اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،یمن کی تحریک انصار اللہ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ یمن کا محاصرہ ختم کرانے کا عزم برقرار ہے اور سعودی عرب کے بیانات اس کے تیل یا بحری آمدورفت کو محفوظ نہیں بنا سکتے۔
انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے سینئر رکن محمد الفرح نے سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یمن پر کوئی محاصرہ نہیں ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر صنعاء ایئرپورٹ پر محاصرہ نہیں تو پھر سعودی عرب نے ایئرپورٹ پر بمباری کیوں کی اور یمنی مریضوں اور مسافروں کو وطن واپس لانے والی پرواز کو روکنے کے لیے اپنی فوج کیوں متحرک کی؟
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا یہ انکار کسی نتیجے پر نہیں پہنچے گا اور نہ ہی اس کے تیل یا سمندری آمدورفت کو محفوظ رکھ سکے گا۔
محمد الفرح نے سعودی وزارت خارجہ کے اس بیان پر بھی ردعمل دیا، جس میں اقوام متحدہ کی قرارداد 2216 سمیت متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یمنی عوام صرف اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں، جن کی ضمانت بین الاقوامی قوانین، ضابطوں اور معاہدوں میں دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ یمنی عوام کو بیرون ملک سفر سے روکے، ان کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کا محاصرہ کرے، ان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرے یا ان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے۔
انصار اللہ کے رہنما نے مزید کہا کہ سب کو امید تھی کہ سعودی عرب محاصرہ اور جارحیت کے خاتمے، اپنی افواج کے انخلا، یمن کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور اپنی جیلوں میں قید یمنی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کرے گا، لیکن اس کے برعکس ریاض نے یمنی عوام کے غزہ کی حمایت کے مؤقف کو نشانہ بنایا اور ان کے مطالبات کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا۔
ان کے مطابق سعودی عرب کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ یمن کے خلاف محاصرہ اور دباؤ کے پیچھے اس کے اپنے کوئی جائز مفادات نہیں، بلکہ وہ امریکی مفادات اور اسرائیل کی بحری سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے وسائل بھی قربان کرنے کو تیار ہے۔
دوسری جانب انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے سیکریٹری جنرل فضل ابوطالب نے کہا کہ یمن کی توجہ صرف سعودی عرب کے محاصرے کا جواب دینے پر مرکوز ہے، کیونکہ 2015 سے یہی ملک یمن کے خلاف جنگ اور مکمل محاصرے کی قیادت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب یمنی عوام کی مشکلات سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور وقت گزار کر یمن کے بنیادی ڈھانچے کو مزید نقصان پہنچانے اور ملک پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
فضل ابوطالب نے کہا کہ "محاصرے کے بدلے محاصرہ" کا اصول منصفانہ اور عادلانہ ہے، کیونکہ یہ مظلوم کے حق میں اور جارحیت کے جواب میں اختیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یمن گزشتہ بارہ برس سے محاصرہ ختم کرانے کی کوشش کر رہا ہے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل نہ ہونے کے بعد یہ راستہ اختیار کیا گیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یمن کا موجودہ مؤقف دفاعی ہے، جارحانہ نہیں، کیونکہ جنگ اور محاصرے کا آغاز سعودی عرب نے کیا تھا، جبکہ یمن صرف اپنے عوام کے جائز حقوق کے دفاع کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
خبر کے مطابق، یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے گزشتہ روز باضابطہ طور پر سعودی عرب کے خلاف مکمل بحری محاصرے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ "محاصرے کے بدلے محاصرہ" کی پالیسی فوری طور پر نافذ کی جا رہی ہے۔ انصار اللہ کی قیادت نے اس سے قبل بھی خبردار کیا تھا کہ اگر یمن کا محاصرہ ختم نہ کیا گیا تو باب المندب اور سعودی بندرگاہوں کی جانب جانے والے بحری راستے بھی بند کیے جا سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ