21 جولائی 2026 - 15:16
مآخذ: ابنا
یمن جزیرۂ عرب میں ابھرتی ہوئی طاقت بن چکا ہے

خلیج فارس کے امور کے ماہر رضا میرآبیان کا کہنا ہے کہ یمن اب جزیرۂ عرب کی ایک اہم اور بااثر طاقت کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔ ان کے مطابق یمنی قیادت اپنے ملک پر عائد فضائی محاصرے کو ختم کرانے کے معاملے میں سنجیدہ ہے

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،خلیج فارس کے امور کے ماہر رضا میرآبیان کا کہنا ہے کہ یمن اب جزیرۂ عرب کی ایک اہم اور بااثر طاقت کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔ ان کے مطابق یمنی قیادت اپنے ملک پر عائد فضائی محاصرے کو ختم کرانے کے معاملے میں سنجیدہ ہے، جبکہ ایران بھی خطے میں اپنی نئی حکمت عملی کے تحت خلیج فارس، آبنائے ہرمز، باب المندب اور محورِ مزاحمت میں اپنا کردار مزید مؤثر بنانا چاہتا ہے۔

میرآبیان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کو لبنان میں جنگ بندی اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا سے مشروط کیا تھا۔ ان کے بقول اسی حکمت عملی کے تحت ایران یہ سمجھتا ہے کہ یمن پر عائد فضائی پابندیاں بھی ختم ہونی چاہئیں، کیونکہ یمن محورِ مزاحمت کا ایک اہم حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں آبنائے باب المندب کی بندش اور بحیرۂ احمر میں بحری آمدورفت معطل ہونے کا امکان موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہان ایئر کی جانب سے صنعاء اور الحدیدہ کے لیے پرواز شروع ہونے پر سعودی عرب نے فوری ردعمل دیا اور انصاراللہ کو پیشکش کی کہ وہ طیارے فراہم کرنے کو تیار ہے، تاہم پروازوں کی منزل کا تعین ریاض کرے گا، جس میں ایران بھی ممنوعہ مقامات میں شامل ہوگا۔

میرآبیان نے مزید بتایا کہ اردن نے بھی صنعاء کو یمنی فضائی رابطے بحال کرنے کی پیشکش کی، تاہم صنعا حکومت کے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ یمن ایک خودمختار ملک ہے اور اسے مکمل آزادی کے ساتھ اپنے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں یمن جزیرۂ عرب کی ایک مؤثر طاقت بن چکا ہے اور باب المندب اور بحیرۂ احمر کی اسٹریٹجک اہمیت کے باعث خطے کے معاملات میں انصاراللہ سے بات چیت ناگزیر ہو گئی ہے۔

باب المندب کی ممکنہ بندش سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار خلیج فارس کی صورتحال پر ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تو آبنائے باب المندب کی بندش اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کی معطلی کا امکان بڑھ جائے گا۔

انہوں نے خلیج فارس کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں محسن رضائی نے امریکہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ ایران طویل اور فرسایشی جنگ قبول نہیں کرے گا، اور اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ایران اپنی شرائط پر جنگ مسلط کر سکتا ہے۔

میرآبیان کے مطابق سپاہ کے فضائی و خلائی کمانڈر نے بھی حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ ملک کے مختلف میزائل اڈوں سے امریکی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ سپاہ کی بحریہ نے امریکی بحری سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھنے اور ضرورت پڑنے پر کارروائی کی صلاحیت کا بھی اظہار کیا ہے۔ ان کے بقول انہی خدشات کے باعث متعدد امریکی جنگی جہاز بحیرۂ عمان سے دور ہو گئے ہیں۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنوبی لبنان جیسا منظرنامہ نافذ کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس بار امریکہ کی جارحیت کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے اور واشنگٹن کو سمجھنا ہوگا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی اقدام کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔

میرآبیان نے آخر میں کہا کہ اسرائیل بھی ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی سے گریز کر رہا ہے، کیونکہ گزشتہ حملوں میں ایران کے جوابی اقدامات نے اسے بھاری نقصان پہنچایا تھا۔ ان کے مطابق امریکہ کو بھی بالآخر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی لاگت اتنی زیادہ ہو سکتی ہے کہ اسے یہ جنگ روکنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha