اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے دفتر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالامیر الشمری نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت بغداد کے مغرب میں واقع بغداد ایئرپورٹ کے قریب وکٹوری فوجی اڈہ مکمل طور پر امریکی فوجیوں سے خالی کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے عمل کے تحت کیا گیا ہے۔
اخبار ’’العربی الجدید‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، الشمری نے یہ بھی کہا کہ امریکی اتحاد کے انخلا کے بعد فضائی صلاحیت میں ممکنہ کمی کو پورا کرنے کے لیے عراق منصوبہ بندی کرے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ 30 ستمبر کے بعد عراق میں کوئی غیر ملکی جنگی فوج یا فوجی اڈہ باقی نہیں رہے گا۔
بغداد: سنجار کا مکمل کنٹرول عراقی فورسز سنبھالیں گی
الشمری نے بغداد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراقی فورسز صوبہ نینویٰ میں سنجار کا مکمل کنٹرول مضبوط کریں گی اور امریکی اتحاد کے فوجیوں کے انخلا کے نتیجے میں فضائی صلاحیت میں پیدا ہونے والی ممکنہ کمی کو بھی پورا کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد کے بعد کے مرحلے میں ملک کی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے کوئی تشویش نہیں ہے۔
ان کے مطابق بعض مسلح گروہوں اور عراق کی سیاسی قیادت کے درمیان بھی مذاکرات جاری ہیں تاکہ ان گروہوں کی شمولیت اور ان کی حیثیت کو حشد الشعبی کے ڈھانچے کے تحت منظم کیا جا سکے۔
بغداد اور انقرہ کے درمیان ترک فوجیوں کے انخلا کے لیے مذاکرات
عراق کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے دفتر کے سربراہ نے شمالی عراق میں ترکی کی فوجی موجودگی کے بارے میں کہا کہ صوبہ نینویٰ میں بعشیقہ (زلیکان) فوجی اڈے سے ترک فوجیوں کے انخلا کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ یہ انخلا 60 دن کے اندر مکمل کیا جائے گا۔
عراق سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کا عمل
بغداد کے فوجی اڈوں اور مراکز سے غیر ملکی اور امریکی فوجیوں کا عملی انخلا گزشتہ سال شروع ہوا تھا۔ یہ عمل عراق اور امریکہ کے درمیان ستمبر 2024 میں اعلان کیے گئے معاہدے کے تحت شروع کیا گیا۔
اس معاہدے کے مطابق امریکی اتحاد کا عراق میں فوجی مشن ستمبر 2025 کے اختتام تک ختم ہونا تھا۔
تاہم گزشتہ جنوری میں عراقی فوجی کمیٹی نے اعلان کیا تھا کہ عراق میں امریکی اتحاد کے تمام فوجی اڈوں اور مراکز کا انخلا مکمل ہو چکا ہے اور دونوں فریقوں کے تعلقات دو طرفہ سکیورٹی تعاون کے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔
اس کے باوجود امریکی اتحاد کے مشن کا خاتمہ بغداد سے تمام غیر ملکی فوجیوں کے مکمل انخلا کے مترادف نہیں تھا۔ بعض غیر ملکی فریقوں، جن میں نیٹو بھی شامل ہے، کے ساتھ تعاون جاری رہا۔ نیٹو نے بھی گزشتہ مارچ تک عراق میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، جس کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال کے باعث اس نے اپنے تمام اہلکار بغداد سے اٹلی کے شہر نیپلز میں واقع تنظیم کے مرکزی دفتر منتقل کر دیے۔
عراقی عہدیدار: پہلی بار وکٹوری مکمل طور پر خالی ہوا ہے
عراقی وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اخبار ’’العربی الجدید‘‘ کو بتایا کہ یہ پہلی بار ہے کہ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ وکٹوری اڈہ مکمل طور پر غیر ملکی اور امریکی فوجیوں سے خالی ہو گیا ہے۔
اس عہدیدار نے بتایا کہ زیادہ تر فوجی، مشیر، تکنیکی و لاجسٹک معاونت کی ٹیمیں اور مواصلاتی ماہرین عراق سے نکل چکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کویت کے راستے دیگر ممالک منتقل کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عراقی حکام بتدریج ان مقامات اور مراکز کا انتظام سنبھال رہے ہیں جو پہلے غیر ملکی فوجیوں کے زیر استعمال تھے۔
ان کے مطابق اس وقت توجہ امریکی سفارت خانے کے اندر موجود فوجی اہلکاروں کی موجودگی ختم کرنے پر مرکوز ہے۔
وکٹوری؛ عراق میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ
وکٹوری اڈہ بغداد کے مغرب میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب قائم کیا گیا تھا اور 2003 میں عراق پر امریکی قبضے کے بعد یہ ملک میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی مرکز بن گیا۔
یہ اڈہ امریکی فوج اور بین الاقوامی اتحاد کے کمانڈ اور کنٹرول کا مرکزی مرکز تھا اور عراق کے مضبوط ترین فوجی مراکز میں شمار ہوتا تھا۔
اس اڈے کا رقبہ تقریباً 40 مربع کلومیٹر بتایا جاتا ہے۔ اس کمپلیکس میں 12 اہم عمارتیں، ہیلی کاپٹروں کے لیے لینڈنگ کے مقامات اور ’’سیرام‘‘ فضائی دفاعی نظام موجود تھا۔
وکٹوری اڈے کی اہمیت صرف امریکی فوجیوں کی موجودگی تک محدود نہیں تھی۔ اس میں فوجی و سکیورٹی کارروائیوں کی معاونت، مشنز کی نگرانی، لاجسٹک اور انٹیلی جنس امور کے مراکز، کنٹرول رومز، ساز و سامان اور گولہ بارود کے گودام اور انٹیلی جنس تجزیے کے کمرے بھی موجود تھے۔
بعشیقہ؛ ترک فوجی اڈہ بھی بغداد کے حوالے کیا جائے گا
بعشیقہ ’’زلیکان‘‘ فوجی اڈے کے حوالے سے عراق کی سکیورٹی انفارمیشن آرگنائزیشن کے سربراہ سعد معن نے زور دیا کہ اس اڈے کا انتظام بتدریج اور طے شدہ طریقہ کار اور مقررہ شیڈول کے مطابق عراق کے حوالے کیا جائے گا۔
انہوں نے اس عمل کو عراق کی ریاستی خودمختاری مضبوط کرنے کے وسیع تر عمل کا حصہ قرار دیا۔
معن نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ ترک فوجیوں کے انخلا اور شمالی عراق میں سکیورٹی اقدامات، بالخصوص سنجار میں قانون کی عمل داری اور غیر ملکی مسلح افواج کی موجودگی کے خاتمے کے درمیان واضح تعلق ہے۔
ان کے مطابق اس اقدام سے صوبہ نینویٰ اور موصل کے اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی صورتحال کو ازسرنو منظم کرنے اور عراق کی نگرانی میں زیادہ مستحکم سکیورٹی انتظامات قائم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
بعشیقہ کہاں ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟
بعشیقہ شمالی عراق کے صوبہ نینویٰ میں واقع ترکی کا ایک فوجی اڈہ ہے۔ یہ بعشیقہ شہر سے تقریباً 10 کلومیٹر اور موصل کے شمال مشرق سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق اس اڈے میں تقریباً ایک ہزار ترک فوجی تعینات تھے۔
یہ کیمپ 2014 میں داعش کی جانب سے موصل پر حملے کے بعد قائم کیا گیا تھا۔
اس سے قبل عراق کے وزیراعظم علی الزیدی اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کے بعد بعشیقہ ’’زلیکان‘‘ اڈہ ایک طے شدہ شیڈول کے مطابق عراقی حکومت کے حوالے کرنے پر اتفاق کا اعلان کیا تھا۔
عراقی رکن پارلیمنٹ: بغداد نے خودمختاری مکمل کرنے کی جانب پیش رفت کی ہے
عراق کی پارلیمنٹ کی سکیورٹی و دفاع کمیٹی کے رکن یاسر اسکندر نے کہا کہ امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجیوں کے ساتھ ساتھ ترک فوجیوں کا بھی عراق سے انخلا اور ان کے زیر استعمال اڈوں اور مراکز کا عراق کے حوالے کیا جانا، ملک کی خودمختاری مکمل کرنے اور ہر قسم کی غیر ملکی موجودگی ختم کرنے کے عمل میں عراقی حکومت کی نمایاں پیش رفت کی علامت ہے۔
انہوں نے اخبار ’’العربی الجدید‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی فوجیوں کا عراق سے انخلا بغداد اور واشنگٹن کے درمیان طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھا ہے۔
اسکندر کے مطابق کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کے بعض فریقوں کے ساتھ عراقی حکومت کی جانب سے حل تک پہنچنے کے نتیجے میں بھی انقرہ نے شمالی عراق میں اپنی فوجی مداخلت ختم کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ