27 جون 2026 - 15:48
اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کا پوری طاقت سے دفاع کریں گے، ایران

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے آج ایک بیان میں امریکہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمت نامے کی کھلی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے: ہم اپنی پوری طاقت سے ملک کی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کا دفاع کریں گے؛ جارح امریکی جارح افواج سے منسلک اہداف پر اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقتور مسلح افواج کے دفاعی حملے اسی بنیاد پر کیے گئے اور امریکی جارحیت کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری جارح اور عہدشکن امریکی ریاست اور اس کے جرائم میں شریک ریاستوں پر ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے آج (ہفتہ) 27 جون 2026ع‍ کو امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے مفاہمت نامے (اسلام آباد مفاہمت نامہ) کی کھلی خلاف ورزی کے بعد ایک بیان جاری کیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے:

- اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ، روز ہفتہ مورخہ 27 جون 2026ع‍ کو علی الصبح، امریکی دہشت گرد فوج نے ایران کے جنوبی ساحلوں پر چند مقامات پر کیے گئے فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ امریکی دہشت گردوں نے ان وحشیانہ حملوں میں ایران کے ساحلی نگرانی کے اداروں کو نشانہ بنایا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کے پیراگراف 4 کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ساتھ ہی یہ مورخہ 18 جون 2026ع‍ کے جنگ کے خاتمے کے سمجھوتے کی پہلی شق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

- اسی دوران، قابض اور نسل پرست صہیونی ریاست نے بھی امریکہ کی ہم آہنگی سے لبنان پر حملہ کیا جو جنگ کے خاتمے کے مفاہمت نامے کی پہلی شق کھلی خلاف ورزی ہے۔

* خلیج فارس کی ریاستوں کی اچھی ہمسائیگی کی پابندی کی ضرورت

- وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق ایران کے دفاع کے فطری حق پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی پوری طاقت سے ملک کی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کا دفاع کرے گا۔ امریکی جارح افواج سے منسلک اہداف پر اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقتور مسلح افواج کے دفاعی حملے اسی بنیاد پر انجام دیئے گئے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت حال کے نتائج کی ذمہ داری جارح اور عہدشکن امریکی ریاست اور ان فریقوں پر ہے جو کسی بھی شکل میں ایران کے خلاف جارحانہ امریکی اقدامات میں کردار ادا کرتے ہیں۔

- اسی سلسلے میں، خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع تمام [عرب] ریاستوں کی طرف سے اچھی ہمسائیگی کے اصولوں اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول ـ یعنی جارح فریقوں کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کے ارتکاب کے لئے اپنی سرزمین اور وسائل کے استعمال سے روکنے ـ کی پابندی کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔

- وزارت خارجہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، سلامتی کونسل اور دیگر ذمہ دار بین الاقوامی اداروں پر بھی زور دیتی ہے کہ وہ امریکہ کی طرف سے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں اور قواعد کی شدیدترین خلاف ورزیوں پر غیر جانبدار نہ رہیں اور علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے سلسلے میں اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کریں۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا بیان

واضح رہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تعلقات عامہ نے آج صبح اپنے بیان میں اعلان کیا: "جنوبی لبنان میں صہیونی ریاست کی طرف کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد، چند گھنٹے قبل عہدشکن امریکی ریاست نے بھی ہمیشہ کی طرح عہد و پیمان اور اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی اور آبنائے ہرمز میں ایک غیرمجاز راستے سے غیر قانونی آمدورفت کی کوشش روکے جانے کے بہانے، اسلامی جمہوریہ ایران کے ساحلوں پر فضائی حملہ کیا۔ سپاہ نیوی نے اس جارحیت کے جواب میں خطے میں دہشت گرد امریکی فوج کے ٹھکانوں اور ان کی نفری کی تعیناتی کے مراکز کو ڈرونز اور میزائلوں کا نشانہ بنایا۔ اسلام آباد مفاہمت نامے کی شق 5 کے مطابق آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے کنٹرول کے انتظامات اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس ہیں؛ لیکن امریکہ نے مختلف فریقوں کو اشتعال دلانے کے ذریعے اس ذمہ داری کی خلاف ورزی کی کوشش کی جس کا مناسب جواب دیا گیا اور مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ جارحیت دہرائی جائے گی تو ہم وسیع تر پیمانے پر جواب دیں گے۔"

- اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے مورخہ 11 جون 2026ع‍ کو بھی امریکہ کی طرف سے اسی دن صبح کے وقت جنگ بندی کی شدید خلاف ورزی کے بارے میں ایک بیان جاری کرکے خبردار کیا تھا۔

- نیز اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے مورخہ 10 جون 2026ع‍ کو بھی ایران کے خلاف جارحانہ امریکی اقدامات پر ایک بیان جاری کیا تھا؛ جس میں کہا گیا تھا: امریکی ریاست نے ـ منگل کی شب اور بدھ مورخہ 10 جون 2026ع‍ کی صبح کے ابتدائی لمحوں میں آبنائے ہرمز کے اوپر اس ملک کی دہشت گرد فوج کے ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کے گرنے کے بہانے ـ ایران کے جنوبی علاقوں پر وحشیانہ حملے کئے ہیں۔ یہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر، خاص طور پر آرٹیکل 2 کے پیراگراف 4، اور بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال سے گریز کے بنیادی اصول کی اشد خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں اور امریکی حکمران ادارے نے ان جارحانہ اقدامات کے ذریعے ایک بار پھر اپنی مجرمانہ اور جنگ طلب فطرت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے مورخہ 6 جون 2026ع‍ کو امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کے بعد ایک بیان جاری کیا۔ اس وزارت نے امریکی فوج کی شب ہفتہ مورخہ 6 جون 2026ع‍ کی صبح کے ابتدائی اوقات میں ضلع سیریک اور جزیرہ قشم میں ریڈار اور ساحلی نگرانی کے اداروں پر فوجی حملے کو ـ مورخہ 8 اپریل 2026ع‍ کی جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کے خلاف فوجی ـ جارحیت قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے مورخہ 3 جون 2026ع‍ کو بھی ایک بیان میں ایرانی تیل بردار جہاز اور قشم میں مواصلاتی ٹاور پر امریکی جارحانہ حملوں کی شدید مذمت کی تھی۔

واضح رہے کہ مذکورہ بالا امریکی جارحیتوں کو بلا جواب نہیں چھوڑا اور دہشت گرد امریکی فوج کے اڈوں، ریڈاروں، ڈرونز اور ایف 15 اور ایف 35 کے ہینگرز کو نشانہ بنایا اور بطور خاص، اردن میں  موفق السلطی ہوائی اڈے پر انتہائی اہم امریکی اثاثوں کو تباہ کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha