6 جولائی 2026 - 15:43
مآخذ: ابنا
ترک تجزیہ کار:ایران کو جنازے کی تقریب میں بعض مہمانوں کو تنبیہی پیغام دینے کا حق تھا

ترکی کے معروف تجزیہ کار یوسف ضیا جومرت نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ایران کے علاقائی کردار اور حالیہ پیش رفت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر ایران نے ایک مذہبی تقریب کے دوران بعض غیر ملکی وفود کو قرآنی آیات کے ذریعے علامتی پیغامات دیے تو اسے ایسا کرنے کا حق حاصل تھا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ترکی کے معروف تجزیہ کار یوسف ضیا جومرت نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ایران کے علاقائی کردار اور حالیہ پیش رفت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر ایران نے ایک مذہبی تقریب کے دوران بعض غیر ملکی وفود کو قرآنی آیات کے ذریعے علامتی پیغامات دیے تو اسے ایسا کرنے کا حق حاصل تھا۔

انہوں نے اپنے مضمون "ایران کو شکوہ کرنے کا حق کیوں ہے؟" میں لکھا کہ غزہ کی جنگ کے دوران بیشتر مسلم ممالک نے عملی کردار ادا نہیں کیا، جبکہ ان کے بقول ایران اور یمن نے فلسطینیوں کی حمایت میں عملی اقدامات کیے۔

جومرت نے یہ بھی کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے زیادہ تر بیانات جاری کیے گئے، جبکہ بعض ممالک پر ایران کے خلاف اقدامات میں تعاون کے الزامات بھی سامنے آئے۔ انہوں نے ترکی کی اسرائیل کے ساتھ تجارتی پالیسی اور علاقائی سفارت کاری پر بھی تنقیدی تبصرہ کیا۔

ترک تجزیہ کار کے مطابق ایران میں منعقدہ ایک تشییعی تقریب کے دوران مختلف غیر ملکی وفود کی موجودگی میں قرآن مجید کی مختلف آیات کی تلاوت کی گئی، جنہیں بعض مبصرین نے علامتی اور سفارتی پیغامات سے تعبیر کیا۔

جومرت کا کہنا تھا کہ اگر ان آیات کے ذریعے بعض ممالک یا وفود کو بالواسطہ تنبیہ یا یاددہانی کرائی گئی تو اسے سفارتی اظہار کا ایک طریقہ سمجھا جا سکتا ہے، اور ایران کو اپنے نقطۂ نظر کے اظہار کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ بین الاقوامی تعلقات میں علامتی پیغامات نئی بات نہیں، اور ایران تاریخی طور پر سفارتی ابلاغ کے مختلف انداز اختیار کرتا رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha