بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی؛ امریکی سی آئی اے کے سابق افسر اور سیاسی و عسکری امور کے تجزیہ کار لیری جانسن نے کہا:
حصۂ سوئم:
• اسی وجہ سے، حملوں میں تاخیر، سفارتی رابطوں میں اضافہ اور ٹرمپ کے لہجے میں نرمی کے کچھ حالیہ اشارے، ان بھاری اخراجات سے بچنے کی امریکی کوشش کو عیاں کرتے ہیں جو ایران کے ساتھ جاری تنازع، امریکی حکومت اور بالآخر امریکی عوام کے کندھوں پر ڈال دے گا۔
خلاصہ:
* امریکہ کو دنیا میں قوتوں کا نیا توازن تسلیم کرنا چاہئے
• دنیا "طاقت کی ازسر نو ترتیب" (Realignment of global power) کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
• نئی ترتیب میں سرد جنگ کے بعد کے دور کے بہت سے مفروضے اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔
• ایران کے معاملے میں بھی اور یوکرین کی جنگ کے سلسلے میں بھی ایسے اشارے نظر آ رہے ہیں جو فوجی اور معاشی دباؤ کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنے کی امریکی صلاحیت کے کمزور پڑنے کی نشاندہی کرتے ہیں؛ جبکہ
• ایران، روس اور کسی حد تک چین جیسے حریف اداکار واشنگٹن کے لئے اس پالیسی کے اخراجات بڑھانے میں کامیاب رہے ہیں۔
• موجودہ بحران محض علاقائی تنازعات نہیں ہیں، بلکہ یک قطبی نظام سے کثیر قطبی نظام کی طرف منتقلی کے عمل کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
- آمریکا ناچار است بیش از گذشته به مذاکره، مصالحه و پذیرش واقعیتهای جدید توازن قوا تن دهد. از این منظر،
- آمریکا پس از این باید به این پرسش پاسخ دهد که چگونه میتواند خود را با جهانی سازگار کند که در آن دیگر تنها بازیگر تعیینکننده معادلات بینالمللی نیست.
• نئی عالمی ترتیب (New World Order) وہ ترتیب (یا نظام) ہے جس میں علاقائی طاقتوں کو عمل کی زیادہ آزادی حاصل ہو گئی ہے (اور ان کے ہاتھ کھل گئے ہیں)؛ اور
• امریکہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ مذاکرات، سمجھوتے اور طاقت کے توازن کی نئی حقیقتیں قبول کرنے پر مجبور ہے۔ اس تناظر میں،
• امریکہ کو اب اس سوال کا جواب دینا ہو گا کہ وہ اپنے آپ کو ایسی دنیا کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کر سکتا ہے جس میں وہ بین الاقوامی قواعد کے فیصلے کرنے والا واحد اداکار نہیں رہا۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: رضا حسینی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ