بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ صہیونی ریاست کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان کے سخت بیانات کے ردعمل میں کہا کہ شاید ہی کوئی دن گذرتا ہو جب انقرہ کا رہنما اسرائیلی حکومت کی تباہی کا مطالبہ نہ کرے۔
نیتن یاہو نے زور دیا کہ وہ ان دھمکیوں کو بہت سنجیدہ لیتا ہے اور انہیں اپنے امریکی اتحادیوں تک پہنچائے گا۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان نے کل صہیونیت کو "نسل کش، قبضہ گر اور توسیع پسند نظریہ" قرار دیا تھا اور اس کے خلاف جنگ کو "ترک قوم کی بقا کے لئے ایک اقدام" قرار دیا تھا۔
انقرہ اور تل ابیب کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ
ترکیہ اور اسرائیل کے تعلقات، جو حالیہ مہینوں میں غزہ اور لبنان پر صہیونیوں کے حملوں کی وجہ سے کشیدہ ہو گئے تھے، فریقین کے رہنماؤں کے درمیان سخت بیانات کے تبادلے کے ساتھ کشیدگی کی ایک نئی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
صہیونیت سب کے لئے خطرہ ہے، وہ سب کو دھمکیاں دیتی ہے، اردوغان
کل رجب طیب اردوغان نے ایک اجلاس میں صریح لہجے میں صہیونیت کو ایک "نسل کش، قبضہ گر اور توسیع پسند نظریہ" قرار دیا اور خبردار کیا کہ یہ نظریہ نہ صرف ترکیہ بلکہ خطے کے تمام ممالک اور یہاں تک کہ اس سے آگے دوسرے خطوں اور ممالک کے لئے بھی خطرہ ہے۔
ترکیہ کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ اس نظریئے کے خلاف جنگ انقرہ کے لئے ایک تزویراتی ترجیح ہے۔
انھوں نے کہا: "جب ہم صہیونیت کے خلاف جنگ کرتے ہیں، تو ہم اپنے لئے یا ذاتی وجوہات کی بنا پر نہیں لڑتے؛ بلکہ ہم یہ سب اپنی بقا اور اپنی قوم کی بقا کے لئے کرتے ہیں۔"
اردوغان نے مزید کہا: "آج دنیا ان جرائم کا مشاہدہ کر رہی ہے جو کسی بھی بین الاقوامی قانون اور انسانی معیار سے ما وراء ہیں۔ غزہ اور لبنان میں بچے، خواتین اور بے گناہ لوگ ان جرائم کا شکار ہو رہے ہیں اور بین الاقوامی برادری عملی اقدام کے بجائے اس انسانی سانحے کی تماشائی بنی ہوئی ہے۔"
ہم اردوغان کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، نیتن یاہو
بنیامین نیتن یاہو نے ان بیانات پر فوری ردعمل ظاہر کیا اور ترکیہ کے رہنما کے خلاف سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا: "شاید ہی کوئی دن گذرتا ہو جب اردوغان اسرائیل کی تباہی کا مطالبہ نہ کرتا ہو۔ ان بیانات کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ ہم ان باتوں کو بہت سنجیدہ لیتے ہیں، کیونکہ ہم نے یہودی قوم کی تاریخ سے سیکھا ہے کہ جب کوئی کہتا ہے کہ وہ آپ کو تباہ کرنا چاہتا ہے، تو آپ کو اسے سنجیدہ لینا چاہئے۔"
نیتن یاہو نے کہا: "ہم اردوغان کے ان بیانات کو اپنے امریکی دوستوں تک پہنچائیں گے۔"
یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل ترکیہ پر دباؤ ڈالنے کے لئے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور البتہ اس کے اقدامات کی نوعیت کے بارے میں فی الحال کچھ واضح نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ