28 ستمبر 2026 - 16:41
چینل 12 اسرائیل: حماس کے پاس اب بھی 25 سے 30 ہزار مسلح اہلکار موجود

صیہونی چینل 12 نے اپنی ایک رپورٹ میں غزہ میں حماس کی فوجی صلاحیت برقرار رہنے کا اعتراف کرتے ہوئے اندازہ لگایا ہے کہ اس تحریک کے پاس اب بھی 25 سے 30 ہزار مسلح اہلکار موجود ہیں اور وہ سرنگوں کے نیٹ ورک کی تعمیر نو اور میزائلوں کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے۔


اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی چینل ۱۲ نے اعتراف کیا ہے کہ حماس نے غزہ کی پٹی میں اپنی فوجی اور تنظیمی صلاحیتوں کا ایک بڑا حصہ اب بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس جائزے کے مطابق حماس کے مسلح اہلکاروں کی تعداد اس وقت 25 سے 30 ہزار کے درمیان ہے۔

رپورٹ کے مطابق حماس اپنی سرنگوں کے نیٹ ورک کی تعمیر نو اور اسے مضبوط بنانے کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور بالخصوص ان علاقوں میں جو صیہونی فوج کے زیر کنٹرول نہیں ہیں، موجود زیر زمین راستوں کو برقرار رکھنے اور ان کی مرمت کا کام جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس زیر زمین ڈھانچے کا برقرار رہنا غزہ میں حماس کی عملی صلاحیت باقی رہنے کا ایک اہم سبب ہے۔

چینل ۱۲ کی رپورٹ میں غزہ کی پٹی کے اندر میزائلوں کی تیاری جاری رہنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق میزائلوں کے پرزے تیار کرنے اور ان کی تراش خراش کے آلات ان علاقوں میں بھی کام کر رہے ہیں جہاں صیہونی فوج نے زمینی کارروائی نہیں کی اور یہاں تک کہ بعض رہائشی علاقوں میں بھی یہ سرگرمیاں جاری ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق حماس اس وقت میزائل داغنے سے گریز کر رہی ہے تاکہ صیہونی فوج کے ردعمل سے بچا جا سکے؛ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ میزائل تیار کرنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے ایک اور حصے میں حماس کی جانب سے اپنے ہتھیار محفوظ رکھنے کے لیے اختیار کی جانے والی نئی حکمت عملی کا ذکر کیا گیا ہے۔ پیش کیے گئے جائزے کے مطابق اس تحریک نے اپنے کچھ ہتھیار غزہ کے ایسے افراد کے حوالے کیے ہیں جو اس کے عسکری ونگ کے باقاعدہ رکن نہیں ہیں۔ صیہونی سکیورٹی ذرائع کے تجزیے کے مطابق یہ اقدام حماس کے حامیوں کے درمیان ہتھیاروں کے ذخائر محفوظ رکھنے اور ممکنہ طور پر تخفیفِ اسلحہ کے کسی معاہدے کی صورت میں ان ذخائر کو مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچانے کے مقصد سے کیا گیا ہو سکتا ہے۔

چینل ۱۲ کی رپورٹ میں ڈرونز کے ذریعے مصر سے غزہ میں فوجی سازوسامان منتقل کیے جانے کا سلسلہ جاری رہنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اگرچہ رپورٹ میں منتقل کیے جانے والے سازوسامان کی مقدار کے بارے میں کوئی درست اعداد و شمار نہیں دیے گئے، تاہم اس راستے کا جاری رہنا، رپورٹ میں جن ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے ان کے مطابق، جنگ کے دوران پہنچنے والے نقصانات کے بعد حماس کی فوجی صلاحیت دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی ایک اور علامت ہے۔

یہ جائزہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دیگر ذرائع نے بھی اس سے قبل حماس کے سرنگوں کے نیٹ ورک کے ذریعے اپنے اہلکاروں اور ہتھیاروں کی منتقلی اور اپنی قوت برقرار رکھنے اور اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کو مزید مشکل بنانے میں اس نیٹ ورک کے کردار پر زور دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha