30 جون 2026 - 15:00
ایک کتاب کا خلاصہ؛ ایران پر جارحیت کے ٹرمپی فیصلے کے پس پردہ عوامل - 1

کتاب "نظام کی تبدیلی" اس بات پر سے پردہ اٹھاتی ہے کہ ٹرمپ جنگ میں کیسے داخل ہؤا اور آشکار کرتی ہے کہ کس طرح اندرونِ حکومت مذاکرات، صدر کی جِبِلّتیں، اس کے اندرونی حلقے کے اختلافات اور وائٹ ہاؤس پر اس کے انتظام کے طریقے کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ کتاب گمنام رہنے کی کی شرط بات چیت کرنے کے لئے تیار ہونے والے افراد کے وسیع سطح پر مکالموں  کو اندرونی مباحثوں اور حساس امور کی تشریح کے لئے، بروئے کار لاتی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کتاب "نظام کی تبدیلی: ڈونلڈ ٹرمپ کی بادشاہانہ صدارت اندر سے" (Regime Change: Inside the Imperial Presidency of Donald Trump) ایک انکشافی کام ہے جو میگی ہیبرمین (Maggie Haberman) اور جوناتھن سوان (Jonathan Swan)، نیویارک ٹائمز کے نامور صحافیوں کی 1000 سے زائد انٹرویوز اور تین سالہ روداد نگاری کا نتیجہ ہے۔ یہ کتاب جو ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے صرف 17 ماہ بعد شائع ہوئی اور اسی پہلے دن ایک لاکھ 50 ہزار نسخے فروخت کرنے کا غیرمعمولی ریکارڈ قائم کیا، وائٹ ہاؤس میں اقتدار کے ڈھانچے کی تبدیلی اور اس کی ایک "شہنشاہی صدارت (Imperial Presidency)" اور لامحدودیت اور مطلق العنانیت کی طرف حرکت کی چونکا دینے والی اور بے‌پردہ تصویر پیش کرتی ہے۔

ایک کتاب کا خلاصہ؛ ایران پر جارحیت کے ٹرمپی فیصلے کے پس پردہ عوامل - 1

حصۂ اول:

یہ کتاب اس بات پر سے پردہ اٹھاتی ہے کہ ٹرمپ جنگ میں کیسے داخل ہؤا اور آشکار کرتی ہے کہ کس طرح اندرونِ حکومت مذاکرات، صدر کی جِبِلّتیں، اس کے اندرونی حلقے کے اختلافات اور وائٹ ہاؤس پر اس کے انتظام کے طریقے کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ کتاب گمنام رہنے کی کی شرط بات چیت کرنے کے لئے تیار ہونے والے افراد کے وسیع سطح پر مکالموں  کو اندرونی مباحثوں اور حساس امور کی تشریح کے لئے، بروئے کار لاتی ہے۔

اس کتاب کی اشاعت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت ردعمل سامنے آیا اور اس نے اس کے مندرجات کو "محض جعل سازی اور بہتان تراشی" قرار دیا۔

یہ رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ ٹرمپ کی جنگ جویانہ سوچ مہینوں تک نیتن یاہو کی سوچ سے کتنی ہم‌آہنگ رہی، اس سے کہیں زیادہ جتنا کہ صدر کے بعض اہم مشیروں کو بھی گمان تھا۔ ان دو [ٹرمپ اور نیتن یاہو] کا قریبی تعلق دونوں اس کے ادوارِ حکومت کی ایک مستقل خصوصیت رہا اور اس حالت کا تحرک اور دوام پریشان‌کن اور امریکی سیاست کے بائیں اور دائیں دونوں بازوؤں میں شدید تنقید اور شکوک و شبہات کا باعث بنا ہے۔

کتاب واضح کرتی ہے کہ ٹرمپ کی جنگی کابینہ کے زیادہ مایوس اور بدگمان ارکان بھی - سوائے جے ڈی وینس کے، جو وائٹ ہاؤس میں، مکمل پیمانے پر جنگ کا مخالف رہا - کس طرح بالآخر صدر کی جنگجویانہ جبلت کے کے آگے جھک گئے، اور اس کے اس پراعتماد تصور کے سامنے سر تسلیم خم کیا کہ بہت جلد ختم ہونے والی فیصلہ کن جنگ ہے۔ ہاں مگر، وائٹ ہاؤس نے اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

سچویشن روم میں 11 فروری 2026ع‍ (22 بہمن 1404 ہجری شمسی) کو، نیتن یاہو نے ٹرمپ کے لئے ایک مختصر ویڈیو پیش کرکے اس نتیجے پر پہنچا کہ ایران رجیم چینج کے لئے تیار ہے اور اس نے رائے دی کہ امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ مشن بالآخر اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ کر سکتا ہے۔

ایک مرحلے میں، اسرائیلیوں نے ٹرمپ کےلئے ایک مختصر ویڈیو چلائی جس میں ممکنہ [مبینہ] نئے رہنماؤں کا ایک آمیزہ شامل تھا جو اگر انتہا‌پسند [موجودہ] حکومت گر جائے تو اسرائیلیوں کے بزعم ملک [ایران] کا کنٹرول سنبھال سکتے تھے۔ ویڈیو میں دکھائے گئے، افراد میں ایران کے آخری شاہ کا جلاوطن بیٹا، 'رضا پہلوی' بھی شامل تھا جو واشنگٹن میں مقیم ہے اور حکومت کا ایک مخالف ہے اور اس نے خود کو ایک سیکولر رہنما کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی ہے جو ـ اس کے اپنے بقول ـ ایران کو ایک مذہبی حکومت کے بعد کے دور میں لے جا سکتا ہے۔ (1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ رضا پہلوی نجی حلقوں میں کہتا پھرتا ہے کہ اس کے باپ نے ایرانی خزآنے سے اتنا مال امریکہ منتقل کیا ہے کہ وہ اور اس کی سات نسلوں کے لئے کافی ہے اور وہ خوشحالی کی زندگی بسر کر رہا ہے جبکہ مغرب اور اسرائیل کے کھیل میں وہ صرف ایک مہرے کا کام کر رہا ہے اور ایران واپسی سے اس کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیشکش: سید محمد حسین راجی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha