اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی کے ایک گاؤں میں محرم کے جلوس کے دوران اس وقت مختصر کشیدگی پیدا ہوگئی جب جلوس میں شریک کچھ افراد نے فاقہ شکنی کے وقت رام لیلا گراؤنڈ میں رک کر روزہ افطار کرنے کی تیاری کی، جس پر رام لیلا کمیٹی کے عہدیداروں اور بعض مقامی افراد نے اعتراض کیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ 26 جون کو محرم کی مناسبت سے نکالے جانے والے جلوس کے دوران پیش آیا۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ رام لیلا گراؤنڈ میں واقع رام چبوترہ ہندو برادری کے لیے مذہبی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے وہاں افطار کے انعقاد پر اعتراض سامنے آیا۔
دونوں فریقوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، تاہم کسی بڑے تصادم یا تشدد کی اطلاع نہیں ملی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے حکام موقع پر پہنچ گئے اور دونوں برادریوں کے نمائندوں سے بات چیت کرکے حالات کو قابو میں کر لیا۔
انتظامیہ کی مداخلت کے بعد محرم کا جلوس طے شدہ انتظامات کے مطابق آگے بڑھ گیا، جبکہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔
رام لیلا کمیٹی کے ارکان کا مؤقف تھا کہ رام چبوترہ کئی برسوں سے ہندو مذہبی رسومات اور سماجی تقریبات کا مرکز رہا ہے، اس لیے اس مقام پر کسی نئی روایت کے آغاز پر مقامی لوگوں میں تشویش پیدا ہوئی۔
دوسری جانب مسلم برادری کے افراد نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی قسم کا تنازع پیدا کرنا نہیں تھا، بلکہ جلوس کے وقت اور روزہ افطار کے مقررہ وقت کے باعث وہاں مختصر قیام کیا گیا تھا۔
انتظامیہ نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ کسی بھی فریق کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور حقائق کی بنیاد پر ضرورت پڑنے پر کارروائی کی جائے گی۔
ایک سینئر افسر نے کہا کہ دونوں فریقوں سے بات چیت کے بعد صورتحال مکمل طور پر پرامن ہے اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھیں۔
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے، جبکہ سوشل میڈیا سمیت دیگر ذرائع پر پھیلائی جانے والی کسی بھی گمراہ کن اطلاع پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ محرم کے موقع پر اتر پردیش حکومت نے پہلے ہی تمام اضلاع میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی تھیں، جن کے تحت امن کمیٹیوں کے اجلاس منعقد کیے گئے اور مختلف مذاہب کے نمائندوں سے رابطہ رکھا گیا تاکہ مذہبی تقریبات پرامن ماحول میں منعقد ہو سکیں۔
مقامی لوگوں کے مطابق انتظامیہ کی بروقت کارروائی اور دونوں برادریوں کے ذمہ دار افراد کے تعاون سے ممکنہ کشیدگی کو بڑھنے سے روک لیا گیا، جبکہ دونوں جانب کے رہنماؤں نے بھی عوام سے امن، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی اپیل کی ہے۔
آپ کا تبصرہ