بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری، میجر جنرل محسن رضائی نے آج ہفتے کی شام الجزیرہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ایران کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جائزے اور اندازے غلط تھے۔
میجر جنرل رضائی نے کہا: جنگ نیتن یاہو کی اشتعال انگیزی سے شروع ہوئی اور واشنگٹن کے لئے فائدے کی بات ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لئے ہماری شرائط مان لے۔
انھوں نے کہا: ٹرمپ کی دھمکیوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ ایران ایک فیصلہ کن جنگ کے لئے تیار ہے۔ ہم امریکی فوج کی کمزوریوں سے واقف ہیں اور اس کے فضائی حملوں سے نمٹنے کے لئے پہلے سے زیادہ تیار ہیں۔
جنرل رضائی نے کہا: امریکہ کے مفاہمت نامے سے نکلنے کے بعد ایران نے اس ملک کے بارے میں اپنی حکمت عملی بدل دی، چنانچہ اگر ہم پر حملہ ہؤا تو ہم خطے میں امریکی اڈوں اور مفادات کو پہلے سے زیادہ طاقت سے نشانہ بنائیں گے۔
میجر جنرل رضائی نے کہا: ایران نے حال ہی میں ایک امریکی طیارہ بردار جہاز کے قریب ایک اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
این پی ٹی سے ایران کی علیحدگی امریکہ کے رویئے پر منحصر ہے
انھوں نے مزید کہا: قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور ہم نے اپنی شرائط مذاکرات کے لئے انہیں بتا دی ہیں؛ قطر نے جنگ کے خاتمے کے لئے ایران کی شرائط امریکہ تک پہنچا دی ہیں، اور ہم ان شرائط پر ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں: تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ہمارے منجمد اثاثوں کی آزادی اور بحری محاصرے کا خاتمہ۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے مزید کہا: امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات ہمیں یہ اجازت دیتے ہیں کہ ہم جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے معاہدے (NPT) سے نکل جائیں۔ ہم نے اس بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا، لیکن یہ معاملہ امریکہ کے رویئے پر منحصر ہے۔
میجر جنرل رضائی نے کہا: ایران اب بھی جوہری ہتھیار کی حرمت کے بارے میں انقلاب اسلامی کے رہبرِ شہید کے فتویٰ پر قائم ہے، ہم نے اپنا جوہری نظریہ نہیں بدلا، لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔
انھوں نے یمن اور سعودی عرب کی جنگ کے بارے میں بھی کہا: ہم سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یمنی بھی سعودی عرب کے ساتھ سمجھوتے کے خواہاں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ