2 جون 2026 - 14:27
مآخذ: ابنا
جنوبی لبنان میں صہیونی فوج کے لئے سارے راستے بند، 2000 کی پسپائی دہرایی جا رہی ہے

صہیونی میڈیا اور فوجی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں موجودہ صورتحال اسرائیل کے لیے ایک پیچیدہ تعطل (اسٹریٹجک بحران) کی شکل اختیار کر چکی ہے اور 2000 میں لبنان سے انخلاء جیسی صورتحال دوبارہ پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی میڈیا اور فوجی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں موجودہ صورتحال اسرائیل کے لیے ایک پیچیدہ تعطل (اسٹریٹجک بحران) کی شکل اختیار کر چکی ہے اور 2000 میں لبنان سے انخلاء جیسی صورتحال دوبارہ پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوجی و سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان میں موجود رہتا ہے تو وہاں ایک نئی طویل جنگِ فرسودگی شروع ہو سکتی ہے، جبکہ انخلا کی صورت میں حزب اللہ مزید مضبوط ہو کر شمالی اسرائیل کے خلاف کارروائیاں تیز کر سکتی ہے۔

اسرائیلی دفاعی تجزیہ کار ران بن یشائی کے مطابق موجودہ صورتحال میں اسرائیل کے پاس کوئی واضح اسٹریٹجک حل موجود نہیں، کیونکہ حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں زیرِ زمین فوجی ڈھانچے قائم کر رکھے ہیں جو راکٹوں، ڈرونز اور مارٹر حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور فضائی حملوں سے محفوظ ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے لیے جنوبی لبنان میں طویل قیام بھی مشکل ہے، جبکہ ماضی کی طرح فوری اور مکمل فوجی پیش قدمی کا آپشن بھی محدود ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے اسرائیل کو ایک ایسے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے جہاں نہ آگے بڑھنا آسان ہے اور نہ پیچھے ہٹنا۔

تجزیہ کاروں نے یہ بھی کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں محدود عسکری کامیابیوں کی تشہیر زمینی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی، جبکہ اصل مسئلہ حزب اللہ کی ڈرون اور زیرِ زمین جنگی صلاحیتوں کا مقابلہ کرنا ہے، جس کا ابھی تک کوئی مؤثر حل اسرائیل کے پاس موجود نہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha