بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسکاٹ لینڈ کی سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی میں اسٹریٹجک اسٹڈیز کے پروفیسر فلپس پیسن او برائن (Phillips Payson O'Brien) نے ـ دی اٹلانٹک میں ایک مضمون میں ـ ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
چوتھی قسط:
وہ اتحادی جن کی امریکہ کو پہلے سے زیادہ ضرورت ہے
روایتی طور پر امریکہ اپنی طاقت مضبوط کرنے کے لئے اپنے اتحادیوں کا سہارا لے سکتا تھا؛ جو ممالک واشنگٹن کے ساتھ اقدار یا کم از کم مفادات میں اشتراک رکھتے تھے، امریکہ کو فوجی اڈے دے دیتے، اس کے سفارتی اقدامات کی حمایت کرتے، معلومات فراہم کرتے اور امریکی قیادت میں فوجی کارروائیوں کی معاونت کے لئے دستے اور ساز و سامان بھیجتے تھے۔
آج بھی امریکہ کے روایتی اتحادیوں کے پاس ایسی صلاحیتیں ہیں جن کی واشنگٹن کو اشد ضرورت ہے: جاپان اور جنوبی کوریا [چین کے بعد] بالترتیب دنیا کی دوسری اور تیسری بڑی [بحری] جہاز ساز قوتیں ہیں۔
لیکن امریکی حکومت یہ تسلیم کرنے کے بجائے ـ کہ اسے پہلے سے کہیں زیادہ ان اتحادیوں کی ضرورت ہے، ـ ان حکومتوں کو جو دہائیوں سے امریکی قیادت کی پیروی کر رہی ہیں، مفت خورے، رَنج آوَر، تکلیف دہ اور پریشان کن اور حتیٰ اپنی راہ میں رکاوٹیں، سمجھتی ہے۔
ٹرمپ نے حال ہی میں جنوبی کوریا پر تنقید کی اور اس کے بدلے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون (Kim Jong Un) کے ساتھ بہترین تعلقات کی تعریف کی۔
امریکہ کی یورپ سے دوری
یورپ میں بھی امریکی حکومت نے دیرینہ اتحادیوں سے اپنا فاصلہ بڑھا دیا ہے اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سے قریب ہو گئی ہے!
ٹرمپ وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد یورپ کے لئے امریکہ کی سیکیورٹی ضمانتوں کی سطح کم کر دی ہے۔
پینٹاگون نے اس سال کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ جرمنی سے پانچ ہزار امریکی فوجی نکالنے کا ارادہ رکھتا ہے اور امریکی حکومت نے بھی یورپ میں اپنی نفریوں کی تعیناتی کی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، ایسا اقدام جو مزید قلتوں اور کمزوریوں کا عندیہ دیتا ہے۔
امریکہ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ یورپ کے دفاع کی ذمہ داری ـ پہلے سے زیادہ ـ خود یورپیوں کے سپرد کرنا چاہتا ہے۔ یورپی زعما نے نے بھی ان اقدامات کو سنجیدہ سے لیا ہے اور امریکہ پر کم انحصار کی منصوبہ بندی کرنے لگے ہیں۔
جرمنی اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا برطانیہ کے جوہری ہتھیاروں کی تقویت اور تجدید کے اخراجات میں حصہ ڈال دے یا نہیں! تاکہ امریکہ کے انخلا کی صورت میں یورپ کو جوہری تسدید حاصل ہو۔
کینیڈا کے ساتھ کشیدگی اور اتحادوں کی نئی تعریف
امریکہ نے حتیٰ کینیڈا کو بھی اپنے سے دور کر دیا اور ٹرمپ نے بارہا اپنی اس خواہش کو دہرایا ہے کہ کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنا دیا جائے۔
ٹرمپ نے ایک تجارتی جنگ بھی شروع کر دی جو اس کے بقول کینیڈا کی معیشت کے لئے تباہ کن ہو گی۔
امریکیوں نے اب دوسری بار ایسے صدر کو منتخب کیا ہے جو واضح طور پر ـ "صفر حاصل جمع - (Zero-sum)" والے تعلقات کے طور پر ـ روایتی اتحادوں کی نئی تعریف کرنا چاہتا ہے، ایسے تعلقات جن میں امریکہ کو کم ذمہ داری اور اس کے سابق شرکا کو زیادہ ذمہ داری سنبھالنا ہو گی۔
ان ممالک کے سربراہان اور رائے دہندگان منطقی طور پر اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ امریکی اس حقیقت کو نہیں جانتے یا اسے اہمیت نہیں دیتے کہ وہ کیا کچھ کھو رہے ہیں۔
امریکیوں نے برسوں کینیڈا کے ساتھ پرامن انضمام سے فائدہ اٹھایا ہے۔
ایران کے خلاف امریکی جنگ میں یورپ کے کردار کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ یورپ میں اپنے اڈوں کے وسیع جال کی وجہ سے کسی حد تک ایران کے ساتھ جنگ میں داخل ہو سکا چنانچہ دیرینہ اتحادوں میں خلل پڑنے سے امریکہ کی عالمی حیثیت پر سنگین اثرات مرتب ہونگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از: میثم یعقوبی
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ