بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی (Mike Huckabee) نے ایک انٹرویو میں ـ جو اخباری ویب گاہ کلیش رپورٹ (Clash Report) کے حوالے سے شائع ہؤا ہے ـ دوستانہ لیکن مکمل طور پر واضح الفاظ میں امریکہ اور صہیونی ریاست کے تعلقات کی تزویراتی نوعیت کی تصویر کشی کی ہے۔
انھوں نے اس تعلق کو معمولی شراکت داری سے بالاتر اور "شادی" کی حد تک اہم اور بنیادی قرار دیا اور زور دے کر کہا کہ اس بندھن میں دراڑ کسی بھی فریق کے لئے قابلِ برداشت نہیں ہے۔

ہکابی نے اس سوال کے جواب میں کہ "کیا اس تعلق میں علیحدگی ممکن ہے؟"، صراحت کے ساتھ کہا: "..نہیں، نہیں، نہیں۔ آپ کو سمجھنا چاہئے، ہم اتنے احمق نہیں ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہم کبھی اتنے احمق نہ ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تعلق اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ایک ناقابلِ یقین شادی کی مانند ہے۔"..

امریکی سفیر ک باتیں اگرچہ سفارتی طنز و مزاح سے بھرپور ہیں، مگر یہ ایک میدانی حقیقت کی گہری تہوں کو بے نقاب کرتی ہیں۔
ہکابی نے کلش ریپورٹ میں گہری باہمی وابستگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، علیحدگی کی بھاری قیمت کا حوالہ دیا اور کہا: "جب لوگ پوچھتے ہیں، کہ "کیا دونوں فریقوں کے درمیان روابط منقطع اور ختم ہونے والے ہیں؟"، تو میں کہتا ہوں: "کوئی امکان نہیں، کیونکہ علیحدگی کی صورت میں کوئی بھی فریق نان و نفقہ ادا نہیں کرپائے گا؛ اسی لئے جب تک مقرر [و مقدر] ہے، ایک دوسرے کے شریک رہیں گے۔"..
اس تجربہ کار امریکی سفارت کار نے انٹرویو کے ایک اور حصے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں وائٹ ہاؤس کے ماحول کا بھی ایک پہلو بیان کیا اور کہا: "ایک چیز جو میں نے سفیر بننے کے بعد سیکھی وہ یہ تھی کہ م"ہر روز سوشل میڈيا پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پوسٹوں کو چیک کرو"، مجھے نہیں معلوم کہ آپ یہ جانتے ہیں یا نہیں، لیکن وہ آدھی رات کو سوشل میڈیا پر لوگوں کو برخاست کے لئے بدنام ہے۔ میں ہر روز صبح سب سے پہلے یہ کام کرتا ہوں: جاگتا ہوں، ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ چیک کرتا ہوں اور جانچتا ہوں کہ مجھے نکالا گیا ہے یا نہیں نکالا گیا؟!"
ہکابی اس انٹرویو کی گہری تہوں میں، [اپنے بزعم] اس اتحاد کی [مبینہ] الٰہیاتی اور تہذیبی جڑوں کو کریدتا ہے اور تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے، امریکی شناخت و تشخص کی تشکیل میں اسرائیل کے مقام و کردار کو نمایاں قرار دیتا ہے۔
کہتا ہے: "امریکہ، یہودیوں کے بغیر، وجود میں ہی نہیں آ سکتا تھا۔ امریکہ میں ہمارے بانیوں نے اس بات کو سمجھ لیا تھا؛ چنانچہ ہمارا دو طرفہ تعلق فوجی اور سیکیورٹی تبادلوں سے بالاتر، اعتقادی اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے۔"
ہکابی نے ـ جذبانی انداز سے ـ اسرائیل کی تکنیکی کامیابیوں اور امریکیوں کی زندگی پر اس کے اثرات کو سراہتے ہوئے کہا: "..بہت سی چیزیں ہیں جنہیں ہم امریکہ میں معمولی سمجھتے ہیں۔ امریکی شاید اتنے مغرور ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ یہ سب انہوں نے خود ایجاد کیا ہے: چاہے چہرہ شناسی ہو، کمپیوٹر چپس ہوں، نیویگیشن سسٹم ہو، چیری ٹماٹر ہوں یا بغیر بیج کے تربوز، ہم اسرائیل کی وجہ سے، فائدہ اٹھاتے ہیں۔"

ہکابی کا کہنا تھا: "ہم امریکہ میں اپنی 250 سالہ موجودگی کو انتہائی طویل مدتی سمجھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں اسرائیل میں، کہاں ہوں اور مجھے احساس ہوتا ہے کہ آپ [یہودی] 3800 سال سے یہیں ہیں اور اب بھی ہیں، تو ہم نوجوانی محسوس کرتے ہیں۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: طہورا فلاح
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ