیت کی غلط سمجھا ہے؛ کیونکہ روسی دونوں میدانوں میں 'کسی حد تک!' مقامی برتری رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، روس جو کچھ یوکرین کے ساتھ کر رہا ہے وہ اس کی مکمل تباہی پر منتج ہوگا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ