بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسرائیل ٹائمز نے آج پیر کو رپورٹ دی کہ لبنانی حکومت کے ساتھ اسرائیلی حکام کا معاہدہ ایک "وہم" ہے جو اسرائیل کے لئے بھاری نقصان پر منتج ہوگا۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکومت شدت سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان معاہدے کی خواہاں تھی تاکہ ٹرمپ کو ایک پروپیگنڈا شو اور [ہر طرف سے برسنے والی ناکامیوں کے بیچ] ایک 'جشن فتح' منانے کا موقع مل سکے۔
ٹائمز نے اس معاہدے کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا: یہ معاہدہ غزہ میں ہوٹل اور کیسینو بنانے، اور ایران کو ایٹمی ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں سے عاری ایران، کے بارے میں ٹرمپ کے نعروں کی مانند ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے: فی الوقت، صہیونیوں کے لئے صورتحال "انتہائی خراب" ہے؛ اسرائیل کو کوئی کامیابی نہیں ملی اور یہ معاہدہ امریکی دباؤ کے تحت طے پایا ہے، کیونکہ واشنگٹن تنازعات اور مشرق وسطیٰ میں مصروف رہنے سے تھک چکا ہے۔"
اس رپورٹ کے آخر میں زور دیا گیا کہ "واشنگٹن نے لبنانیوں کو پر ایسا معاہدہ مسلط کیا ہے جس کی قیمت اس کاغذ کے برابر بھی نہیں ہے جس پر وہ لکھا گیا ہے۔"
لبنان اور اسرائیل نے جمعہ کی شام، واشنگٹن میں، امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے پانچویں دور کے چار روزہ مذاکرات کے بعد، اور امریکی دباؤ میں آ کر ایک عمومی اور ابتدائی معاہدے پر دستخط کئے۔
لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے رکن حسن فضل اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ حزب اللہ اس طرح کے معاہدے کو ناجائز اور غیر قانونی سمجھتا ہے اور اس کے نفاذ کے خلاف مزاحمت کے لئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گا۔
ادھر حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے بھی اس معاہدے کو "منسوخ اور باطل" قرار دیا اور زور دیا کہ وہ کسی بھی طرح اسے نافذ نہیں ہونے دیں گے۔
حزب اللہ لبنان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ معاہدہ ناقابل نفاذ ہے اور یہ طبعی طور پر ختم ہوجائے گا۔
لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری نے کہا کہ ہم لبنان سے صہیونیوں کے انخلاء کے خواہاں ہیں اور یہ انخلاء صرف ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے نفاذ کی صورت میں ممکن ہوگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ