8 ستمبر 2026 - 17:52
آبنائے ہرمز کے رقبے سے بھی زیادہ جھوٹ؛ ٹرمپ کا عالمی-تاریحی ریکارڈ

اس [ہرمز] کا نام صحیح معنوں میں 'تنگہ' (آبنائے یا تنگ راستہ) ہے، لیکن اس کی لمبائی اور چوڑائی دسوں کلومیٹر پر محیط ہے۔ یہ اپنے دونوں اطراف کے مقابلے میں دنیا کی دوسری بظاہر تنگ تزویراتی آبی گذرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اس کا نام صحیح معنوں میں 'تنگہ' (آبنائے یا تنگ راستہ) ہے، لیکن اس کی لمبائی اور چوڑائی دسوں کلومیٹر پر محیط ہے۔ یہ اپنے دونوں اطراف کے مقابلے میں دنیا کی دوسری بظاہر تنگ تزویراتی آبی گذرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

آج پوری دنیا کے لوگوں کی  نظریں، عالمی معیشت میں اس آبی گذرگاہ کی اہمیت کی بنا پر، اس [آبنائے] پر لگی ہوئی ہیں؛ کیونکہ مغربی ایشیا کے تزویراتی علاقے کے بہت سے مسائل کا حل، نیز بین الاقوامی ماحول میں مستقبل کا نظام، اس آبنائے میں سیکیورٹی انتظامات کی تشکیل کے طریق کار پر منحصر ہے۔

آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی نظام اور انتظامات کی تشکیل میں، دو ایرانی اور امریکی نقطہ ہائے نظر ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں۔

ایران اور امریکہ کی قیادت میں عالمی استکبار کے محاذ کے درمیان جاری تزویراتی اور فیصلہ کن جنگ اور تصادم میں حتمی فتح اسی کی ہوگی جس کی نظر اور ارادہ آبنائے ہرمز پر غالب ہو۔

ایک طرف انقلاب اسلامی کے محاذ اور استکبار کے محاذ کے درمیان گذشتہ 47 سالہ تصادم کے نتائج، اور دوسری طرف ایران کے خلاف صیہونی-امریکی دشمن کی تیسری جارحانہ جنگ میں جاری رجحانات کا حقیقت پسندانہ اور علمی جائزہ لیتے ہوئے، مستقبل قریب میں واضح طور پر پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ کس کا نقطہ نظر اور کس کا عزم و ارادہ اس اسٹراٹیجک آبی گذرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت کے سیکیورٹی انتظامات اور طریقہ کار پر غالب ہوگا۔

اس جنگ کے آغاز کو، جس کے بارے میں وہم میں مبتلا ٹرمپ کا خیال تھا کہ وہ 48 گھنٹوں یا زیادہ سے زیادہ 72 گھنٹوں میں ایران پر غلبہ پا لے گا اور اسلامی جمہوریہ کو تاریخ کے سپرد کر دے گا، تقریباً چھ ماہ گذر چکے ہیں اور اس عرصے کے دوران، آبنائے ہرمز کا کنٹرول مکمل طور پر ایران کی طاقتور اور قابل فخر مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے۔

ان چھ مہینوں میں امریکہ کا وہمی صدر، جو جنگ سے پہلے ایران پر تسلط کے خواب دیکھ رہا تھا؛ اس کی تمام تر کوشش آبنائے ہرمز کھولنا اور اس آبنائے کا کنٹرول ایران کے طاقتور ہاتھوں سے نکالنا بن گئی ہے، لیکن وہ جتنا ہاتھ پاؤں مارتا ہے، پہلے سے زیادہ ناکام اور ذلیل ہوتا جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں ٹرمپ، جو اپنی خود ساختہ جنگ کے جال میں پھنس چکا ہے، ایک طرف اپنی پامال شدہ عزت کو بچانے اور دوسری طرف دنیا کی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے، بار بار جھوٹ کا سہارا لیتا ہے اور حقیقت کے برعکس، آبنائے ہرمز کے کھلے ہونے اور امریکہ کے اس آبنائے پر کنٹرول کے بارے میں جھوٹے دعوے مسلسل دہراتا ہے!

دلچسپ بات یہ ہے کہ بڑے شیطان کی تشہیراتی سلطنت کی پروپیگنڈے کی وجہ سے، بعض جہازوں کے مالکان بھی ـ اگرچہ بہت محدود پیمانے پر ـ ان جھوٹے دعوؤں کا یقین کر لیتے ہیں اور آبنائے ہرمز کے کھلے ہونے کا گمان کرتے ہوئے، یا تو ان کے جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر پھٹ جاتے ہیں، یا وہ 'غیبی تیروں' کی زد میں آ کر ناکارہ ہو جاتے ہیں، یا اگر خوش قسمت اور ہوشیار ہوں تو پہلی انتباہی معلومات حاصل کرتے ہی رستہ بدل لیتے ہیں اور آبنائے کی بندش اور غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے اس سے گذرنے کا خیال ترک کر دیتے ہیں۔

بعد میں اگر آبنائے ہرمز کے کھلے ہونے کے بارے میں ٹرمپ کے متواتر جھوٹی باتوں اور دعوؤں کو اکٹھا کیا جائے؛ تو غالب امکان ہے کہ ان جھوٹوں کا حجم خود آبنائے ہرمز کے حجم کے برابر ہو جائے گی اور امریکی تاریخ میں، ریاستہائے متحدہ کے سب سے جھوٹے صدر کے طور پر، ٹرمپ کا نام ثبت، محفوظ اور دائمی ہو جائے گا۔

البته اگر ٹرمپ کے دوسرے موضوعات پر جھوٹی باتیں بھی، آبنائے ہرمز کے کھلے ہونے سے متعلق اس کے جھوٹی باتوں میں شامل کر لی جائیں، تو بعید ہے کہ انسانی تاریخ میں اس خبیث، مجرم اور ایپسٹین کے مکمل طور پر سیاہ اور شرمناک ریکارڈ رکھنے والے اس شخص سے بڑھ کر کوئی جھوٹا پایا جا سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: بریگیڈیئر جنرل ید اللہ جوانی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha