28 ستمبر 2026 - 16:34
یمنی حقوقی مرکز کی تعز کے بازار پر سعودی حملے کی مذمت؛ 7 شہید، 40 زخمی

یمن کے حقوق و ترقی کے مرکز ’’عین الانسانیہ‘‘ نے تعز کے مرکزی بازار پر سعودی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں 7 شہری شہید اور 40 دیگر زخمی ہوئے، جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔ مرکز نے واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کے حقوق و ترقی کے مرکز ’’عین الانسانیہ‘‘ نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ تعز کے مرکزی بازار کے مفرق ماویہ علاقے میں تجارتی دکانوں پر حملے کے نتیجے میں 7 شہری شہید اور 40 دیگر زخمی ہوئے، جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔

یہ حملہ سعودی عرب کی جانب سے ایک تجارتی بازار پر بمباری کے دوران کیا گیا، جہاں شہری خرید و فروخت کے لیے آتے تھے اور یہ بازار علاقے کی معاشی اور خدماتی سرگرمیوں کا ایک حصہ تھا۔

مرکز نے کہا کہ ایک تجارتی بازار کے اندر اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکت سے شہریوں اور غیر فوجی مقامات کے تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

بازاروں اور تجارتی مراکز کو بار بار نشانہ بنائے جانے سے براہِ راست انسانی نقصان کے علاوہ ان خاندانوں کے آمدنی کے ذرائع بھی تباہ ہوتے ہیں جو اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے ان مراکز پر انحصار کرتے ہیں۔

مرکز عین الانسانیہ نے کہا کہ اس جرم کی سنگینی اس مجموعی اعداد و شمار کی روشنی میں مزید بڑھ جاتی ہے جو اس مرکز نے سعودی جارحیت کے آغاز سے اب تک یمن کے بازاروں پر ہونے والے حملوں کے متاثرین کے حوالے سے جمع کیے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق متاثرین کی مجموعی تعداد 5254 تک پہنچ چکی ہے، جن میں 2139 شہداء شامل ہیں، جن میں 496 بچے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 3115 ہے، جن میں 407 بچے شامل ہیں۔

مرکز نے زور دیا کہ یہ اعداد و شمار بازاروں، علاقوں اور غیر فوجی مقامات پر سعودی جارحیت کے نتیجے میں ہونے والے انسانی نقصانات کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ بازار شہریوں کی زندگی، تجارتی سرگرمیوں، ضروریات پوری کرنے اور خاندانوں کے لیے آمدنی کے حصول کے بنیادی مراکز ہیں۔

مرکز نے مزید کہا کہ ایک تجارتی بازار کے اندر شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو محض ایک معمولی واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کے متاثرین اور ان کے خاندانوں پر انسانی اور معاشی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہر ہلاکت کا مطلب ایک خاندان کے فرد کا کھو جانا ہے، جبکہ ہر زخمی اپنے اور اپنے خاندان کے لیے صحت اور انسانی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ تجارتی دکانوں کی تباہی بھی ان خاندانوں کے آمدنی کے ذرائع ختم ہونے کا سبب بنتی ہے جو مکمل طور پر انہی پر انحصار کرتے ہیں۔

مرکز عین الانسانیہ نے سعودی حکومت کو اس جرم اور مسلسل حملوں کے نتیجے میں ہونے والی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تعز کے مرکزی بازار پر حملے کی مکمل نوعیت، حملے کا حکم دینے اور اسے انجام دینے والے ذمہ دار اداروں کا تعین کرنے کے لیے آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور متاثرین اور ان کے خاندانوں کے انصاف، داد رسی اور معاوضے کے حقوق کو یقینی بنایا جائے۔

مرکز نے اقوام متحدہ، بین الاقوامی اور حقوقی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ تعز کے بازار میں پیش آنے والے واقعے اور یمن میں شہریوں اور غیر فوجی مقامات کے خلاف ہونے والے دیگر سنگین جرائم کو دستاویزی شکل دیں۔ مرکز نے زور دیا کہ متاثرین کو محض رپورٹس میں درج اعداد و شمار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ آزادانہ تحقیقات میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی کسی بھی سنگین خلاف ورزی کے ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ داروں کا تعین اور جواب دہی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

مرکز نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ بازاروں، گھروں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرے اور خبردار کیا کہ ان جرائم کا سلسلہ جاری رہنے اور خواتین و بچوں سمیت شہریوں کی ہلاکت سے انسانی صورتحال مزید خراب ہوگی اور یمنی خاندانوں کے نقصانات میں اضافہ ہوگا۔

مرکز عین الانسانیہ نے آخر میں متاثرین اور شہری مقامات کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق شواہد کو مسلسل محفوظ اور دستاویزی شکل دینے کی اہمیت پر زور دیا اور اسے مستقبل میں جواب دہی اور انصاف کے لیے کسی بھی اقدام کی بنیاد قرار دیا۔ مرکز نے کہا کہ ان جرائم کے اثرات متاثرین، ان کے خاندانوں اور متاثرہ مقامی آبادیوں کی زندگیوں میں طویل عرصے تک باقی رہیں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha