اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی تجزیہ کاروں اور حکومتی ذرائع نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کو اسرائیل کے لیے ایک بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو عوام کے سامنے آکر اپنی شکست کا اعتراف کرنا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں اسرائیل شامل نہیں تھا، جبکہ معاہدے کی بعض شقیں لبنان اور ایران کے حوالے سے اسرائیل کے آئندہ اقدامات پر بھی اثر انداز ہوں گی۔
اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایران نے بغیر کسی وجہ کے اس مفاہمتی یادداشت کو قبول نہیں کیا، بلکہ امریکہ نے ایران کی کئی بنیادی شرائط مان لی ہیں۔ ان کے مطابق اس معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے گی اور ایران کا نظام مزید مضبوط ہوگا۔
صہیونی حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے اہم معاملات ابھی حل نہیں ہوئے اور انہیں بعد کے مراحل پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اور میزائل پروگرام کے بارے میں معاہدے میں واضح شرائط شامل نہیں کی گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے کسی بھی بنیادی ہدف کو اس معاہدے میں شامل نہیں کیا گیا۔ معاہدہ ایران کو خطے میں اپنے اتحادیوں کی حمایت روکنے کا پابند نہیں بناتا اور نہ ہی حزب اللہ کے ساتھ اس کے تعلقات محدود کرتا ہے۔
دوسری جانب صہیونی مشرقِ وسطیٰ کے ماہر مائیکل میلشتائن نے کہا کہ حالیہ پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ صرف طاقت کے استعمال پر مبنی اسرائیلی حکمتِ عملی ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل عسکری اور سیاسی طور پر امریکہ پر انحصار کرتا ہے اور واشنگٹن کی حمایت کے بغیر اس کے لیے خطے میں وسیع کارروائیاں ممکن نہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے امریکی اشاروں کو نظر انداز کیا تو مستقبل قریب میں نیتن یاہو حکومت اور امریکی صدر کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ