18 جون 2026 - 01:29
ایران اور امریکہ کا سمجھوتہ امریکی کے اعلان کردہ مقاصد سے پسپائی ہے، فرانسس فوکویاما

مشہور امریکی سیاسی مفکر اور نظریہ ساز اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا کہ ایران اور امریکہ کا سمجھوتہ امریکی کے اعلان کردہ مقاصد سے پسپائی ہے/ ٹرمپ فتح کے اعلانات کر رہا تھا لیکن اس کو جنگ کے پہلے کے سے حالات میں واپسی ہے۔/ ٹومپ نے 2015 کے معاہدے کو دہرایا ہے۔/ ٹرمپ ایک بےبس اور نادان صدر ہے۔ فوکویاما نے جنگ کے آغاز پر ٹرمپ کو 10 سالہ بچہ قرار دیا تھا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مشہور امریکی سیاسی مفکر اور نظریہ ساز اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر فرانسس فوکویاما نے کہا ہے:

ایران اور امریکہ کا سمجھوتہ ان اہداف سے پسپائی ہے ہے جن کا امریکہ نے جنگ کے آغاز میں اعلان کیا تھا۔

ٹرمپ اس سمجھوتے کو ایک فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن اس عملی نتیجہ جنگ کے پہلے کے حالات میں واپسی ہے۔

جس سمجھوتے کی ان دنوں وکالت کر رہا ہے، امریکہ کے لئے 2015 کے جوہری معاہدے سے کہيں زیادہ کمزور ہے؛

سنہ 2015 کا جوہری معاہدہ وہی معاہدہ ہے جس کو ٹرمپ برسوں سے "المناک" قرار دیتا آیا تھا اور اس کا مذاق اڑاتا رہا تھا۔

امریکی حکومت پر اندرونی معاشی اور سیاسی دباؤ نے ٹرمپ کو اپنے ابتدائی مطالبات کا ایک بڑا حصہ ترک کرنے پر مجبور کر دیا۔ [واضح رہے کہ ٹرمپ اس جنگ کا کوئی بھی اعلان کردہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔]

امریکہ کئی مہینوں کی جنگ اور بھاری اخراجات برداشت کرکے، جنگ کے پہلے کی سی حالت میں پلٹ گیا ہے۔

ٹرمپ ایک "بے بس اور نادان صدر" ہے۔

ایران نے اپنا نظام، اپنے جوہری پروگرام کا ایک بڑا حصہ اور اپنے علاقائی اوزاروں کو محفوظ رکھ کر ـ اس سمجھوتے میں ـ امریکہ کے مقابلے میں زیادہ رعایتیں حاصل کی ہیں۔

فوکویاما نے ایران کے خلاف امریکی جنگ کے آغاز پر ٹرمپ کی جنگ پرستی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا:

لگتا ہے کہ امریکہ ایک دس سالہ بچے کے کنٹرول میں ہے جو گھر کے پچھواڑے سے ایک شعلَہ اَنداز (Flamethrower) ڈھونڈ لیا ہے اور آتش زنی سے لطف اٹھاتا ہے۔

کوئی اس لڑکے کا راستہ روک لے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha