30 جون 2026 - 16:38
رہبرِ شہید امت نے یمن میں بیداری اور مزاحمت کی بنیاد رکھی، تشییع کے روز دنیا بھر میں غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی جائے، یمنی دانشور

یمنی دانشور ڈاکٹر عصام العماد نے کہا ہے کہ رہبرِ شہید امت نے یمن میں مزاحمت کی فکری بنیاد رکھی اور باب المندب کی اسٹریٹجک اہمیت کو برسوں پہلے بھانپ لیا تھا۔ انہوں نے تجویز دی کہ رہبرِ شہید کی تاریخی تشییع کے موقع پر پوری دنیا میں غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی جائے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، خبر رساں ادارے ابنا میں "رہبرِ شہید امت کا تزویراتی اور تمدنی ورثہ" کے عنوان سے خصوصی نشست منعقد ہوئی، جس میں یمنی دانشور اور مستبصر ڈاکٹر عصام العماد اور بحرینی سیاسی کارکن ڈاکٹر راشد الراشد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر العماد نے رہبرِ شہید کی فکری، تمدنی اور سیاسی خدمات پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔

رہبرِ شہید؛ دینی مرجعیت، سیاسی قیادت اور شہادت کا منفرد امتزاج

ڈاکٹر عصام العماد نے کہا کہ رہبرِ شہید ایسی منفرد شخصیت تھے جنہوں نے دینی مرجعیت، سیاسی قیادت اور شہادت، تینوں عظیم مرتبے یکجا کیے۔ ان کے بقول اسلامی تاریخ میں کسی اسلامی ریاست کے سربراہ کے لیے ایسی مثال نہیں ملتی۔

رہبرِ شہید کی شہادت؛ پوری انسانیت کے لیے ایک ثقافتی اور سیاسی موڑ

انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کی شہادت صرف عالمِ اسلام کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا اہم واقعہ ہے، جو انسانیت میں ان کی فکر اور نظریات کو جاننے کی نئی جستجو پیدا کرے گا۔ ان کے مطابق تشییع جنازے کا دن ایک تاریخی دن ہوگا جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

قم سے باب المندب تک؛ یمن میں مزاحمت کی فکری بنیاد

یمنی دانشور نے دعویٰ کیا کہ رہبرِ شہید نے تقریباً 35 برس قبل یمن کی مزاحمتی تحریک کی فکری رہنمائی کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں بدرالدین الحوثی اور سید عبدالملک الحوثی سمیت یمنی شخصیات قم میں موجود تھیں اور رہبرِ شہید ان کے ساتھ مسلسل فکری نشستیں کرتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ شہید نے کئی دہائیاں پہلے ہی آبنائے باب المندب کی اسٹریٹجک اہمیت کو سمجھ لیا تھا اور مستقبل میں اس خطے کے کردار کی نشاندہی کر دی تھی۔

ثقافتی حکمت عملی؛ یمن اور ایران کے درمیان روحانی تعلق کا استحکام

ڈاکٹر العماد نے کہا کہ رہبرِ شہید نے ایران میں ناصر اطروش کے مزار کی تعمیرِ نو کا حکم دے کر یمن اور ایران کے عوام کے درمیان مذہبی اور ثقافتی روابط کو مضبوط بنایا۔ ان کے مطابق یہ مقام آج یمنی زائرین اور ایران میں شہید ہونے والے یمنی شہداء کی تدفین کا اہم مرکز بن چکا ہے۔

سیاست اور معنویت کا امتزاج؛ رہبرِ شہید کی فکری امتیاز

انہوں نے سید قطب کی فکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رہبرِ شہید نے سیاست کو عرفان اور معنویت کے ساتھ جوڑ کر ایک متوازن اسلامی فکر پیش کی، جس نے دینی تحریکوں کو انتہاپسندی اور تکفیری رجحانات سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ہمہ جہت علمی شخصیت

ڈاکٹر العماد کے مطابق رہبرِ شہید تاریخ، فلسفہ، عرفان، رجال اور عسکری علوم سمیت متعدد شعبوں پر گہری دسترس رکھتے تھے، جبکہ بلند عمری میں بھی ان کی یادداشت اور علمی استعداد غیر معمولی تھی۔

شہادت سے محبت؛ رہبرِ شہید کی شخصیت کا نمایاں وصف

انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کو شہادت اور شہداء سے غیر معمولی محبت تھی۔ وہ مسلسل شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات کرتے اور ان سے اپنے لیے شہادت کی دعا کی درخواست کرتے تھے۔

ڈاکٹر العماد نے دعویٰ کیا کہ رہبرِ شہید کی شہادت کے بعد بعض سابق انتہاپسند عناصر بھی ان کی سیرت سے متاثر ہوئے ہیں اور اہل بیتؑ کے مکتب کی جانب مائل ہو رہے ہیں، جبکہ یمن میں ان کی دینی اور فکری تصانیف میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

دنیا بھر میں غائبانہ نمازِ جنازہ کی تجویز

اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے تجویز پیش کی کہ رہبرِ شہید کی تشییع جنازہ کے موقع پر دنیا بھر کی مساجد اور اسلامی مراکز میں بیک وقت غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی جائے تاکہ جو افراد تہران میں موجود نہیں، وہ بھی اس تاریخی موقع پر اپنی عقیدت اور وابستگی کا اظہار کر سکیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے ثقافتِ شہادت کا پیغام عالمی سطح پر مزید مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha