اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، خطے کی حالیہ صورتحال کے تناظر میں تیونس میں "نیٹ ورک فار ریجیکشن آف نارملائزیشن" کی دعوت پر عوامی احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں مظاہرین نے امریکہ اور صہیونی رژیم کی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگائے اور فلسطین، لبنان، یمن اور ایران کی مزاحمتی قوتوں کی حمایت کا اظہار کیا۔
اس موقع پر تنظیم کے عہدیدار خالد بوجمعہ نے لبنانی خبررساں ویب سائٹ العہد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن منصوبوں کو انہوں نے "غلبہ پسندانہ منصوبے" قرار دیا، ان کے مقابلے میں عوام کا کردار صرف جذباتی نہیں بلکہ ایک مؤثر سیاسی اقدام بھی ہے، جو خطے کی سیاسی صورت حال پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس احتجاج میں تیونسی عوام کی شرکت قومی اور عربی شعور کی علامت ہے اور یہ غلبہ پسند پالیسیوں کی مخالفت اور خطے کی اقوام کے ساتھ یکجہتی کا واضح اظہار ہے۔ ان کے بقول، عوامی حمایت مزاحمتی تحریکوں کے استحکام اور بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
خالد بوجمعہ نے مزید دعویٰ کیا کہ اس نوعیت کی عوامی سرگرمیاں عالمی برادری اور علاقائی فریقوں کے لیے ایک سیاسی پیغام رکھتی ہیں، جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ عرب رائے عامہ اب بھی فلسطین کے مسئلے اور مزاحمتی محاذ کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تحریکوں کا تسلسل اسرائیلی قبضے کی مخالفت کرنے والی قوتوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط اور صہیونی رژیم کے حامیوں پر دباؤ بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ