بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ رہبر شہید کے وداعی انتظامی ہیڈکوارٹر کی بین الاقوامی کمیٹی کے سیکریٹری وحید جلال زادہ نے فارس نیوز ایجنسی کے نامہ نگار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: جس دن سے مذکورہ ہیڈکوارٹر کی طرف سے وداع، تشییع اور تدفین کے نظام الاوقات کا اعلان ہؤا، دنیا بھر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے حامیوں نے دنیا کے کونے کونے سے اسلامی جمہوریہ کے نمائندہ دفاتر سے رجوع کرکے ان مراسمات میں شرکت کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار کیا۔
جلال زادہ نے کہا: ان مراسمات میں شریک بیرونی مہمانوں کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ عام لوگ ہیں جو بے پناہ محبت، دلی جذبے اور ذاتی خرچ پر اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف روانہ ہوئے ہیں اور ہم نے ان کے داخلے کے لئے ضروری سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ آسانی سے شرکت کر سکیں۔
انھوں نے مزید کہا: دوسرا حصہ ممتاز شخصیات، اساتذہ، علماء، پریس کے مؤثر افراد، مقاومتی قوتیں اور تحریکیں پر مشتمل ہے جنہوں نے دنیا کے کونے کونے سے مراسمات میں شرکت کے لئے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ ان میں سے بعض لوگ ایران میں داخل ہو چکے ہیں اور بعض راستے میں ہیں۔
جلال زادہ نے مزید کہا: تیسرا حصہ سرکاری عہدیدار ہیں جنہوں نے اب تک، دنیا کے کونے کونے سے تقریباً 50 سرکاری وفود نے وداع، تشییع اور تدفین کے مراسمات میں شرکت کے لئے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
جلال زادہ نے واضح کیا: زیادہ تر ہمسایہ ممالک سے معتبر شخصیات شرکت کریں گی؛ ترکمانستان کے قومی رہنما اور عوامی مجلسِ مصلحتِ کے سربراہ، تاجکستان، عراق اور جارجیا کے صدور اور ساتھ ہی عراق کے علاقۂ کردستان کے سربراہ بھی ان مراسمات میں شریک ہوں گے۔
جلال زادہ نے مزید کہا: وزرائے اعظم کی سطح پر بھی پاکستان، آرمینیا اور افغانستان کے وزرائے اعظم شریک ہوں گے۔ حکومت کابل کے سربراہ بھی ایک وفد کے ہمراہ ـ جس میں اس ملک کے وزیرِ خارجہ شامل ہیں، ـ ان مراسمات میں شرکت کریں گے۔
انھوں نے کہا: روس کی اعلیٰ سیکورٹی کونسل کے نائب، جناب میدویدوف، اور پاکستانی افواج کے کمانڈر انچیف اور چین کی عوامی کانگریس کے نائب صدر شرکت کریں گے۔
جلال زادہ نے مزید کہا: اس کے علاوہ عراق کے اسپیکر، پاکستان سینیٹ کے سربراہ، پاکستانی قومی اسمبلی کے اسپیکر نیز عمان، قطر، بیلاروس، جمہوریہ آذربائیجان، کرغیزستان، ازبکستان، بنگلہ دیش اور مصر کی پارلیمانوں کے اسپیکر بھی شرکت کریں گے۔
انھوں نے کہا: وزرائے خارجہ کی سطح پر بھی افغانستان، قازقستان، گھانا، نکاراگوا اور کانگو کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔
جلال زادہ نے مزید کہا: علاوہ ازیں، ترکیہ کے نائب صدر اور دیگر ممالک کے مختلف سطحوں کے عہدیدار ـ بشمول وزراء اور خصوصی ایلچی، ـ ان مراسمات میں شریک ہوں گے۔
انھوں نے مزید کہا: سربیا، تیونس، لبنان، نمیبیا، ملائیشیا، کیوبا، سری لنکا، میانمار، ہندوستان، گیمبیا اور تھائی لینڈ بھی مختلف سطحوں پر شرکت کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل، ایکو کے سیکرٹری جنرل اور ایکو کے ثقافتی ادارے کے سربراہ بھی ان مراسمات میں شریک ہوں گے۔
جلال زادہ نے یاد دہانی کرائی: ہم مجموعی طور پر ہم تقریباً 50 وفود کی میزبانی کریں گے اور امید کرتے ہیں کہ وہ ایرانی قوم کے ساتھ مل کر امامِ شہید کے سے وداع کے مراسمات میں شریک ہوں گے تاکہ ایک پائیدار تاریخی فریم تخلیق ہو اور ایرانی قوم کی طاقت اور حریت پسند ممالک میں اس کی مقبولیت، کا بطور احسن اظہار ہو۔
انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں کے اہداف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ایک اہم نکتہ جس کی طرف مجھے اشارہ کرنا ہے وہ یہ ہے کہ دشمن نے اسلامی جمہوریہ اسلامی جارحیت کی اور اس کا باطل گمان یہ تھا کہ وہ اسلامی جمہوریہ کو ختم کرکے رکھے گا؛ وہ ہرگز تصور نہیں کر سکتا تھا کہ میدان جنگ میں بھی شکست کھائے گا اور میدان سیاست میں بھی۔ جنگ کے بعد ہم دنیا میں اسلامی جمہوریہ کا ایک نیا چہرہ دیکھ رہے ہیں؛ دنیا میں ہمارے دوست پہلے سے زیادہ پرعزم ہو گئے ہیں اور ہمارے دشمن پہلے سے زیادہ مایوس ہیں؛ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے تمام ہمسائے مختلف سطحوں پر دنیا کے ظالم ترین اور مجرم ترین افراد اور ریاستوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے امام شہید کو خراجِ عقیدت و احترام پیش کرنے کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔
جلال زادہ نے آخر میں زور دے کر کہا: دشمن اسلامی جمہوریہ کو تنہا کرنے کے درپے تھے، لیکن آج ہم ایرانی قوم کی عزت و عظمت کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور یہ حقیقت ایرانی قوم کے دشمن کو برا کیوں نہ لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ