بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسکاٹ لینڈ کی سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی میں اسٹریٹجک اسٹڈیز کے پروفیسر فلپس پیسن او برائن (Phillips Payson O'Brien) نے ـ دی اٹلانٹک میں ایک مضمون میں ـ ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
دوسری عالمی جنگ کے بعد شروع ہونے والا امریکی دور جلد یا بدیر ختم ہونا تھا، لیکن اس لمحے کی 'تیزرفتار آمد' حیران کن ہے۔
گذشتہ چھ مہینوں کے دوران امریکہ کی وہ طاقت جو دہائیوں سے دنیا کے بہترین جنگی ساز و سامان، تربیت یافتہ فوجی دستوں، عالمی سطح پر پھیلے اڈوں اور رسد کے نظام اور مختلف ممالک کے ساتھ فوجی و سفارتی تعاون کے مجموعے کی بنیاد پر جانی پہچانی جاتی تھی، ایران کو شکست دینے کے لئے کافی نہیں تھی۔
ایران نے اپنے سستے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکہ کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف امریکہ کی صلاحیتوں کو کمزور نہیں کیا، بلکہ ایران کے خلاف اس کی جنگ نے واضح کیا ہے کہ عالمی طاقت کی بنیادی حرکیات کس قدر بدل چکی ہیں اور امریکی فوجی طاقت کس حد تک فرسودہ ہو چکی ہے۔
مغربی ایشیا میں امریکی اڈوں کی زد پذیری
دوسری عالمی جنگ کے بعد کے دور میں انگلستان کے مغربی ایشیا سے انخلا کے بعد امریکہ اس ہنگامہ خیز خطے کی سب سے اہم فوجی طاقت بن گیا تھا۔
سنہ 1980ع میں صدر جمی کارٹر کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ خلیج فارس سے دنیا بھر کو تیل اور دیگر اشیاء کی آزادانہ ترسیل کی ضمانت دے گا۔
کارٹر نظریئے کی کامیابی کے لئے ضروری تھا کہ مخالف حکومتیں، جن میں اس وقت سوویت یونین اور تازہ تأسیس اسلامی جمہوریہ ایران بھی شامل تھے، یہ یقین کر لیں کہ امریکہ ہر اس ملک کے خلاف فیصلہ کن فوجی کارروائی کر سکتا ہے اور کرے گا جو آبنائے ہرمز بند کرنے کی جرأت کرے، وہ آبنائے جس سے برسوں تک دنیا کے بڑے حصے کو تیل اور دیگر اہم اشیاء فراہم ہوتی رہی ہیں۔

ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے تک ایران کے آس پاس امریکی اڈوں کا جال اس ملک کے سربراہان کو یہ کافی دلیل دیتا تھا کہ وہ فکرمند رہیں اس سے کہ آبنائے ہرمز پر قابو پانے کی کوشش کی صورت میں ان پر فوجی دباؤ ڈالا جائے گا، لیکن اب ایرانی حکومت قائم ہے اور ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور ڈرون حملے امریکی فضائی دفاعی نظاموں کو عبور کرنے اور امریکہ کی کئی فوجی تنصیبات کو ناکارہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔
جنگ شروع ہونے کے دو ہفتے سے بھی کم عرصے بعد ہی نیویارک ٹائمز نے 17 امریکی اڈوں، فضائی دفاعی تنصیبات اور سفارتی مراکز کی نشاندہی کی جو حملے کا نشانہ بنے تھے۔ ان اہداف میں امریکی فوجی تعیناتی اور معاونت کے کچھ اہم مقامات بھی شامل تھے، جن میں بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا مرکز اور کویت میں علی السالم ایئر بیس، کیمپ عریفجان اور کیمپ بوہرنگ (العدیری) شامل تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از: میثم یعقوبی
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ