اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایک امریکی میڈیا ادارے نے کہا ہیکہ ایرانی شہید رہنما کی قومی سطح پر منعقدہ الوداعی تقریب ملک کے سیاسی نظام کے تسلسل اور استحکام کی علامت ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی رہنما کی شہادت کے بعد بعض مغربی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ ایران کو سیاسی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم الوداعی تقریبات اور اقتدار کی منتقلی کے عمل کو اس کے برعکس ریاستی اداروں کے تسلسل اور حکومتی ڈھانچے کے برقرار رہنے کی علامت قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیل کے ایک تحقیقی ادارے سے وابستہ تجزیہ کار راز زیمت کے مطابق، جنگ اور اقتصادی مشکلات کے باوجود ایران کی سیاسی قیادت فیصلہ سازی کی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے اور حکومتی ادارے بدستور فعال ہیں۔
امریکی میڈیا نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی اور اتحادی ممالک کے انٹیلی جنس ادارے ان تقریبات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ایران کی موجودہ سیاسی صورتحال کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق، مغربی تجزیہ کاروں کی نظر میں یہ الوداعی تقریبات اس پیغام کی عکاس ہیں کہ جنگ کے بعد بھی ایران کا سیاسی نظام اپنی سرگرمیاں تسلسل اور استحکام کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔
آپ کا تبصرہ