2 جولائی 2026 - 10:25
ہرمز کی تعریف پاکستان کی حکمرانی میں ہوتی ہے، سینٹکام کی نہیں، نائب وزیر خارجہ + نکتہ

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور نے کہا: بحرین میں فوجی نشست کا انعقاد خلیج فارس کے لئے قانونی ترتیب اور سلامتی قائم نہیں کرتا، کیونکہ 'ہرمز کی تعریف پاکستان کی حکمرانی میں ہوتی ہے، سینٹکام کی نہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور ڈاکٹر کاظم غریب آبادی آج (جمعرات 2 جولائی 2026ع‍)  کو اپنے پیغام میں لکھا:

- ہرمز کی تعریف پاکستان کی حکمرانی میں ہوتی ہے، سینٹکام کی نہیں،

- بحرین میں فوجی نشست کا انعقاد خلیج فارس کے لئے قانونی ترتیب اور سلامتی قائم نہیں کرتا۔

- علاقائی سلامتی خطے میں 'امریکی مداخلت کے خاتمے' اور 'امریکی انخلا'، 'ممالک کی خودمختاری کے احترام' اور 'نئی جغرافیائی سیاسی حقیقتیں تسلیم کرنے سے فراہم ہوتی ہے نہ کہ امریکی فوجی چھتری کے تحت۔

واضح رہے کہ امریکی سنٹرل کمانڈ (یا سینٹکام) نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ کل بدھ کو اس نے بحرین میں علاقائی سلامتی کے حوالے سے مذاکرات کی قیادت کی ہے۔

اس بیان کے مطابق اس نشست میں 12 ممالک کے نمائندے علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کے بارے میں مذاکرات کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔

اس بیان کے مطابق، بحرین، مصر، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن کی [ہانکی ہوئی] مستعفی حکومت کے سینئر فوجی عہدیداروں نے اس نشست میں سینٹکام کے کمانڈر بریڈ کوپر کی قیادت میں شرکت کی۔

سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حاضرین نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت کے آزاد بہاؤ کو برقرار رکھنے کے مشترکہ عزم پر زور دیا۔

نکتہ:

یاد رہے کہ امریکہ نے 100 دنوں سے زیادہ عرصے تک ـ خلیج فارس کے جنوب میں واقع عرب ریاستوں کی مدد سے ـ اپنی پوری فوجی طاقت، بحری قزاقی اور سیاسی و معاشی دباؤ استعمال کرکے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی اور پوری طرح ناکام ہو گیا یہاں تک کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے سمجھوتے کے مطابق، آبنائے ہرمز پر اسلامی جمہوریہ ایران کا مستقل کنٹرول باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا چنانچہ اس طرح کے گاہے بگاہے اجلاس صرف حالات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور آبنائے کا انتظام پھر بھی ایران کے پاس رہے گا۔ اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کل جو کچھ جنگ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اس کی انتظامی نوعیت فوجیوں کے اجلاسوں میں نہیں بدلا کرتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha