بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا؛ جیو پولیٹیکل تجزیہ کار آرنو برٹرینڈ (Arnaud Bertrand) نے کہا کہ اگر چین نے اس سال تیل کی درآمدات میں زبردست کمی نہ کی تو خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی، اور عالمی معیشت کو اپنے ساتھ لے ڈوبے گی۔ یہ وہ نظریہ ہے جس سے دوسرے تجزیہ کاروں نے بھی اتفاق کیا ہے۔
دوسری اور آخری قسط:
بریٹرینڈ کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے لازماً عالمی معیشت بچانے کے لأے کام نہیں کیا؛ بلکہ، چونکہ چینی معیشت کا پیمانہ بہت وسیع ہے، چنانچہ اپنی معیشت کے تحفظ کے لئے چین کی کوششوں کا نتیجہ عالمی سطح پر اثرانداز ہؤا۔
یہ تجربہ ایران کے لئے بھی ایک اہم سبق کا حامل ہے: توانائی کی طاقت صرف تیل اور گیس کے ذخائر پر منحصر نہیں ہے؛ بلکہ اس کا دارومدار بحران سے نمٹنے کی صلاحیت، معاشی تنوع، اور دیگر ممالک پر انحصار کم کرنے کی اہلیت پر بھی ہے۔
اس تناظر میں، چینی سفیر زونگ پی وو (Zong Peiwu) کی جانب سے ’فارس نیوز ایجنسی‘ کے ایک رپورٹر کو دیا گیا جواب زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
اب شاید چین کے سفیر زونگ پی وو کا فارس کے نامہ نگار کے اس سوال کا جواب، جو انھوں نے چین کے تزویراتی ذخائر کی آزادی اور امریکی صدر کے دورہ چین کے بعد بیجنگ کی ایران کی حمایت نہ کرنے کی افواہ کے بارے میں دیا تھا، زیادہ معنی خیز ہو جاتا ہے۔ انھوں نے کہا: "کوئی بھی تیسرا فریق دونوں ملکوں کے اقتصادی تعاون پر اثرانداز نہیں ہوتا۔ چینی فریق ایران کے جامع اسٹراٹیجک پارٹنر کی حیثیت سے اب بھی ایران کی حمایت کرتا ہے تاکہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی اور وقار کا دفاع کر سکے۔"
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے ساتھ اسٹراٹیجک شراکت داری کو اس انداز میں آگے بڑھایا گیا ہے جس سے بیک وقت بیجنگ کے اپنے قومی مفادات کا بھی تحفظ ہوتا ہے۔
برٹرینڈ (Bertrand) کہتے ہیں کہ ایران کی صورتحال سے جڑے بحران ـ اور اس کے نتیجے میں عالمی تیل کی منڈی میں پیدا ہونے والے خلل ـ نے چین کی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے، جبکہ اس کے برعکس امریکہ اور عالمی توانائی کے نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست تصادم میں الجھے بغیر تیل کے بحران (oil shock) کو سنبھال کر، بیجنگ نے اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھا دیا ہے۔ چونکہ عالمی تیل کی منڈی بحران کا شکار تھی، اسی لئے چین کے اندرونی فیصلوں نے تیل کی قیمتوں اور دیگر ممالک کی خام تیل تک رسائی، دونوں پر اثر ڈالا۔ اس طرح، عالمی توانائی کی مساوات (global energy equation) میں چین کی اہمیت میں اضافہ ہؤا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ