اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی اخبار یدیعوت احرونوت نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی شام کے صوبہ درعا میں ایک آپریشن کے دوران ایک “خفیہ فوجی موبائل فون” کھو دیا، جس پر حساس اور اہم معلومات محفوظ تھیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ درعا کے گاؤں عابدین میں پیش آیا، جہاں اسرائیلی فوج اور مقامی افراد کے درمیان مسلح جھڑپیں ہوئیں۔ جھڑپوں کا آغاز ایک فوجی اڈے پر فائرنگ سے ہوا، جس کے بعد توپ خانے اور راکٹ فائر کیے گئے، جبکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضائی کارروائی بھی کی گئی۔
اخبار کے مطابق ایک ریزرو فوجی اہلکار نے افراتفری کے دوران اپنا سرکاری موبائل فون کھو دیا، جو بعد ازاں ایک مقامی شہری کے ہاتھ لگ گیا۔ فوجی اہلکار نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے فوری طور پر اس ڈیوائس کو ریموٹ طریقے سے بلاک کر دیا تاکہ معلومات کے افشا ہونے سے بچا جا سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کو اسرائیلی فوج میں “سنگین سکیورٹی خطرہ” قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس ڈیوائس میں حساس فوجی معلومات موجود تھیں۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اسے متعلقہ سکیورٹی چینلز کے ذریعے دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب شامی ذرائع ابلاغ نے تصاویر اور ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں فوجی ساز و سامان اور مبینہ طور پر گم شدہ موبائل فون سے متعلق مواد بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجی دستے کارروائی کے دوران اور پسپائی کے وقت بعض سامان اور خوراک بھی موقع پر چھوڑ گئے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج جنوبی شام میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے اور مختلف علاقوں میں وقتاً فوقتاً کارروائیاں رپورٹ ہوتی رہتی ہیں۔
آپ کا تبصرہ