اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فراس الیاسر نے عراق میں رہبرِ شہیدِ انقلاب کی تشییع کے انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم موقع دشمنوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دے گا اور عراق و ایران کے عوام کے درمیان مزاحمتی اتحاد کو مزید مضبوط کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ عراق اور عراقی عوام کے لیے یہ باعثِ فخر ہے کہ انہیں رہبرِ شہید کے جسدِ خاکی کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ عراق اور ایران کی اقوام کا مقدر مزاحمتی قیادت کے تحت ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔
فراس الیاسر نے کہا کہ عراقی عوام میں اس تشییع کے حوالے سے پہلے ہی وسیع سطح پر اتفاقِ رائے موجود تھا اور لوگ اس موقع کو ایک قومی اور مذہبی اعزاز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق مزاحمتی قوتیں عراقی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہیں تاکہ اس موقع کو انتظامی اور میڈیا سطح پر کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔
انہوں نے سکیورٹی خدشات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دشمن عراق اور ایران کے درمیان اتحاد کو قبول نہیں کرتے اور وہ اس بڑے اجتماع کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، تاہم عراقی عوام کی شدید وابستگی اور شرکت ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دے گی۔
مزاحمتی رہنما نے کہا کہ عراق میں شہداء کی یاد میں پہلے ہی وسیع پیمانے پر عزاداری کا سلسلہ جاری رہا ہے اور مختلف علاقوں میں خیمے لگائے گئے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عراقی معاشرہ اس واقعے کے ساتھ گہری وابستگی رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عراق اپنے مقدس مقامات، ائمہ معصومینؑ کے مزارات اور نجف اشرف میں موجود دینی مرجعیت کی وجہ سے ایک خاص روحانی حیثیت رکھتا ہے، اسی لیے یہ تشییع ایک غیر معمولی مذہبی اور تاریخی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
فراس الیاسر کے مطابق یہ اجتماع ایک طرح کا عوامی ریفرنڈم ہوگا جو مزاحمتی محور کی حمایت اور خطے میں اس کی فکری و سیاسی پوزیشن کو واضح کرے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل اسی عوامی اتحاد اور مزاحمتی طاقت سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ یہ اجتماع خطے میں مزاحمت کے کردار کو مزید مضبوط کرتا ہے اور استعماری منصوبوں کو ناکامی سے دوچار کرتا ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ حالیہ علاقائی تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور مزاحمتی محور عالمی سطح پر ایک مؤثر کردار ادا کر رہا ہے، جسے اب نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
آپ کا تبصرہ