بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قطر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی (Georgetown University in Qatar) کے سیاسیات کے پروفیسر پال مسگریو (Paul Musgrave)، نے فارن پالیسی میگزین میں اپنے اپنے ایک مضمون میں لکھا:
- امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ "خلیج فارس کی جنگ ہار چکا ہے۔"
- ایران جنگ میں ویتنام جنگ کے مقابلے میں کم جانی نقصان کے باوجود، اس جنگ کے نتائج امریکہ کے لئے زیادہ المناک تھے۔
- اب "ریاستہائے متحدہ بلاشبہ اس وقت کے مقابلے میں زیادہ کمزور پوزیشن میں ہے جب اس نے اس انتخابی جنگ کا آغاز کیا۔
- امریکہ کے اہم اسٹراٹیجک اہداف کو نقصان پہنچا ہے۔
ایران جنگ میں امریکی فوجی کارکردگی ماضی کی جنگوں سے کمزور رہی
- جب ہم امریکہ کی سابقہ جنگوں ـ خاص طور پر مغربی ایشیا کے خطے میں ـ کا ایران جنگ سے موازنہ کرتے ہیں تو امریکی فوجی کارکردگی اس جنگ میں بہت کمزور تھی۔ اس جنگ میں امریکی فوج کی کارکردگی نے "کسی بھی ایسے دشمن کے ساتھ تصادم کی صورت میں ـ جو ایران سے زیادہ طاقتور ہو ـ امریکہ کی فوجی تیاری کو پوری طرح متنازعہ اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔"
- ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ ایران اس جنگ کے دوران امریکی دفاعی نظاموں میں گھس پانے میں کامیاب رہا اور واشنگٹن کے لئے خطرے کی گھنٹی بجائی اور یاددہانی کرائی کہ امریکہ جیسے نظام ہائے حکومت طویل مدتی تصادم میں زیادہ زدپذیر (Vulnerable) ثابت ہو سکتے ہیں۔
- مجھے کہنا پڑ رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی دو بار جارحیتوں کے مقابلے میں ایران نے کامیاب مزاحمت کی اور بہت بعید ہے کہ امریکہ دوبارہ حملہ کرکے اس سے بہتر نتیجہ حاصل کر سکے۔
جنگ کی قیمت امریکہ کے اتحادیوں کو ادا کرنا پڑی
- اس جنگ کے نتیجے میں، اس بھاری تاوان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو امریکہ کے اتحادیوں کو ایران کے خلاف جنگ میں ادا کرنا پڑا۔
- خلیج فارس کی عرب ریاستیں امریکی اڈوں کی میزبان تھیں، یہ ریاستیں ان اڈوں کی موجودگی سے خوش تھیں اور انہیں وہم تھا کہ ان کی سلامتی کی ضمانت فراہم کی جا چکی ہے؛ لیکن یہ ایک غلط فہمی تھی، اور یہ اڈے ان کی سلامتی کے لئے نہیں تھ چنانچء واشنگٹن نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ کر خلیج فارس میں اپنے ان [سادہ لوح] اتحادیوں کو بے شمار نقصانات سے دوچار کر دیا۔
- ان علاقائی اتحادیوں میں سے کئی بظاہر اس مہم جوئی کے خلاف تھے، لیکن بہرحال، جنگ کے اخراجات کا بوجھ انہی کو اٹھانا پڑا۔
- ہمیں ماننا پڑے گا کہ: ایران نے اس جنگ میں دنیا والوں کو سکھایا کہ وہ آبنائے ہرمز کے اوزار کو "عالمی سطح پر ایک اقتصادی اوزار" کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
- امریکہ ویتنام جنگ کے فورا بعد اپنے تزویراتی اہداف پر مرکوز ہؤا لیکن آج صورت حال مختلف ہے، خلیج فارس اور ابنائے ہرمز پر دنیا بھر کی توانائی کا شدید انحصار ہے چنانچہ وہ آسانی سے خود کو اس جنگ سے باہر نہیں نکال سکتا اور اسے طول دینے کے منفی اثرات سے جان نہیں چھڑا سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محترمہ الہام معین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکتہ:
جیسا کہ مسگریو نے لکھا ہے 'امریکہ ویتنام جنگ کے بعد تیزی سے اپنے اسٹریٹجک اہداف پر مرکوز ہو گیا' لیکن یہ جنگ مختلف تھی، قلیل مدتی جنگ جس کے اثرات دور رس ہیں، ایران نے قلیل مدت میں امریکہ کو عظیم ناکامیوں سے دوچار کیا اور ٹرمپ اور اس کی ٹیم کو منوایا کہ یہ ایک کانٹے دار جنگ ہے جو ویتنام، روس اور افغانستان کی جنگ کی طرح نہیں ہے، اور یہ ایک آسان جنگ نہیں ہے، اس کے اثرات بہت بھیان ہیں۔ امریکہ نے ایران کا افزودہ یورینیم چرانے کی کوشش کی اور جنوبی اصفہان میں کئی طیارے اور ہیلی کاپٹر کھونے کے بعد پسپا ہؤا، المختصر یہ جنگ مجموعی طور پر بہت مہنگی ہے۔ ایران نے امریکہ کو جنگ بندی کی بھیک مانگنے پر مجبور کیا اور پھر اس میں یکطرفہ طور پر توسیع کر دی؛ پھر کئی مرتبہ اپنی قسمت آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے آزمائی اور ناکام ہؤا۔ ایرانی افواج نے اعلان کیا کہ اگر پوری دنیا کی افواج اکٹھی ہوکر بھی حملہ کریں تو آبنائے ہرمز کھولنا ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ اب مسگریو کی طرح کئی تجزیہ کاروں اور سیاسیات و معاشیات کے اساتذہ کو امریکہ کی اس تاریخی شکست اور اسلامی جمہوریہ ایران پر تبصرے کرنا پڑ رہے ہیں اور ان سب کے تجزیوں کا عنوان ہے: امریکہ کا "حماسی طیش Epic Fury" حماسی فضیحت "Epic discredit" اور اسرائیل کا "گرجتا ہوا شیر" آپریشن "میاؤں میاؤں کرنے والی بلی" کی التجاؤں میں بدل گیا، کیوں اور کیسے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ